پاک- بھارت سیاسی کشیدگی: بھارتی کبڈی ٹیم کو دورۂ پاکستان کی اجازت نہ ملی
چیمپیئنز ٹرافی کے لیے کرکٹ ٹیم کو بھی دورۂ پاکستان کی اجازت دینے سے انکار
بھارتی حکومت نے اپنی کبڈی ٹیم کو 19 سے 23 نومبر تک طے شدہ دو طرفہ سیریز کے لیے پاکستان جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، دونوں ممالک کے مابین سیاسی کشیدگی کے درمیان یہ بات سرکاری میڈیا نے اس ہفتے رپورٹ کی۔
جنوبی ایشیا سے ابتدا پانے والا کھیل کبڈی دونوں ممالک میں مقبول ہے۔ یہ کھیل 12 کھلاڑیوں کی دو ٹیموں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے، سات اکھاڑے میں اور پانچ ریزرو میں۔ یہ 20 منٹ کے دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جس کے دوران دو ٹیمیں دفاع کرنے اور مارنے کے درمیان باری باری مقابلہ کرتی ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے جمعرات کو پاکستان کبڈی فیڈریشن (پی کے ایف) کے سیکرٹری محمد سرور رانا کے حوالے سے کہا، "ہندوستان میں ہمارے ہم منصبوں نے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے میں ناکامی کی اطلاع دی ہے۔ ہمیں اس فیصلے پر افسوس ہے کیونکہ ہم بے تابی سے ان کی یہاں میزبانی کرنے کے منتظر تھے۔"
اے پی پی نے بتایا کہ بھارتی ٹیم کو پاکستان کے خلاف 19 نومبر کو کرتارپور، 21 نومبر کو لاہور اور 23 نومبر کو بہاولپور میں کھیلنا تھا۔ نیز کہا گیا کہ منسوخی کی وجہ سے پی کے ایف متبادل نمائشی مقابلوں کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس پیشرفت سے چند روز پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو آئی سی سی نے اطلاع دی تھی کہ بھارتی حکومت نے اپنی کرکٹ ٹیم کو اگلے سال ہونے والے چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
پی سی بی نے مبینہ طور پر بھارت کے انکار پر آئی سی سی سے وضاحت طلب کی ہے۔
بھارت کی قومی کرکٹ ٹیم نے 2008 کے بعد سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا کیونکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات خراب ہیں اور یہ صرف غیر جانبدار مقامات پر عالمی ٹورنامنٹس میں ایک دوسرے سے کھیلتے ہیں۔
پاکستان نے گذشتہ سال ایشیا کپ کی میزبانی کی تھی لیکن بھارت نے اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پاکستان بھارت کے تمام میچز کو ایک "ہائبرڈ ماڈل" کے تحت سری لنکا منتقل کرنے پر مجبور ہو گیا۔
اے پی پی نے کہا، بھارتی نابینا کرکٹ ٹیم کو بھی ٹی 20 ورلڈ کپ کے آئندہ چوتھے ایڈیشن میں شرکت کے لیے اپنی حکومت کی منظوری کا انتظار ہے۔ یہ ٹورنامنٹ پاکستان کے شہروں لاہور اور ملتان میں 23 نومبر سے تین دسمبر تک ہونا ہے۔
اے پی پی نے کہا، "میڈیا اطلاعات کے مطابق وزارتِ کھیل سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کر لینے کے باوجود بھارتی نابینا ٹیم کو ابھی تک وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ سے حتمی منظوری نہیں ملی ہے۔"
-
پاکستان کی قومی ایئرلائن کے لیے 36 ملین ڈالر کی اکلوتی بولی مسترد
پاکستان کی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری 'سی سی او پی' نے رئیل سٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی کی ...
پاكستان -
ACCA کی تاریخ میں پہلی پاکستانی خاتون صدر منتخب
ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس نے پاکستان سے تعلق رکھنے والی عائلہ مجید ...
پاكستان -
ریاض کی میزبانی میں پاکستانی ڈیزائنرز کے لیے اولین فیشن نمائش، اشتراک کی توقعات
دیپک پروانی اور ایچ ایس وائی جیسے معروف نام شامل، 80 فیصد ڈیزائنرز پاکستانی ہوں ...
پاكستان