فیصل آباد:دو دہشت گردوں کو پھانسی چڑھا دیا گیا
دہشت گردوں کے ٹرائل کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا اعلان
پاکستان کے بڑے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں دو دہشت گردوں کو جمعہ کی رات تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔
ان میں ایک مجرم عقیل عرف ڈاکٹر عثمان راول پنڈی میں واقع پاکستان آرمی کے جنرل ہیڈ کوارٹرز(جی ایچ کیو) پر10 اکتوبر 2009ء کو حملے میں ملوث تھا۔اس کے ساتھ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف پر 25 دسمبر 2003ء کو خودکش قاتلانہ حملے میں ملوث ارشد محمود کو فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں پھانسی دی گئی ہے۔
اس موقع پر شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور رینجرز کو تعینات کیا گیا تھا۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جمعرات کی رات ڈاکٹر عثمان سمیت پھانسی کے منتظر چھے مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کیے تھے۔
یادرہے کہ جی ایچ کیو پر دس مسلح دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور اس میں ایک اعلیٰ افسر سمیت بارہ فوجی شہید ہوگئے تھے۔پاک فوج کے کمانڈوز نے کئی گھنٹے کی کارروائی کے بعد حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا اور ان میں سے سابق فوجی ڈاکٹر عثمان کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کر لیا تھا۔اس کو ایک بریگیڈئیر کی سربراہی میں قائم فوجی عدالت نے2011ء میں سزائے موت سنائی تھی۔
اس حملے میں ملوث ایک اور سابق فوجی عمران صادق اور تین افراد خلیق الرحمان ،محمد عثمان اور واجد محمود کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔حملہ آوروں کے دو ساتھیوں محمد عدنان اور طاہر شفیق کو بالترتیب آٹھ اور سات سال قید کی سزا کا حکم دیا گیا تھا۔
سُولی پر لٹکنے والے مذکورہ دو مجرموں کے علاوہ سزائے موت پانے والے پندرہ دوسرے دہشت گرد قیدیوں کو بھی ملک کی مختلف جیلوں میں تختہ دار پر لٹکانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ان میں سے سات کو صوبہ خیبر پختونخوا کی جیلوں میں پھانسی دی جائے گی۔
صدر ممنون حسین نے دوروز پہلے ماضی میں سزائے موت پانے والے ان دہشت گردوں کی رحم کی اپیلوں کو مسترد کردیا تھا۔ایوان صدر میں ان دہشت گردوں کی سنہ 2012ء سے رحم کی اپیلیں زیر التوا پڑی تھیں اور بدھ کو صدر ممنون حسین نے اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ان کو مسترد کردیا تھا اور اس کے بعد ان مجرموں کو پھانسی دینے کے لیے متعلقہ جیلوں کو احکامات جاری کردیے گئے تھے۔
درایں اثناء حکومت نے ملک میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس نے یہ اقدام شمال مغربی شہر پشاور میں منگل کے روز آرمی پبلک اسکول پر طالبان دہشت گردوں کے سفاکانہ حملے کے تناظر میں کیا ہے۔دہشت گردی کےاس واقعے کے ایک روز بعد وزیراعظم میاں نوازشریف نے پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد بحال کردیا تھا۔
قبل ازیں پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے مقامی ٹیلی ویژن چینل ڈان نیوز سے جمعہ کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو سنائی گئی پھانسی کی سزاؤں پر بہت جلد عمل درآمد کا آغاز کردیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے پہلے ہی فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے کام جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پھانسی کی سزا پانے والے دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے میں کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔
آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی اور اچھے اور بُرے طالبان میں بھی کوئی تمیز نہیں کی جائے گی بلکہ انھیں ایک ہی جیسا دہشت گرد سمجھا جائے گا۔
پاک فوج کے زیراہتمام اسکول پر حملے میں ایک سو بتیس بچوں سمیت ایک سو چالیس سے زیادہ افراد شہید ہوگئے تھے۔اس اندوہناک واقعے پر پوری پاکستانی قوم غم واندوہ کی کیفیت میں ہے اور اس پر تین روزہ قومی سوگ منایا گیا ہے۔
-
پشاور: آرمی اسکول پر دہشت گرد حملہ ، 141 شہید
ملک میں تین دن کے سوگ کا اعلان، قومی پرچم سرنگوں رہے گا
پاكستان -
پشاور میں بم دھماکا،سات افراد جاں بحق
نامعلوم شخص مسافر کوچ میں بم رکھ کر اسٹاپ پر اُتر گیا
پاكستان -
پشاور: بریگیڈئیر پر کار بم حملہ، 4 جاں بحق
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے حملے کی ذمے داری قبول کر لی
پاكستان -
کوئٹہ اور پشاور میں دھماکے، 18 جاں بحق متعدد زخمی
دونوں مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا
پاكستان -
پشاور کے قصہ خوانی بازار میں بم دھماکا، 42 افراد جاں بحق، 107 زخمی
ایک ہفتے کے اندر اندر پشاور میں ہونے والا یہ تیسرا دھماکا ہے
پاكستان -
پشاور: عیسائی گرجا گھر میں خودکش بم دھماکے، 78افراد ہلاک
دہشت گردی کے الم ناک واقعہ پر خیبر پختونخوا حکومت کا تین روزہ سوگ کا اعلان
پاكستان