اسحٰق ڈار کا دورۂ بنگلہ دیش: اقتصادی تعاون، دوطرفہ تعلقات اور مسئلہ فلسطین پر تبادلۂ خیال

دونوں ممالک کے تعلقات میں حسینہ واجد کی معزولی کے بعد بہتری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

نائب وزیرِ اعظم اسحٰق ڈار نے اتوار کے روز بنگلہ دیش کے مشیرِ خارجہ توحید حسین سے وسیع پیمانے پر مذاکرات کیے جن کے دوران فریقین نے تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین کے حل پر بھی بات چیت کی، پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا۔

ڈار ہفتے کے روز بنگلہ دیش پہنچے جو حالیہ برسوں میں ایک پاکستانی اہلکار کا ڈھاکہ کا انتہائی اعلیٰ سطحی دورہ ہے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ممالک قریب آ رہے ہیں اور گذشتہ سال بنگلہ دیش میں پرتشدد بغاوت اور پھر سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد مضبوط تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا یہ سرکاری دورہ دو جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان مہینوں کے بڑھتے ہوئے رابطوں کے بعد ہے۔ پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال اس ہفتے ڈھاکہ میں تجارت اور زرعی تعاون پر بات چیت کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے اپریل میں 15 سالوں میں بنگلہ دیش کے ساتھ اولین دو طرفہ مشاورت کی۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا کہ ڈھاکہ میں گفتگو کے دوران ڈار اور حسین نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جن میں اعلیٰ سطحی تبادلے، تجارتی و اقتصادی تعاون، عوام کے درمیان رابطے، ثقافتی تبادلے، تعلیم اور استعداد کار کی تعمیر میں تعاون وغیرہ شامل ہیں۔

دفترِ خارجہ نے مزید کہا، "علاقائی اور بین الاقوامی مسائل بشمول سارک [جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم] کی بحالی اور فلسطین اور روہنگیا کے مسائل کے حل پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔"

بیان میں کہا گیا کہ فریقین کے درمیان بات چیت "تعمیری ماحول" میں ہوئی جس سے دونوں ممالک کے درمیان خیر سگالی کی عکاسی ہوتی ہے۔

دفترِ خارجہ نے کہا کہ فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔

قبل ازیں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم نے وزیرِ تجارت جام کمال کے ہمراہ اتوار کو بنگلہ دیش کے مشیرِ تجارت شیخ بشیر الدین اور بنگلہ دیش کے سرکاری اداروں کے دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔

بنگلہ دیش کی طرف سے ملک کے مرکزی بینک کے گورنر، بنگلہ دیش انوسٹمنٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین، بنگلہ دیش ٹریڈنگ کارپوریشن کے چیئرمین اور ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے چیئرمین اجلاس میں موجود تھے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ بنگلہ دیش کی تجارت اور ہوا بازی کی وزارتوں کے سیکرٹری کے ساتھ ساتھ نیشنل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

گذشتہ سال حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد سے پاکستان اور بنگلہ دیش نے مخاصمانہ روابط کم کرنے کی کوشش کی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی دوبارہ بحالی کے لیے جگہ پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش پہلے ایک ہی ملک کا حصہ تھے، پھر 1971 کی جنگ نے بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ کر دیا تھا۔

ہفتہ کو بنگلہ دیش پہنچنے کے بعد ڈار نے ملک کی نو تشکیل شدہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے رہنماؤں سے ملاقات کی جو طلباء کی زیرِ قیادت ایک تحریک ہے جس نے حسینہ کو ہٹانے والے مظاہروں میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم ڈھاکہ میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران بنگلہ دیش کے مشیرِ اعلیٰ محمد یونس سے بھی ملاقات کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں