تیل کی ترسیل میں کمی اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے فضائی کمپنیوں کو غیر معمولی دھچکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے پھیلنے والی کشیدگی کے دوران پیر کے روز ایئر لائن سٹاک کو غیر معمولی نقصان کا سامنا رہا ہے۔

اس نقصان کی فوری وجہ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافوں کے باعث فضائی کمپنیوں کے کرایوں میں اضافہ بنا ہے۔

ان کرایوں کی فوری وجہ بھی مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ہے۔ جس کے حوالے سے امریکی حکام لمبے عرصے کے لیے جنگ لڑنے کی اپنی اہلیت کا اظہار کر رہے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی لہر کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی بدترین لہر کی وجہ سے ایئرلائنز کی خدمات عملاً رکی ہوئی ہیں۔ جس کے نتیجے میں فضائی کمپنیاں دوہرے نقصان میں ہے۔

2022 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تیل کی قمیتوں میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے کئی ملکوں نے پیداوار میں کمی کر دی ہے۔ اس کی وجہ شپنگ کمپنیوں کی آبنائے ہرمز سے سرگرمیوں کا محدود تر ہوجانا ہے۔

اسی کشیدہ صورتحال نے مشرق وسطیٰ کی طرف سفر کو ہر طور سے روک رکھا ہے جبکہ وہاں پھنسے ہوئے یورپی ملکوں کے شہری اور دیگر ایشیائی ملکوں کے کارکنوں کو نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے پورے ایشیا میں سرمایہ کار خوف کا شکار ہیں۔ ان ایئرلائنز میں کورین ایئرلائن بھی شامل ہے جو 8.6 فیصد تک اپنی پہلے سے تجارت سے نیچے چلی گئی ہے۔ ایئر نیوزی لینڈ کی سطح 7.8 فیصد نیچے گئے ہیں۔ ہانک کانگ کی کیتھے پیسفک ایئرلائن کو اس دوران 5 فیصد تک کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

سیاحت و تفریح سے متعلق مسافروں میں کمی

مشرق وسطیٰ اور اس سے جڑے ملکوں میں کشیدہ صورتحال اور توانائی کے بحران جیسی صورتحال کی وجہ سے ایئرلائنز کی ٹکٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

گوگل فلائٹس کے مطابق ایئرلائنز کے لیے اب مسئلہ یہ ہے کہ ان کے سفر کرنے والوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے کیونکہ اس جنگی کشیدگی جیسے ماحول میں کوئی بھی سیاحت و تفریح کے لیے اپنے گھر سے نکلنے کو تیار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں