شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے آپریشن میں مزید 25 جنگجو ہلاک
حامد کرزئی سے پاک افغان سرحد سیل کرنے کا مطالبہ
پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے افغان صدر حامد کرزئی پر زوردیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں آرمی کے جاری آپریشن سے بچ کر فرار ہونے والے جنگجوؤں کو پکڑنے میں مدد دیں۔
انھوں نے صدرکرزئی سے ایک مرتبہ پھر شمالی وزیرستان کے ساتھ افغان سرحد کو سیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پاک آرمی نے اتوار کو اس شمال مغربی قبائلی پہاڑی علاقے میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی تھی اور اس نے منگل کو مسلسل تیسرے روز جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں مزید پچیس جنگجو مارے گئے ہیں اور ان کے چھے ٹھکانے تباہ کردیے گئے ہیں۔
پاکستان آرمی کے ہزاروں جوان ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ''ضرب عضب'' کے نام سے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔گذشتہ تین روز کی کارروائی کے دوران پاک آرمی کو جنگجوؤں کی جانب سے کوئی زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔
مقامی لوگوں اور پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی بڑی تعداد سرحدعبور کرکے شمالی افغانستان کی جانب چلی گئی ہے۔واضح رہے کہ پاک آرمی کے آپریشن سے قبل بھی اس خدشے کا اظہار کیا جارہا تھا کہ طالبان جنگجو جانیں بچانے کے لیے افغانستان کا رُخ کرسکتے ہیں اس لیے ان کا مکمل استیصال ممکن نہیں ہوگا۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''وزیر اعظم میاں نواز شریف نے رات افغان صدر حامد کرزئی سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور ان سے افغان سرحد بند کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ پاکستانی علاقے سے افغانستان کی جانب جنگجوؤں کے فرار کو روکا جا سکے''۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے عسکری ذرائع سے بھی یہ پیغام پہنچایا گیا تھا اور افغان حکام سے کہا گیا تھا کہ وہ افغانستان میں جنگجوؤں کی ان پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کریں جو پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر کرزئی نے ان درخواستوں کا کیا جواب دیا ہے،وہ اس سے آگاہ نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ شمالی وزیرستان سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہلے ہی اپنا گھربار چھوڑ کر افغانستان کے مشرقی صوبہ خوست میں پناہ گزین ہوچکے ہیں۔اس صوبے کی حکومت کے ترجمان مبریز محمد زدران کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے سے آنے والے زیادہ تر پاکستانیوں کو ضلع گورباز میں رکھا جا رہا ہے اور انھیں خوراک اور امداد مہیا کی جا رہی ہے۔
درایں اثناء وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے آپریشن اور اس کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے پچاس کروڑ روپے کی رقم کی منظوری دے دی گئی ہے۔انھوں نے قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کے قومی بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ بے گھر ہونے والے افراد کی ان کے گھروں کو واپسی تک تمام ضروریات پوری کی جائیں گی اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے گا۔
-
پاک آرمی کا شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف بڑا آپریشن
پاکستان کی مسلح افواج نے حکومت کی ہدایت پر وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی ...
پاكستان -
شمالی وزیرستان: امریکی ڈرون حملوں میں 16 ہلاکتیں
ایک گاڑی اور مکان پر حملے میں چار ازبک اور دو پنجابی طالبان کے مرنے کی اطلاع
پاكستان -
حافظ گل بہادر دھڑے کا حکومت سے امن معاہدہ منسوخ
شمالی وزیرستان کی مقامی آبادی کو 10 جون تک افغان سرحد کی جانب چلے جانے کی ہدایت
پاكستان -
شمالی وزیرستان: بم دھماکے میں تین فوجی شہید
پاک آرمی نے پٹرولنگ ٹیم پر بم حملے کی تصدیق کردی، دو فوجی زخمی
پاكستان -
طالبان کمانڈر عصمت اللہ شاہین تین ساتھیوں سمیت ہلاک
واقعہ شمالی وزیرستان میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں پیش آیا
پاكستان -
شمالی وزیرستان میں جھڑپیں اور بمباری، ہلاکتوں کی تعداد40 ہو گئی
سکیورٹی فورسز کی میرعلی میں خودکش بم دھماکے کے بعد جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی
پاكستان