مون سون بارشوں سے پاکستان کے طول وعرض میں تباہی مچ گئی، بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان

شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا لوگوں کو غیر ضروری سفر نہ کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان کے طول وعرض میں موسلا دھار بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ و سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، مختلف حادثات و واقعات میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے، جبکہ ہزاروں سیاح اور مقامی افراد سڑکوں کی بندش کے باعث پھنس کر رہ گئے تھے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں سیاحتی مقام پر سیلابی ریلے سے اب تک کم از کم چار لاشوں کو نکالا جا چکا ہے جن میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں جبکہ ریسیکو 1122 اور گلگت بلتستان حکومت کے مطابق کم از کم پندرہ کے قریب زخمی ہیں اور تیس سے زائد لاپتا ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بابوسر ٹاپ پر فلیش فلڈ کے نتیجے میں شدید سیلابی صورتِ حال پیدا ہوئی، جس کے باعث کئی سیاح لاپتا ہو گئے۔ ریسکیو ٹیمیں اور مقامی افراد متاثرہ افراد کی تلاش اور امداد میں مصروف ہیں۔

ڈپٹی کمشنر دیامر، عطاء الرحمان نے بتایا کہ تھک کے مقام پر کلاوڈ برسٹ کے بعد لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے، جس کے باعث بابوسر روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سات سے آٹھ کلومیٹر تک سڑک کا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاک فوج نے فوری طو پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ فوج کی انجینئرنگ ٹیموں نے رات بھر کی انتھک محنت کے بعد بھاری مشینری کے ذریعے سڑک کو بحال کیا۔ سکردو سے سدپارہ ماؤنٹینیئرنگ اسکول اور دیوسائی سے سدپارہ گاؤں تک راستے مکمل طور پر کلیئر کر دیے گئے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران تمام بند راستے کھول دیے گئے اور تمام پھنسے ہوئے افراد اور ان کی گاڑیوں کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا۔ علاقے میں آمدورفت بحال ہو چکی ہے اور ٹریفک روانی سے جاری ہے۔

فوجی دستے اب بھی علاقے میں موجود ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ مقامی افراد اور سیاحوں نے پاک فوج کی بروقت کارروائی، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی خدمت کے جذبے کو بھرپور سراہا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارش کے بعد نالے بپھر گئے۔ منگل کو راولپنڈی میں شدید بارش ہوئی جہاں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیز فائیو میں کار میں سوار باپ بیٹی برساتی نالے میں بہہ گئے۔ ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کار سوار افراد نے برساتی نالے کے قریب سے گاڑی گزارنے کی کوشش کی لیکن پانی کابہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے دونوں افراد کار سمیت پانی میں بہہ گئے۔

ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ برساتی نالے میں بہہ جانے والے کار سوار شخص کی شناخت ریٹائرڈ کرنل اسحاق قاضی کے نام سے ہوئی جو اپنی 25 سالہ بیٹی کے ہمرا کار میں سوار تھے۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہےکہ اسحاق قاضی گھر سے بیٹی کے ہمراہ کار میں نکلے جہاں قریبی سڑک پر بارش کا پانی جمع ہونے کے باعث گاڑی بند ہو گئی، اسحاق قاضی گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق پانی کا بہاؤ تیز ہونے کے باعث دونوں باپ بیٹی برساتی نالے میں بہہ گئے جس کے بعد پولیس، ہاؤسنگ سوسائٹی کا عملہ، ریسکیو 1122 اور غوطہ خور ٹیم نے دونوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

گذشتہ روز اسلام آباد کے علاقے سید پور میں 145 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جس سے نالوں کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا اور کنارے پر کھڑی گاڑیاں بہہ گئیں۔ کٹاریاں پل پر پانی کی سطح 10فٹ تک پہنچ گئی، نشیبی علاقوں میں ریسکیو اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) نے ہفتے کو خبردار کیا تھا کہ 19 سے 25 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے باعث ممکنہ سیلابی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے آنے والی نمی اور ارد گرد کے علاقوں میں کم دباؤ کے نظام کے اثر و رسوخ کی وجہ سے آنے والے دنوں میں ملک کے بیشتر حصوں میں ہلکی سے شدید بارش ہونے کی توقع ہے جس سے دریائے کابل، سوات، پنجکوڑہ، کالپنی نالہ اور بارہ نالہ میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں