پاکستان:پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گاڑیوں کی بجائےموٹرسائیکلوں کااستعمال بڑھنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد پاکستان کے لوگ بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کے نرخوں اور ہر استعمال کی چیز اندھی مہنگائی کی زد میں ہے۔ اس صورتحال میں لوگوں نے گاڑیوں پر سفر کرنا کم کر دیا ہے تاکہ مہنگے پیٹرول کے اخراجات کم کر سکیں۔

گاڑیوں کے مقابلے میں لوگوں نے موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کی طرف آنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ان موٹر بائیکس میں بھی سب سے زیادہ اہمیت الیکٹرک بائیکس کو مل رہی ہے۔ جیسا کہ کراچی کے رہنے والے محمد فاروق نامی شہری نے بھی پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل سے جان چھڑا کر الیکٹرک بائیک خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 35 سالہ محمد فاروق بنک میں کیشیئر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس مہنگے پیٹرول کے استعمال سے نجات پائیں۔ وہ اگرچہ الیکٹرک بائیکس کی ٹیکنالوجی سے آگاہ نہیں مگر وہ پیٹرول کے اخراجات سے نجات چاہتے ہیں۔

خیال رہے پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کے ساتھ ہی پہلی بار اضافہ کر دیا گیا اور پھر دوبارہ اپریل کے آغاز میں پیٹرول کی قیمتوں کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیا گیا۔

تیسری بار ایک اور اضافے کا پاکستان کو دنیا بھر کے لوگوں کی طرح اس وقت سامنا ہو رہا ہے جب امریکہ نے ناکے پر ناکے کی حکمت عملی کے تحت آبنائے ہرمز کے گرد اپنی نیول فورسز کو تعینات کر دیا ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اور بڑھ گئی ہیں اور تیل کی قیمت میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اگرچہ 10 اپریل کو وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمتوں میں انتہائی اضافے میں کچھ کمی کا اعلان کیا تھا اس کے باوجود تیل کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے بری طرح باہر ہیں۔ جبکہ تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے اشیائے ضروریہ میں ہونے والے اضافے نے بھی عام پاکستانیوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اس کے برعکس حکومت کی طرف سے اعلان کردہ سادگی پالیسی کا اثر بڑے بڑے سرکاری قافلوں میں شامل گاڑیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ نہیں ہو رہا۔

محمد فاروق نے اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ہم نہیں سمجھتے کہ یہ ہمیں آنے والے دنوں میں مل بھی پائے گا یا نہیں۔ اس صورتحال سے چین کی تیار کردہ موٹر بائیکس کے لیے پاکستان میں کافی جگہ پیدا ہو رہی ہے اور جن لوگوں کے پاس پیٹرول سے چلنے والی موٹر بائیکس ہیں وہ الیکٹرک موٹر بائیکس کی طرف آرہے ہیں۔

پاکستان 24 کروڑ کی آبادی کا ایک بڑا ملک ہے۔ جس میں بڑے شہروں سے لے کر قصبات اور دیہات ہر جگہ موٹر سائیکلوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگلے مہینوں اور برسوں میں پاکستان الیکٹرک موٹر بائیکس کے حوالے سے بہت اہم مارکیٹ بننے جا رہا ہے۔

ملک میں موٹر سائیکل بنانے والی صنعتوں نے بھی اس رجحان کو مانیٹر کرنا شروع کیا ہے۔ 37 سالہ برہان عباس نے بھی اس صورتحال میں کراچی کے ایک الیکٹرک موٹر بائیکس شوروم سے رابطہ کیا ہے تاکہ وہ بجلی سے چلنے والی نسبتاً کم خرچ موٹربائیک کا ستعمال کر کے اپنے معمولات کو جاری رکھ سکے۔

برہان عباسی کا کہنا ہے کہ میں اس سے پہلے عام موٹر بائیک استعمال کرتا تھا لیکن اب یہ میرے لیے قابل برداشت نہیں رہا۔

میرے خیال میں بجلی سے چلنے والی موٹر بائیک آسانی سے چلائی بھی جا سکتی ہے اور اس کے اخراجات بھی زیادہ نہیں ہیں۔ میں توقع کر رہا ہوں کہ میرے کم از کم آدھے اخراجات کم ہوجائیں گے۔

خیال رہے پاکستان میں 65 کے قریب کمپنیاں بجلی سے چلنے والی موٹر بائیکس تیار کرنے کے میدان میں اتر چکی ہیں۔ ان میں کئی وہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جو اس سے قبل پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلیں بناتی تھیں۔

بجلی سے چلنے والی موٹرسائیکل کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر مینوفیکچرنگ میں وسعت پیدا کر دی گئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے مہینوں میں بجلی سے چلنے والی موٹرسائیکلوں کی خریداری و مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں