دنیا کے مختلف ملکوں نے عمران خان کی گرفتاری پر کیا ردعمل دیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد امریکااور برطانیہ کے اعلیٰ سفارت کاروں نے پاکستان میں 'قانون کی حکمرانی' کی پاسداری پر زور دیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے منگل کوواشنگٹن میں اپنے برطانوی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’’ہم صرف اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جو کچھ بھی ہو،وہ قانون کی حکمرانی اور آئین کے مطابق ہو‘‘۔

وزیرخارجہ جیمزکلیورلی نے بلینکن کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’برطانیہ کے دولت مشترکہ کے رکن پاکستان کے ساتھ دیرینہ اور قریبی تعلقات استوار ہیں۔ہم اس ملک میں پرامن جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم قانون کی حکمرانی کی پاسداری دیکھناچاہتے ہیں‘‘۔

دونوں وزراء نے عمران خان کی گرفتاری پرمزید تبصرہ کرنے سے انکارکردیا اورجیمزکلیورلی نے کہا کہ انھیں صورت حال کے بارے میں مکمل طور پربریف نہیں کیا گیا تھا۔

عمران خان کو منگل کو اسلام آباد میں عدالت میں پیشی کے موقع پرگرفتار کیا گیا ہے۔ان کے خلاف بدعنوانیوں کےالزامات سمیت متعدد مقدمات قائم کیے گئے ہیں اورانھیں قومی احتساب بیور(نیب) کے وارنٹ پرحراست میں لیا گیا تھا۔انھیں گذشتہ سال اپریل میں دنیا کے پانچویں سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے سویلین وزیراعظم کے عہدے سے عدم اعتماد کے ذریعے ہٹادیا گیا تھا۔

عمران خان کے حامیوں نے ان کی گرفتاری پرملک گیراحتجاج شروع کردیا ہے اور انھوں نے راول پنڈی میں پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)، لاہور میں کورکمانڈرکی اقامت گاہ ، فوجی دفاتر اور پشاور میں بھی فوجی تنصیبات پرحملے کیے ہیں، وہاں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی ہے اورکورکمانڈرلاہور کی اقامت گاہ سے عام استعمال کی اشیاء اور پالتو پرندے بھی اٹھا کرلے گئے ہیں لیکن حیرت انگیز طورپرسکیورٹی فورسز نے ان کی کوئی مزاحمت نہیں کی ہے اور انھیں آزادانہ کھل کھیلنے کا موقع دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین جین پیئر نے معمول کی بریفنگ میں پاکستان کی صورت حال کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا: "جیسا کہ ہم پہلے بھی کَہ چکے ہیں کہ امریکا کا کسی ایک سیاسی امیدواریا جماعت کے بارے میں کوئی مؤقف نہیں ہے۔"

تاہم دوسری جانب امریکا کے کہنہ مشق سابق سفارت کار، افغان نژادزلمے خلیل زاد نے عمران خان کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے سلسلہ وارٹویٹس میں اس پیش رفت کوافسوس ناک قراردیتے ہوئے کہا کہ اس کے دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔وہ ماضی میں بھی عمران خان کے حق میں بیانات جاری کرتے رہے ہیں اور ان کے تبصروں کو امریکی اسٹیبلشمنٹ کے مؤقف کا عکاس خیال کیا جاتا ہے۔

عمران خان اور ان کے حامی ماضی میں امریکا پر پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنے کا الزام عاید کرتے رہے ہیں جبکہ واشنگٹن ان دعووں کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔ پی ٹی آئی والے میاں شہبازشریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت کو "درآمدہ" ( امپورٹڈ) گردانتے ہیں۔

بھارت کا ردعمل

بھارت میں حکومت نے عمران خان کی گرفتاری پر اب تک باضابطہ کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے بھارتی وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں اس تازہ پیش رفت کے بعد سرحد پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، "دفاعی فورسز پاکستان میں تازہ پیش رفت کے مدنظر صورت حال پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔"

اے این آئی کے مطابق بھارت کو تشویش ہے کہ پاکستانی فوج بھارتی فورسز پر الزام تراشی کرکے ایل او سی پر ایک نیا محاذ کھولنے کی کوشش کرسکتی ہے تاکہ داخلی شورش سے پاکستانیوں کی توجہ ہٹائی جا سکے۔

عمران خان کی گرفتاری کی خبر بھارتی میڈیا پر چھائی رہی۔ تقریباً تمام اخبارات اور نیوز ویب سائٹس نے ان کی گرفتاری کو نمایاں جگہ دی۔ ٹی وی چینلوں پر بھی یہ خبر اب بھی چل رہی ہے۔

یو این اور ای یو کا ردعمل

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ عالمی ادارے کو پاکستان کی صورت حال پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی سیاسی شخصیات کے ساتھ بہتر سلوک اور قانون کے مطابق عمل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ پاکستان کی صورت حال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا، ''مشکل اور تناو کے ماحول میں تحمل کی ضرورت ہے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے راستے کا تعین پاکستانی عوام ہی کرسکتے ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کے حامیوں اور امن و امان نافذ کرنے والے اہل کاروں کے درمیان جھڑپوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ان کا کوئی بھی ردعمل قانونی، ضرورت کے تحت اور عدم امتیاز کے اصولوں کے مطابق ہو۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان کو آج بدھ کے روز احتساب عدالت میں پیش کیا رہا ہے۔

قومی احتساب بیورو(نیب) کا اصرار ہے کہ سابق وزیراعظم کی گرفتاری نیب کی جانب سے انکوائری اور تفتیش کے قانونی تقاضے پورا کرنے کے بعد کی گئی ہے اور نیب عمران خان کو کم از کم چار سے پانچ روز تک اپنی حراست میں رکھنے کی کوشش کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں