افغانستان کے ساتھ مذاکرات جاری، ’سوشل میڈیا کے کسی بیان پر دھیان نہ دیا جائے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہرحسین اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، پاکستان نے ثالثوں کو شواہد پر مبنی مطالبات حوالے کر دیئے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ ثالث افغان طالبان کے ساتھ ہمارے مطالبات پر نکتہ بہ نکتہ بات چیت کر رہے ہیں، مذاکرات میں ثالثوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے، غزہ میں امن فوج بھیجنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔

طاہر اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ یہ مطالبہ باضابطہ طور پر دستاویزات کی صورت میں افغان حکام کو پہنچا دیا گیا ہے۔ ’اب یہ افغانستان پر منحصر ہے کہ وہ اس حوالے سے کیا اقدامات کرتا ہے، جبکہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک پاکستان کی فراہم کردہ شواہد پر مبنی معلومات کی بنیاد پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں قومی سلامتی کے مشیر اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (ڈی جی آئی ایس آئی) عاصم ملک اور ایڈیشنل سیکریٹری، وزارت خارجہ اسد گیلانی شامل ہیں۔

ترجمان نے استنبول میں مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ بات چیت مکمل ہونے تک وہ کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

افغانستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ حال ہی میں سرحد پار سے ہونے والے بلااشتعال حملوں نے سکیورٹی کی صورتحال پر اثر ڈالا ہے۔’سرحد کھولنے یا بند رکھنے کے فیصلے سکیورٹی کے جائزے پر منحصر ہیں اور کسی بھی جارحانہ واقعے کا ان جائزوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔‘

ترجمان نے واضح کیا کہ ’پاکستان پر یہ الزام کہ وہ افغانستان میں کسی دہشت گرد گروہ کی معاونت کر رہا ہے، بالکل بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے۔ ’پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور وہ اس کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔‘

ترجمان دفتر خارجہ نے انڈیا اور اسرائیل میں دفاعی تعاون سے متعلق کہا انہیں اس معاملے سے مکمل آگاہی ہے۔

’ہمارے پاس قابل اعتبار معلومات ہیں کہ انڈیا نے حالیہ تنازعے کے دوران اسرائیلی ساختہ آلات استعمال کیے۔ پاکستان ایسے دفاعی تعاون اور علاقائی فوجی مشقوں کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہ/چوکس ہے۔ ’ہماری مسلح افواج ہر وقت تیار ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ کارروائی یا اشتعال انگیزی کا موثر جواب دیا جا سکے۔‘

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں، پانی پاکستان کے لیے بقا کا معاملہ ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان اسرائیل کی طرف سے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے۔ غزہ امن منصوبہ پائیدار امن قائم کرنے کی کوشش ہے، اسرائیلی افواج کے فلسطینی علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان غزہ امن منصوبے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ’پاکستان 1967 کی سرحد کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں