بلوچستان: مسیحی رکن اسمبلی ہینڈری محافظ کے ہاتھوں قتل
قتل کا سبب فوری اشتعال بنا، صدر اور وزیر اعظم کا اظہار افسوس
پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے حکمران اتحاد میں شامل ایک مسیحی رکن صوبائی اسمبلی کو اس کے سرکاری محافظ نے مبینہ طور پر تلخ کلامی کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق فوری طور پر سامنے آنے والے حقائق اس واقعے کا سبب وقتی اشتعال بنا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سرکاری محافظ غلام محی الدین معمول کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی ہینڈری مسیح کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کرنے کیلیے ہی پہنچا تو اس کے اور ایم پی اے کے بھتیجے کے درمیان تلخی ہو گئی، جس سے بات بڑھتے ہوئے ایم پی اے کے قتل تک پہنچ گئی۔
کوئٹہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایم پی اے ہینڈری مسیح مستونگ کے رہائشی تھے، ان کے مبینہ قاتل محافظ کے بارے میں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی مستونگ سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ تاہم یہ واقعہ کوئٹہ کے علاقے یوحنا آباد میں پیش آیا ہے، جہاں ہینڈری مسیح بجٹ سیشن کے لیے موجود تھے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہینڈری مسیح کا کسی قتل کسی مذہبی اختلاف کا نتیجہ نہیں ہے۔ ہینڈری مسیح حکمران اتحاد کا حصہ نیشنل پارٹی سے تعلق تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ ہینڈری کے علاوہ ان کا ایک عزیز بھی اس واقعہ میں زخمی ہو گیا ہے جبکہ مبینہ حملہ آور فرار ہو گیا ہے۔ اس افسوس ناک واقعے پر صدر ممنون حسین ، وزیر اعظم میاں نواز شریف اور صوبائی وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک نے سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نیز ایف سی حکام کو ملزم کی فوری طور پر گرفتار کرنے کے لیے کہا ہے۔