بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے 12 مقامات پر مربوط حملے ناکام، 58 دہشت گرد ہلاک

صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند، کوئٹہ آنے اور وہاں سے جانے والی تمام ٹرینوں روک دی گئی ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں امن و امان تباہ کرنے کی ایک اور بڑی کوشش سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ناکام بنا دی گئی۔

سرکاری چینل ’پاکستان ٹی وی‘ کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم فتنۃ الہندوستان نے سنیچر کے روز کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر سمیت 12 بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایک درجن سے زائد مقامات پر مربوط حملے کیے ہیں، جن میں 10 سکیورٹی اہلکار جان بحق جبکہ 58 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان کی بہادر مسلح افواج، ایف سی اور بلوچستان پولیس نے جرات مندی سے کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے۔‘

سکیورٹی ذرائع نے ان کارروائیوں میں 37 عسکریت پسندوں کی اموات کی تصدیق کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’آپریشن کے دوران دہشت گرد مبینہ طور پر افغانستان میں موجود اپنے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھے۔‘

کالعدم علاحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ہفتے کو علی الصبح دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں مربوط حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔

ہفتے کو جاری کیے گئے بیان میں بی ایل اے نے کہا کہ اس نے بلوچستان کے متعدد شہروں میں حملوں پر مشتمل آپریشن ہیروف کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ حملے عسکریت پسندوں کے گرتے ہوئے مورال کی علامت ہیں۔

ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ 12 ماہ میں بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے 700 سے زائد ’دہشت گردوں‘ کو مار گرایا ہے، صرف گذشتہ دو دن میں 70 کے قریب عسکریت پسند انجام کو پہنچے ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ آج علی الصبح عسکریت پسندوں نے ’اپنے گرتے ہوئے مورال کو بچانے کے لیے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی جس کو بلوچستان کی بہادر پولیس اور ایف سی کے جانباز سپاہی مل کر ناکام‘ بنا رہے ہیں اور اب تک 37 مزید ’دہشت گرد‘ مارے جا چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے بقول: ’یہ حملے دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو ختم نہیں کر سکتے، ہم آخری دہشت گرد تک پیچھا جاری رکھیں گے۔‘

پاکستانی حکام بلوچستان میں سرگرم علاحدگی پسند تنظیموں کو انڈین پراکسی ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ تنظیمیں سکیورٹی فورسز، حکومتی تنصیبات اور ترقیاتی منصوبوں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں۔ اسلام آباد ان تنظیموں پر انڈیا سے مالی اور لاجسٹک مدد کا بھی الزام لگاتا ہے، جسے نئی دہلی مسترد کرتا ہے۔

قبل ازیں پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہر سنیچر کی صبح دھماکوں اور فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھے۔

کوئٹہ میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ عسکریت پسند شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز انہیں روک رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’دہشت گردوں نے سریاب روڈ پر پولیس موبائل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جان سے چلے گئے۔‘ اہلکار کا مزید کہنا تھا: ’پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ شہر میں دہشت گردوں کے لیے جگہ تنگ کر دی ہے اور کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔‘

وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے موجودہ حالات کے پیشں نظر کوٸٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔

ترجمان محکمہ صحت وسیم بیگ کے مطابق سول ہسپتال، بی ایم سی ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام کنسلٹنٹس، ڈاکٹرز ، فارماسسٹس، سٹاف نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو ہسپتالوں میں طلب کر لیا گیا ہے۔

دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، خاران، پسنی اور مستونگ سمیت صوبے کے متعدد علاقوں حملوں کی اطلاعات ہیں۔ ان شہروں میں ہونے والے حملوں سے متعلق تاحال حکام کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے بتایا کہ کوئٹہ میں ہفتے کو سریاب کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی میں چار عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا کہ عسکریت پسند شہر میں ’دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی۔‘

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسندوں کے زیر انتظام کمپاؤنڈ سے اسلحہ، دستی بم اور کالعدم تنظیم کا لٹریچر برآمد ہوا۔

صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث کوئٹہ آنے اور وہاں سے جانے والی تمام ٹرینوں روک دی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، حملوں کے بعد شہر میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور ہیلی کاپٹر فضا میں دکھائی دے رہے ہیں۔

صوبے میں یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گذشتہ روز ہی پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان، جس کی سرحدیں پڑوسی مسلمان ممالک ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، طویل عرصے سے عسکریت پسندی کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں