خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بارش کے باعث چھتیں گرنے اور دوسرے واقعات میں 15 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 47 زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسلام آباد سمیت ملک کے کئی حصوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
پیر کی صبح پروینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ۔ ڈی ۔ ایم ۔ اے) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 25 مارچ سے شروع ہونے والا سلسلہ برقرار ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بچے اور ایک خاتون شامل ہے جبکہ زخمیوں میں بھی 21 بچے شامل ہیں۔
پی ۔ ڈی ۔ ایم ۔ اے کا کہنا ہے مجموعی طور پر چھ گھروں کو نقصان پہنچا اور یہ واقعات بنوں اور شمالی وزیرستان کے اضلاع میں پیش آئے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ 1122 اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ متاثرہ مقامات پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ادارے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے حکام کے مطابق ضلع کوہاٹ میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچوں کی جانیں چلی گئیں جس کے بعد گذشتہ 36 گھنٹوں میں صوبے میں بارشوں سے مختلف شہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ ان واقعات میں 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مکانات گرنے اور جانی نقصانات کے سب سے زیادہ واقعات ضلع بنوں میں پیش آئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بارشوں اور حادثات سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ تمام متاثرہ افراد کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
ضلع بنوں میں گذشتہ شام سے آج صبح تک مختلف مقامات پر چھتیں گرنے سے چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ گذشتہ 36 گھنٹوں میں ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے ہونے والے حادثات میں کل نو افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تعداد بچوں کی بتائی گئی ہے۔ بنوں میں ریسکیو 1122 کے اہلکار بخت اللہ وزیر نے بتایا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے مختلف مقامات پر حادثات پیش آئے ہیں۔
صوبے کے مختلف حصوں کے علاوہ ملک کے کئی دیگر علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ منگل کے روز تک جاری رہے گا جس کے شدید ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
ادھر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ دو اضلاع میں گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق گھروں کو دو اضلاع کیچ اور قلعہ عبداللہ میں نقصان پہنچا ہے۔
بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ گذشتہ بدھ کے روز شروع ہوا تھا، جو صوبے کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں تاحال جاری ہے۔
ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان عطا اللہ مینگل نے بتایا کہ حالیہ بارشوں میں اب تک چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ مری، گلیات، اٹک، تلہ گنگ، چکوال، جہلم، منگلا، گوجر خان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔