بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ، 4 شہری شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارتی فوج نے جعمہ کو علی الصباح سیالکوٹ میں ورکنگ بانڈری پر محنت کش کے گھر پر مارٹر گولہ داغا جس کے نتیجے خاتون سمیت تین بچے شہید اور10 زخمی ہو گئے۔ پنجاب رینجرز کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی آئی ایس پی) کے مطابق سیالکوٹ میں ورکنگ بانڈری پر بھارتی فوج کی جانب سے چاروہ، چپراڑ اور ہرپال سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی۔ بھارتی فوج کی جانب سے داغا گیا مارٹر گولہ موضع کھنور میں محنت کش کے مکان پر گرا، جس کے نتیجے میں خاتون سمیت تین بچے شہید جبکہ محنت کش نور اور دیگر افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتا ل منتقل کردیا گیا۔ شہادت پانے والوں میں شمع، مسکان اور علی حمزہ شامل ہیں، جن کی عمریں آٹھ سے پندرہ سال کے درمیان ہیں۔

بھارتی اشتعال انگیزی کے باعث متعدد مویشی بھی مارے گئے ہیں۔ بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال بھارتی فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں ورکنگ بانڈری سے متصل دیہات کے رہائشیوں کو سحری اور نماز فجر کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پنجاب رینجرز کی جانب سے بھارتی جارحیت کیخلاف منہ توڑ جوابی کارروائی کی گئی جس میں بھارتی چیک پوسٹوں میں آگ لگ گئی۔ بھارتی فوجی شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔

دفترخارجہ نے بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ پر بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرکے واقعہ پر احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق قائم مقام سیکریٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ سے شدید احتجاج کیا اور احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ احتجاجی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ چپڑار، ہرپال، پکھلیاں اور شکر گڑھ سیکڑ میں بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ بھارتی افواج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

مراسلے مزید کہا گیا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لہذا بھارت سیز فائر معاہدے کا احترام کرے۔ احتجاجی مراسلے میں بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں