میجر ثانیہ صفدر: صنفی وکالت کے لیے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ اولین پاکستانی امن فوجی

وہ مشن کی فورس سگنل آفیسر اور صنفی فوکل پرسن بھی رہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

جب میجر ثانیہ صفدر کو گذشتہ سال قبرص میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج (یو این ایف آئی سی وائی پی) میں تعینات کیا گیا تھا تو انہیں کبھی یہ توقع نہ تھی کہ ان خدمات کی بدولت وہ صنفی وکالت کے لیے 2023 کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والی مشن کی اولین امن فوجی بن جائیں گی۔

36 سالہ صفدر کو اس سال اگست میں نیویارک میں قائم اقوامِ متحدہ کے امن کارروائیوں کے محکمے نے یو این ایف آئی سی وائی پی کی رکن کی حیثیت سے صنفی مساوات کی وکالت کرنے پر سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا۔ انہوں نے جولائی 2023 سے نومبر 2024 تک مشن کی فورس سگنل آفیسر اور ایک فوجی صنفی فوکل پوائنٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔

انہوں نے اس ہفتے ایک انٹرویو میں عرب نیوز کو بتایا، "میں اس مشن کی اولین [پاکستانی] امن فوجی ہوں جس نے صنفی وکالت کے لیے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور مجھے اس پر بہت خوشی اور فخر ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ان کے کام میں تمام سرگرمیوں میں خواتین کی مساوی نمائندگی کو فروغ دینا، ان کے لیے اقدامات کو منظم کرنا اور پورے مشن میں منصوبہ بندی، مشقوں اور کارروائیوں میں ان کی شرکت کو یقینی بنانا شامل تھا۔ اقوامِ متحدہ نے کہا، گذشتہ سال مشن میں تعیناتی کے بعد سے انہوں نے "خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کو مشن کے کام کے فوجی امور میں ضم کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے" کئی اقدامات کی ذمہ داری سرگرمی سے سنبھالی۔

یو این ایف آئی سی وائی پی کے رکن کے طور پر تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہی ایک سپاہی کا واحد یادگار کارنامہ نہیں ہوتا۔

قبرص میں ان کے امن فوج چھوڑ دینے کے بعد مشن کے سربراہ نے پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کو ایک تعریفی خط لکھا جس میں صفدر کی بطور سٹاف آفیسر کی کوششوں کو سراہا گیا۔

انہوں نے کہا، "میں واقعی خوش ہوں اور فخر محسوس کر رہی ہوں کہ جب میں اقوامِ متحدہ کا مشن مکمل کروں گی تو میرے ساتھ دو سرٹیفکیٹ ہوں گے۔"

صفدر کو 2023 کے اقوامِ متحدہ کے ملٹری جینڈر ایڈووکیٹ آف دی ایئر ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا جو "ایک ایسے امن فوجی کی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے جس نے امن کی سرگرمیوں میں صنفی نکتۂ نظر کو بہترین طریقے سے مربوط کیا ہو۔"

یہ ایوارڈ اگرچہ جمہوریہ کانگو میں تعینات ایک بھارتی خاتون امن فوجی میجر رادھیکا سین کو دیا گیا لیکن صفدر نے کہا کہ اس کے لیے نامزد ہونا ہی ایک بڑی کامیابی تھی۔

انہوں نے کہا، مجھے اس ایوارڈ کے لیے میری تمام کارکردگی کی بنا پر نامزد کیا گیا تھا۔

"خواہش کے مطابق ملازمت"

صفدر کا تعلق پاکستان کے ضلع گوجر خان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے اور ان کا تعلیمی پس منظر انجینئرنگ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے گاؤں میں خواتین کا باہر نکلنا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ہاسٹلز میں رہنا بہت عام نہیں تھا۔

لیکن ان کے ریٹائرڈ استاد والد نے انہیں راولپنڈی شہر کے ایک پوسٹ گریجویٹ کالج میں داخلہ لینے کی ترغیب دی جہاں سے انہوں نے فیکلٹی آف سائنس میں اپنی ڈگری مکمل کی۔

صفدر نے کہا، "جب مجھے معلوم ہوا کہ اب انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی خواتین کے لیے فوج میں بھرتی ہونے کا موقع ہے تو یہ ملازمت میرا خواب تھی۔ حتیٰ کہ بی ایس [بیچلر آف سائنس کی ڈگری] کے بعد مجھے اپنی ایم ایس [ماسٹر آف سائنس] کی تعلیم کے لیے سکالرشپ ملا اور یہ بیرون ملک سے بہت اچھی پیشکش تھی لیکن میں نے اسے مسترد کر دیا اور [2012 میں] فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔"

لیکن صفدر کے لیے زندگی ہمیشہ آسان نہیں رہی جن کی شادی ایک فوجی افسر سے ہوئی ہے اور ان کے دو بیٹے ہیں جن کی عمریں دس سال سے کم ہیں۔ درحقیقت اپنے کم عمر بچوں سے ہزاروں میل دور رہنے کے اپنے ہی چیلنجز تھے لیکن انہوں نے قبرص میں اپنی خدمات کو ایک "حیرت انگیز تجربہ" قرار دیا:

"مشن کے درمیان میں میرے بڑے بیٹے کو کچھ طبی مسائل کا سامنا تھا اور میں بہت زیادہ فکر مند اور بہت پریشان تھی کہ میری خاندانی ذمہ داریاں نظرانداز ہو رہی تھیں۔"

ایک موقع پر تو میجر مشن چھوڑنے تک کے بارے میں سوچنے لگی تھیں لیکن ان کے شوہر اور خاندان نے انہیں خدمات جاری رکھنے کی ترغیب دی۔

بعد میں یہ سب بہترین ثابت ہوا جیسا کہ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان اور بالخصوص بچوں کو ان پر فخر ہے۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، "جب میں ان کے سکول جاتی ہوں تو وہ اپنے کلاس فیلوز سے کہتے ہیں، 'دیکھو، میری امی خدمت کر رہی ہیں، یہ یونیفارم میں ہیں'۔ اور بعض اوقات وہ مجھ سے درخواست کرتے ہیں، 'برائے کرم ہمارے سکول آئیں اور ماما، یونیفارم میں آئیں'۔ میرے خیال میں یہ میرے لیے سب سے قابلِ فخر بات ہے کہ میرے بچے، والدین اور شوہر مجھ پر فخر کرتے ہیں۔"

صفدر کو امید ہے کہ مستقبل میں دیگر نوجوان خواتین ان کی مثال سے سبق سیکھیں گی اور "عزم و ایمان" کے ساتھ اپنی خواہشات کی پیروی کریں گی۔

انہوں نے کہا، "اگر آپ واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو بس کر گذریں۔ پہل کریں اور اللہ تعالی آپ کی کوششوں کو کبھی رائیگاں نہیں کرے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں