شکار پور:امام بارگاہ میں بم دھماکا،55 افراد ہلاک
داعش سے وابستہ جنداللہ نے حملے کی ذمے داری قبول کر لی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع شکار پور میں اہلِ تشیع کی ایک امام بارگاہ میں تباہ کن بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد پچپن ہوگئی ہے اور ساٹھ سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ داعش سے وابستہ جنگجو گروپ جنداللہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بم دھماکا شکارپور کے علاقے لکھی در میں جمعہ کی نماز کے فوری بعد ہوا ہے۔دھماکا اتنا زوردار تھا کہ اس کے نتیجے میں امام بارگاہ کی عمارت کی چھت زمین بوس ہوگئی جس سے بہت سے افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت مسجد اور امام بارگاہ میں قریباً چار سو افراد موجود تھے۔
سول اسپتال شکارپور کے میڈیکل سپرنٹنڈینٹ شوکت میمن نے بم دھماکے میں انچاس افراد کی ہلاکت اور پچپن کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔مہلوکین اور زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔اسپتال ایک فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق چھیالیس مہلوکین کی شناخت ہوگئی ہے اور باقی لاشوں کی شناخت کی جارہی ہے۔متعدد زخمیوں کو سکھر اور لاڑکانہ کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے گذشتہ سال الگ ہونے والے گروپ جنداللہ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ جنداللہ کے ترجمان فہد مروت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمارا ہدف اہلِ تشیع کی مسجد تھی کیونکہ یہ لوگ ہمارے دشمن ہیں''۔اس گروپ نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ساتھ خود کو وابستہ کررکھا ہے۔
صوبہ سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکارپور اور اس کے نواحی قصبوں اور شہروں کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے شکارپور میں دہشت گردی کے اس واقعے میں شہریوں کی ہلاکتوں پر ہفتے کے روز ایک دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔
اہل تشیع کی جماعت مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ امین شہیدی نے اس بم دھماکے میں ہلاکتوں پر تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے اوراس واقعے کو حکومت کی ناکامی قراردیا ہے۔ اس جماعت نے صوبہ سندھ میں دہشت گردی کے اس حملے کے خلاف ایک دن کی پُرامن ہڑتال کی اپیل کی ہے۔متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف ،صدر مملکت ممنون حسین ،تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے شکار پور میں بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور اس میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
شکارپور میں یہ تباہ کن بم دھماکا ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کی مرکزی حکومت ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل پیرا ہے۔ملک کی سول اور فوجی قیادت نے شمال مغربی شہر پشاور میں 16 دسمبر کو طالبان جنگجوؤں کے آرمی پبلک اسکول پر سفاکانہ حملے کے بعد یہ ایکشن پلان ترتیب دیا تھا۔
پاکستان کی مسلح افواج شمال مغربی علاقے شمالی وزیرستان طالبان دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لیے گذشتہ سال جون سے آپریشن ضرب عضب کررہی ہیں اور ملک کے دوسرے شہروں اور علاقوں میں بھی انتہا پسند دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں لیکن اس کے باوجود وہ عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر وقفے وقفے سے حملے کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔البتہ اب مجموعی طور پر دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
-
کراچی اہل تشیع کی مجلس کے نزدیک بم دھماکا، 2 افراد جاں بحق، 23 زخمی
شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
پاكستان -
کراچی اور راول پنڈی میں محرم جلوسوں پر بم حملے، 14 افراد مارے گئے
کوئٹہ میں فوجی گاڑی بم دھماکے میں تباہ، 5 جاں بحق
پاكستان -
پشاور میں بم دھماکا،سات افراد جاں بحق
نامعلوم شخص مسافر کوچ میں بم رکھ کر اسٹاپ پر اُتر گیا
پاكستان -
پشاور کے قصہ خوانی بازار میں بم دھماکا، 42 افراد جاں بحق، 107 زخمی
ایک ہفتے کے اندر اندر پشاور میں ہونے والا یہ تیسرا دھماکا ہے
پاكستان -
پشاور میں اے این پی کے انتخابی جلسے میں بم دھماکا، 16 افراد جاں بحق
سردار ثناء اللہ زہری کے قافلے پر بم حملہ،بیٹے ،بھائی ،بھتیجے سمیت 4 جاں بحق
پاكستان -
پاکستان میں آیندہ چند ہفتوں میں 500 پھانسیاں
پشاور واقعے کے بعد دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کا عمل تیز
پاكستان