جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے جمعے کو اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ڈی چوک ضرور جائیں گے، ابھی پلان بی پر عمل کر رہے ہیں۔
’’میں نے اسلام آباد آنے کا کہا تھا اور وہ ہم آ گئے ہیں، اس تحریک میں ہم نے پر امن رہنا ہے۔ ابھی ہم نے پلان بی کے پہلے حصے پر عمل کیا ہے۔‘ انہوں نے کہا ’دھرنا ختم نہیں ہوگا بلکہ ابھی تو آغاز ہے۔ فارم 47 کی پیداوار حکومت نے آج فسطائیت کی انتہا کی ہے۔‘
اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ کے بعد ایکسپریس وے پر حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک عظیم مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں اور وہ عظیم مقصد یہ ہے کہ ظلم کا یہ نظام 77سال سے ہم پر مسلط ہے، اس کے ہر چلانے والوں نے لوگوں پر مزید ظلم کیا ہے، بجلی کے بم پھینکتے ہیں، بجلی بنانے والے نجی کمپنیوں ’’آئی پی پیز‘‘ کو مسلط کر کے رکھا ہے اور پاکستان کے ہزاروں ارب روپے ہر سال کھا جاتے ہیں، مل کر لوٹ مار کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سب یہاں پر اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے 25 کروڑ عوان کو انصاف دلانے کے لیے آئے ہیں، حق دلانے کے لیے آئے ہیں، آپ نے دو ہی دن میں برسوں کا سیاسی سفر طے کر لیا ہے اور اب پورا پاکستان آپ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کی پیداوار ہماری حکومت نے آپ کے خوف ہمارے دفاتر پر چھاپے مارے، ہمارے کارکنوں اور رہنماں کے گھروں پر پہنچے، انہیں گرفتار کیا اور اسلام آباد میں آنے والے سینکڑوں کارکنان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، میں حکومت کو متنبہ کر رہا ہوں کہ ہم پرامن لوگ ہیں لیکن ہمارے کارکنوں کو رہا کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف تم ہم پر بجلی کے بم گراو، آئی پی پی مافیا کو ہم پر مسلط کرو اور جب ہم آواز اٹھائیں تو تم اپنی حکومتی فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہو، عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد بڑھ رہا ہے اور اب یہ سیلاب رکنے والا نہیں ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کارکنوں کو پولیس سے نہ لڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پولیس والوں سے نہیں لڑیں گے، پولیس والے تو خود اپنے افسران سے پریشان ہیں، حکومت کے محکموں سے پریشان ہیں، ہمارے دھرنے کی وجہ سے دو تین دن سے ان کی ڈیوٹیاں لگی ہوئی ہیں اس لیے آپ نے ان سے نہیں لڑنا اور میں پولیس والوں اور ان کے افسروں سے کہتا ہوں کہ آپ بھی ہمارے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں، ہم پرامن سیاسی مزاحمت پر یقین رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس تحریک میں پرامن رہنا ہے کیونکہ یہ سازش کریں گے اور امن کو خراب کر کے ایشوز سے توجہ ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمارے پلان بی کے دوسرے مرحلے کے تحت ہم مری روڈ پر پہنچ کر اپنی قوت کو مجتمع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریلیف لینے کے لیے آئے ہیں، یہ بجلی کی قیمت کم کر دیں، آئی پی پیز کو بند کرنے کا طے کر لیں، تنخواہ دار طبقے کے لیے سلیب سسٹم ختم کر دیں، پیٹرول پر لیوی ختم کر دیں، آٹا، چینی، چاول، دال اور بچوں کے دودھ پر ٹیکس ختم کر دیں تو ہم دھرنا ختم کردیں تو ہمیں دھرنا دینے کا کوئی شوق نہیں ہے، جب یہ نہیں مانیں گے، ہم بھی اپنا راستہ نہیں چھوڑیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ احتجاج ہمارا حق ہے، گرفتار کارکن رہا کیے جائیں، آئی پی پیز کو مسلط کر رکھا ہے، اربوں روپے کھائے جا رہے ہیں، دھرنے کا ابھی آغاز ہوا ہے انشا اللہ ہم یہی رہیں گے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک طرف آئی پی پیز ہم پر مسلط کرتے ہیں اوپر سے گرفتاریاں بھی کرتے ہو، یہ دھرنے کا اختتام یا ٹھہراو نہیں بلکہ ابتدا ہے، ہم مختلف جگہوں پر بیٹھیں گے، پورے پاکستان میں دھرنے دیں گے، ہمارا اگلا پڑاؤ مری روڈ ہے، اگلا لائحہ عمل وہاں بتاوں گا۔
اس سے قبل اسلام آباد جانے والے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور وفاقی دارالحکومت کو مکمل طور پر بند کیے جانے کے بعد جماعت اسلامی نے دھرنے کے حوالے سے پلان بی منظر عام پر لاتے ہوئے شہر کے تین مختلف مقامات پردھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔