'اسے کبھی سکون نہ ملا': برسوں کی تکالیف کے بعد گوانتانامو کے سابق پاکستانی قیدی کا انتقال

گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد تقریباً 370 افراد کو خطیر رقم کے عوض امریکہ کے حوالے کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

کراچی سے تعلق رکھنے والے گوانتانامو بے کے ایک سابق قیدی جنہوں نے گذشتہ سال فروری میں وطن واپسی سے قبل بغیر کسی الزام کے حراستی مرکز میں تقریباً بیس سال کی قید کاٹی، وہ جمعہ کو اپنے آبائی شہر میں انتقال کر گئے۔ ان کے بھائی اور سابق ساتھی قیدی نے ہفتے کو ان کی وفات کی تصدیق کی۔

بھائی محمد احمد غلام ربانی نے طویل علالت کے دوران ناکافی طبی نگہداشت کو عبدالرحیم غلام ربانی کی موت کی وجہ قرار دیا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان منتقلی کے بعد بھی اس سے ان کی تکلیف میں اضافہ ہوا۔

ایک عالمی قانونی کارروائی غیر منافع بخش تنظیم Reprieve کے مطابق دونوں بھائیوں نے 10 ستمبر 2002 کو کراچی میں گرفتاری کے بعد 2004 میں گوانتانامو بے منتقل ہونے سے پہلے سی آئی اے کی حراست میں 545 دن تک اذیتیں برداشت کیں۔

گوانتانامو کے سابق قیدی کے بھائی نے کہا، "ہم نے گوانتانامو میں بیس سے زیادہ سال ایک ساتھ گذارے۔ جمعہ کو صبح دو بجے وہ میرے بازوؤں میں چل بسا۔"

کیوبا میں قائم گوانتانامو بے ایک امریکی فوجی حراستی مرکز ہے جو 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد "دہشت گردی کے خلاف جنگ" میں مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کے لیے قائم کیا گیا۔ یہ بغیر کسی مقدمے کے قیدیوں کو رکھنے کے لیے بدنام ہوا اور اس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔

زیرِ حراست افراد کے مناسب قانونی کارروائی کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں نے اس ادارے پر تنقید کی اور تفتیش کی انتہائی تکلیف دہ طریقے اختیار کرنے کے الزامات لگائے جن میں سر پر پانی گرانے کا طریقہ اور طویل تنہائی شامل ہیں۔

ربانی نے یاد کیا کہ دونوں بھائیوں کو جب معلوم ہوا کہ انہیں پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا تو تھوڑی دیر کے لیے اطمینان کا سانس ملا۔ انہیں یقین ہو گیا کہ ان کی آزمائش ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا، "لیکن ہماری تکلیف جاری رہی۔ 19 ماہ کے دوران ہمارے پاس بدستور شناختی کارڈ موجود نہیں ہیں۔ میرا بھائی ایک طویل عرصے سے بیمار تھا لیکن ہم شناخت کے بغیر مناسب طبی نگہداشت حاصل نہیں کر سکتے تھے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بھائی 20 سے زیادہ مرتبہ "شدید بیمار" ہوا۔ اس کی وجہ گوانتانامو بے میں ان کی آمد پر لگائے گئے انجیکشن اور ان پر ہونے والے وسیع مظالم تھے۔

ربانی نے کہا، "ان پر اتنا تشدد ہوا کہ ان کا ہاتھ اور ایک ٹانگ ٹوٹ گئی اور ان کے پوشیدہ اعضاء کو نقصان پہنچا جس سے اس کی خاندانی زندگی تباہ ہوگئی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ہمیں ان کی تدفین میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ شناختی کارڈ کی ضرورت تھی۔"

اپنے حالات کی تکلیف کے زیرِ اثر انہوں نے سوال کیا کہ جب ان کی اپنی حکومت شناختی دستاویزات جاری کرنے کو تیار نہیں تھی تو انہیں پاکستان کیوں واپس لایا گیا؟

انہوں نے مزید کہا، "میرا عزیز ترین بھائی مجھے چھوڑ گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد اسے ایک دن بھی سکون کا نہیں ملا۔ ہمارا جرم کیا تھا؟ ہم نے کیا کیا ہے؟"

2000 کے عشرے کے اوائل میں پاکستان نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر کے امریکی حراست میں منتقل کر دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ ان کا القاعدہ سے تعلق تھا۔ اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے اپنی 2006 کی یادداشت 'ان دی لائن آف فائر' میں کہا کہ ان کی حکومت کو ان حوالگیوں کے عوض سی آئی اے کی جانب سے خطیر رقوم ملی تھیں۔

بعد ازاں تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ان میں سے قیدی جنہیں غلطی سے عسکریت پسند قرار دے دیا گیا تھا، وہ ممکنہ طور پر بے گناہ تھے۔

لاہور میں مقیم تجزیہ کار مجید نظامی نے ربانی برادران کی گرفتاری کو "پاکستان کی ریاستی ایجنسیوں کی طرف سے غیر قانونی اغوا کا مقدمہ" قرار دیا جسے بعد میں "غلط شناخت" کہہ کر جواز پیش کیا گیا۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پاکستانی ایجنسیوں نے دانستہ کیا یا شدید غفلت کے باعث ایسا ہوا۔ ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہوا کہ کون ذمہ دار تھا اور کوئی بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔"

کچھ اندازوں کے مطابق پاکستانی حکام نے گیارہ ستمبر کے بعد تقریباً 370 افراد کو امریکہ کے حوالے کیا۔ دونوں بھائی ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں 5000 ڈالر فی کس کے عوض امریکی حراست میں دے دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں