.

کوئٹہ میں آرمی کے ٹرک پر بم حملہ ، 15 افراد جاں بحق ، 32 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پشین اسٹاپ پر ہفتے کی رات پاکستان آرمی کے ایک ٹرک میں بم دھماکے کے نتیجے میں پندرہ افراد جاں بحق اور بتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ بم دھماکے میں جاں بحق افراد میں مسلح افواج کے اہلکار اور عام شہری شامل ہیں۔ جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے اور کوئٹہ شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق بم دھماکے میں آٹھ سکیورٹی اہلکار شہید اور دس زخمی ہوئے ہیں۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ بم حملے میں فوج کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا اور دھماکے کے لیے آتش گیر مواد استعمال کیا گیا ہے جس سے نزدیک واقع گاڑیوں کو بھی آگ لگ گئی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ میں فوج کے ٹرک پر بم حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اس کی یوم آزادی کی تقریبات کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کے کسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمارے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’’یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ واقعہ سکیورٹی میں کسی سقم کا نتیجہ ہے۔دہشت گرد یہ نہیں چاہتے کہ لوگ یوم آزادی کی خوشیاں بھرپور طریقے سے منائیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم زخمیوں کو تمام ممکنہ سہولتیں مہیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور تمام ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔واضح رہے کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دوسرے شہروں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار دہشت گردوں کے حملوں کا خاص ہدف ہیں اور دہشت گرد ان پرآئے دن بم حملے کرتے رہتے ہیں۔جون میں کوئٹہ کے گلستان روڈ پر ایک خودکش بم دھماکے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت چودہ افراد جاں بحق اور انیس زخمی ہوگئے تھے۔