شمالی وزیرستان: امریکی ڈرون حملہ ،6 افراد ہلاک

پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی ڈرون حملے کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام مغربی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں مشتبہ جنگجوؤں کے ایک ٹھکانے پر میزائل حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے بدھ کے روز تحصیل شوال کے علاقے کنڈسر میں ایک مکان پر دو میزائل داغے ہیں۔اس حملے کے بعد بھی ڈرونز نے علاقے پر پروازیں جاری رکھی تھیں۔فوری طور پر حملے میں مرنے والے جنگجوؤں کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

اس میزائل حملے سے صرف دوروز قبل امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں مقیم کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ ملا فضل اللہ کے ایک مبینہ ٹھکانے پر میزائل حملہ کیا تھا لیکن وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔

درایں اثناء پاکستان کے دفتر خارجہ نے شمالی وزیرستان میں امریکا کے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اس کو ملکی سالمیت اور علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ ڈرون پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے جارہے ہیں،اس لیے انھیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ ان حملوں کے حکومت کی جانب سے پاکستان اور خطے میں امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج نے مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی بھی شروع کررکھی ہے،اس لیے اس صورت حال میں ان ڈرون حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج شمالی وزیرستان سے طالبان جنگجوؤں کے قلع قمع کے لیے جون سے آپریشن ضرب عضب کررہی ہے اور خیبر ایجنسی میں بھی مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائی کررہی ہے۔ان دونوں قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی کارروائیوں میں قریباً ڈیڑھ ہزار جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں