اقوام متحدہ نے غربت اور بھوک ننگ سے متعلق مرتب کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے دو تہائی لوگ خوراک کے بحران سے دوچار ہیں۔ پچھلے سال اس سلسلے میں صرف دس ملک نمایاں تھے۔ ان میں افریقی ملک سوڈان، نائیجیریا اورکانگو شامل رہے۔ یہ رپورٹ جمعہ کے روز جاری کی گئی ہے۔
دنیا میں خوراک کے بحران پر اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی ہمدردی سے متعلق گروپوں کے اعداد و شمار پر مبنی اس رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال غذائی قلت اور عدم تحفظ کا بنیادی محرک ہیں۔ نیز جاری صورتحال میں حالات کے مزید پیچیدہ ہونے کا بھی امکان ہے۔
خوراک کی کمی سے متععلق اس رپورٹ میں جن ممالک کا ذکر ہے ان میں افغانستان، بنگلہ دیش، کانگو، میانمار، نائیجیریا، پاکستان، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام اور یمن شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش اور شام میں صورتحال بہتری کی طرف ہے جبکہ افغانستان، میانمار، زمبابوے میں صورتحال بگاڑ کی کیفیت سے دور ہے۔ خیال رہے رہورٹ میں غزہ اور سوڈان میں جاری قحط کا بھی بطور خاص جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے 47 ملکوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 266 ملین افراد نے سال 2025 میں شدید غذائی قلت و قحط کا سامنا کیا ہے جبکہ سال 2016 کے مقابلے میں یہ اعداد و شمار دو گنا ہیں۔
جاری کردہ رپورٹ میں بین الاقوامی امداد میں ہونے والی کمی پر بھی خبردار کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری رہنے والی جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کرتے ہوئے نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے جبکہ کھادوں کی قیمتوں میں اضافے سے جاری غذائی بحران میں بھی شدت کا خطرہ ہے۔ نیز امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے بھی کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ڈویلپمنٹ کے سربراہ الوارو لاریو نے مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا ہم کاشتکاری کے موسم میں ہیں لیکن توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے پیداوار پر اثر پڑے گا۔ اس موقع پر انہوں نے کسانوں کی مدد کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا مقامی سطح پر کھاد بنانے کے ساتھ ساتھ مٹی کو بہتر کرنے سے جاری بحران میں کمی لائی جا سکتی ہے کہ اس کے نتیجے میں اس کی ضرورت کم سے کم ہوگی۔