سعودی کے ایس ریلیف کی پاکستان کے سرد علاقوں میں موسم سرما کی 50,000 کٹس کی تقسیم

امداد سے ساڑھے تین لاکھ افراد مستفید ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے سرکاری میڈیا نے بدھ کو اطلاع دی کہ کے ایس ریلیف نے پاکستان کے 52 سرد ترین اور برف پوش اضلاع میں موسمِ سرما کی 50,000 امدادی کٹس تقسیم کی ہیں اور اس اقدام سے ایک اندازے کے مطابق 350,000 لوگ مستفید ہوں گے۔

انسانی امدادی ادارے نے گذشتہ ماہ اپنے اس منصوبے کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے سالانہ اقدام کے طور پر پورے پاکستان میں کمزور کمیونٹیز کی مدد کے لیے 84,500 پناہ گاہیں، غیر غذائی اشیاء اور موسمِ سرما کی کٹس تقسیم کرے گی۔

کے ایس ریلیف نے ابتدائی مرحلے کے دوران کہا تھا کہ وہ پاکستان کے سرد ترین علاقوں میں موسمِ سرما کی 50,000 امدادی کٹس تقسیم کرے گی۔ بقیہ 34,500 پناہ گاہیں ایک حکمتِ عملی کے تحت تین اضافی مراحل میں تقسیم کی جائیں گی جو دسمبر 2025 تک مکمل ہوں گے۔

سرکاری ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق امدادی تنظیم نے کہا، "کے ایس ریلیف نے ایک وسیع امدادی اقدام کا آغاز کیا ہے جس میں پاکستان کے 52 سرد ترین اور برف پوش اضلاع کے رہائشیوں میں موسمِ سرما کی 50,000 کٹس تقسیم کی گئی ہیں۔"

کے ایس ریلیف نے کہا کہ کُل 16,000 میں سے 12,200 کٹس پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا (کے پی) کے 11 اضلاع میں پہلے ہی تقسیم ہو چکی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بقیہ 3,800 کٹس فی الحال چھے اضافی اضلاع میں فراہم کی جا رہی ہیں۔

ایجنسی نے شمالی گلگت بلتستان (جی بی) کے علاقے میں دس ہزار، آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں چھے ہزار، سندھ میں چار ہزار اور پنجاب میں بھی دو ہزار کٹس تقسیم کیں۔

اے پی پی نے کہا، "موسمِ سرما کی ہر کٹ میں دو رضائیاں، مردوں اور عورتوں کے لیے اونی شالیں اور بچوں اور بڑوں کے لیے گرم ملبوسات شامل ہیں جو سخت موسمی حالات میں اشد ضروری تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کٹس پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز)، مقامی انتظامیہ اور حیات فاؤنڈیشن کے تعاون سے تقسیم کی جا رہی ہیں۔"

رپورٹ میں کہا گیا، "اس اقدام سے انسانی امداد کے لیے کے ایس ریلیف کی جاری وابستگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔"

صرف 2023 میں کے ایس ریلیف نے عالمی سطح پر 110 ملین سے زیادہ کھانے فراہم کیے جس میں پاکستان کے لیے بھی ایک اہم حصہ شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں