پاکستان نے بین الاقوامی پولیس سے رابطہ کیا ہے کہ پاکستان سے اڑھائی ارب ڈالر کی مالیت کی منی لانڈرنگ کرنے والے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ انٹر پول سے یہ رابطہ نیب کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
کرپشن کے خلاف سر گرم ادارے نیب کے سربراہ نے بدھ کے روز اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا حکام ملک ریاض کو جلد متحدہ عرب امارات سے واپس پاکستان لائیں گے۔ تاکہ ملک ریاض کو اڑھائی ارب ڈالر کی خطیر رقم منی لانڈر کرنے کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے۔
احتساب کا قومی ادارہ 'نیب' ملک ریاض کے خلاف کرپشن وغیرہ کے کئی کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے۔ وہ پاکستان میں بحریہ ٹاؤن کے مالک تصور کیے جاتے ہیں اور پاکستان کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔ اگرچہ ان پر یہ بھی الزام لگتا رہا ہے کہ انہوں نے بحریہ ٹاؤن بھی لاہور کے ایک شہری آصف عارف سے مبینہ دھونس اور دھاندلی کے علاوہ ملی بھگت کرکے ہتھیا لیا تھا۔ تاہم اس وقت بحریہ ٹاؤن کا منسوبہ جس جگہ اب قائم ہے اسے کینال سٹی کہا جاتا تھا۔ ملک ریاض اب بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین کی شہرت رکھتے ہیں۔
ملک ریاض نیب مقدمات میں ان کے خلاف عاید کیے گئے منی لانڈرنگ کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں سیاسی وجوہ کی بنیاد پر مقدمات کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
یاد رہے ملک ریاض ان دنوں متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ جبکہ عدالت نے انہیں القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں مفرور قرار دے رکھا ہے۔ اس مقدمے میں سابق وزیر اعطم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی ماخوذ ہیں۔ مبینہ طور پر ملک ریاض نے انہیں القادر ٹرسٹ کے لیے زمین تحفہ دی تھی اور حکومت سے غیرقانونی 'فیور' حاصل کی تھی۔
دوسری جانب نیب چیئر مین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر بٹ نے رپورٹرز سے بات کرتے کہا ہے 'بین الاقوامی پولیس 'انٹر پول' نے ملک ریاض کو 'ریڈ نوٹسز' جاری کر دیے ہیں۔ جنرل نذیر بٹ نے مزید کہا ہم امارات کی حکومت سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کرنے والے ہیں ۔ تاکہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کو جلد واپس لایا جاسکے۔
ایک سوال کے جواب میں نذیر بٹ نے کہا نیب مجموعی طور پر 'منی لانڈرنگ' کے 35 ہائی پروفائل کیسز کو دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر آئی ایم ایف اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ دونوں پاکستانی حکومتی اداروں کے خلاف منفی اپروچ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی رپورٹ کو تعصب پر مبنی اور غیر معتبر ڈیٹا پر مبنی قرار دیا۔