اسلام آباد میں موجود ذرائع کے حوالے سے ’’ العربیہ ‘‘ کی نمائندہ نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی میزبانی میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات معاہدہ نہ ہونے کے باوجود ختم نہیں ہوئے بلکہ فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔
شہباز شریف نے امریکی نیٹ ورک ’’ سی بی ایس ‘‘ کے پروگرام ’’ فیس دی نیشن ‘‘ کو بتایا کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے اور تعطل موجود ہے۔ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی طرف اشارہ کیا۔
اسی تناظر میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ ان کا ملک تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی جاری رکھے گا۔ مذاکرات کا طویل دورانیہ کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے اور آنے والے دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے اور مکالمے کی سہولت کاری جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاک فوج کے سربراہ عاصم منیر نے شدید اور تعمیری مذاکرات کے کئی ادوار میں ثالثی میں تعاون کیا جو مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح اختتام پذیر ہوئے۔ امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے کسی معاہدے تک پہنچے بغیر مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا اور کہا کہ خاص طور پر ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر شروع کی گئی کئی ہفتوں کی جنگ کے بعد کی گئی تھی۔ پاکستان فریقین کو ایک جامع سفارتی تصفیے کی طرف لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے پر زور دے رہا ہے۔