غزہ جنگ پر اسرائیل مخالف احتجاج: اسلام آباد میں انسانی حقوق کے کارکنان کی مختصر حراست
دونوں کو دن کے آخر میں رہا کر دیا گیا، کوئی الزام نہیں لگایا گیا
انسانی حقوق کی دو سینئر کارکنان طاہرہ عبداللہ اور ثمینہ خان کو پولیس نے جمعہ کے روز اسلام آباد پریس کلب کے باہر اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے پر مختصراً حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔
ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر ان خواتین کی گرفتاری دکھائی گئی جس میں انہوں نے فلسطینی پرچم اور کوفیہ سکارف پہن رکھے ہیں جبکہ انہیں ایک مرد اور تین نوجوانوں کے ساتھ خواتین پولیس اہلکار لے جا رہی ہیں۔
وڈیو میں عبداللہ ایک پولیس والے سے پوچھتی ہیں کہ انہیں کیوں لے جایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وہ خاتون پولیس اہلکاروں سے کہتی ہے کہ انہیں اور خان کو دھکے نہ دیں اور درخواست کرتی ہیں کہ انہیں پولیس ٹرک کے بجائے ایک علیحدہ گاڑی میں لے جایا جائے۔
وکیل ہادی علی چٹھہ نے عرب نیوز کو بتایا، "انہیں [عبداللہ اور خان کو] اسلام آباد پریس کلب کے احاطے کے باہر سے غیر قانونی طور پر اٹھا کر جی-سیون میں خواتین پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔"
انہوں نے مزید کہا، "انہیں قانونی امکانات پر بات کرنے کے لیے وکیل سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) مصباح وقاص اہلِ خانہ اور کونسلر کو ان سے ملنے کی اجازت دینے سے انکار کر رہی ہیں۔"
پولیس نے دونوں کارکنان کے خلاف کوئی الزام بیان نہیں کیا۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان ڈاکٹر تقی جاوید نے بھی اس حوالے سے عرب نیوز کے سوال کا جواب نہیں دیا۔
گذشتہ سال مئی میں عبداللہ ان مظاہرین میں شامل تھیں جنہوں نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاج کیا تھا۔
پاکستانی حکومت ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دے گی، یہ کہہ کر انہوں نے سب پر زور دیا کہ وہ بڑی تعداد میں باہر نکلیں۔
اسلام آباد پریس کلب پاکستان کے دارالحکومت کا ایک اہم مقام ہے جہاں صحافی اور کارکن پریس کانفرنس اور احتجاج کرتے ہیں۔ یہ شعور میں اضافے اور سیاسی و معاشرتی مسائل پر میڈیا کی توجہ مبذول کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کا کام دیتا ہے۔ مظاہرین اسے مطالبات کرنے اور حکومتی کارروائی کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے استعمال کرتے ہیں۔
ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ عبداللہ اور خان نے رہائی کے بعد پولیس کی حدود سے باہر نکلتے ہوئے "آزاد فلسطین" کا نعرہ لگایا۔