"اسلام آباد، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مسلسل پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، اور پاکستان اس پورے عمل میں بطور سہولت کار فعال کردار ادا کر رہا ہے۔"
اس امر کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اسلام آباد میں جمعرات کے روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا ہے۔ ترجمان کے بقول ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل میں پاکستان کی سہولت کاری کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے، جبکہ سفارتی حلقوں نے پاکستان کے تعمیری اور استحکام پیدا کرنے والے کردار کی تحسین کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ کل چیف آف ڈیفنس فورسز کے تہران پہنچنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم 15 سے 18 اپریل کے دوران 3 ممالک کے دورے پر ہیں اور ترکیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے، جبکہ گزشتہ رات سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران مذاکرات سے متعلق پیشرفت بھی شیئر کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی کوششوں سے ایران امریکہ جنگ بندی ممکن ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف کو دیگر ممالک کی قیادت کی ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں، ایران امریکا کے مذاکرات 21 گھٹنے جاری رہے، مجموعی طور پر یہ پراسس تقریبا 30 گھنٹے تک رہا، دونوں وفد نے پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی، مذاکرات عمل مجموعی طور پر تعمیری رہا۔
🔴LIVE: Spokesperson's Weekly Press Briefing 16-04-2026 at Ministry of Foreign Affairs, Islamabad https://t.co/tEGWng71Wf
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 16, 2026
انہوں نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل اور بعد میں وزیراعظم نے مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے، جن میں قطر، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، جاپان، کینیڈا اور دیگر ممالک شامل ہیں، جنہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ ترجمان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے جاری رہے جبکہ مجموعی مصروفیات 30 گھنٹے تک رہیں، اور نائب وزیر اعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پریس بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا کردار ’نہ کوئی بڑی پیش رفت، نہ ہی کوئی ناکامی‘ کے اصول کے تحت تعمیری رہا ہے، اور فریقین کی جانب سے مذاکرات میں شامل تمام عناصر قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بطور سہولت کار معلومات کو صیغہ راز میں رکھا کیونکہ یہ عمل کی حساسیت کا تقاضا تھا، تاہم میڈیا کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا گیا اور ملکی و بین الاقوامی میڈیا کے لیے یکساں پالیسی اپنائی گئی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس عمل میں یہ بنیادی نکتہ اہم ہے کہ دونوں فریقین مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں، جبکہ اگلے مرحلے کے حوالے سے فی الحال کسی پیشرفت پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، پاکستان پیچیدہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور تنازعات کے حل کے لیے اصولی، مکالمہ پر مبنی اور سفارتی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مختلف فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔