"افغانستان کے ساتھ سرحد صرف امدادی کارروائی کے لیے کھولی، افغانستان سے دہشت گردی کی روک تھام پر پختہ یقین دہانی تک تجارت و راہداری کیلئے سرحدیں بند رہیں گی۔""پاکستان میں جاسوسی کے لیے اسرائیلی سپائی ویئر کے استعمال سے متعلق سامنے آنے والی خبریں اور دعوے بے بنیاد ہیں، انہیں مسترد کرتے ہیں۔"
بریفنگ میں کیے جانے والے ایک سوال پر ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ’یہ سب میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔ یہ تمام معلومات گمراہ کن اور غلط ہیں۔ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی معاملے پر، خصوصا سپائی وئیر یا اس طرح کے کسی بھی آلے پر، بالکل کوئی تعاون نہیں ہے۔ میں اسے مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جب تک افغان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کی روک تھام کی پختہ یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اس وقت تک سرحد بند رہے گی، مسئلہ صرف ٹی ٹی پی یا ٹی ٹی اے نہیں، افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں، سرحد کی بندش کے تناظر کو اسی حقیقت میں سمجھا جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی کا کہنا تھا پاکستان کا افغانستان کے عوام سے کسی قسم کا اختلاف نہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں، بارڈر بندش کے سکیورٹی اسباب ہیں، افغان عوام کے لیے امدادی راہداری میں پاکستان ہمیشہ مثبت رہا ہے، بارڈر پالیسی کا تعلق افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی تعاون سے ہے، افغان حکومت یقین دہائی کرائے کہ دہشت گرد اور پرتشدد عناصر پاکستان میں داخل نہیں ہوں گے تب ہی سرحد کھولیں گے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات کا دعویٰ کیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے سعودی عرب میں امن مذاکرات کا تیسرا دور ہوا جس کی میزبانی سعودی عرب، ترکیہ اور قطر نے مشترکہ طور پر کی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہو سکی تاہم جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔