خلیجی ملکوں میں ملازمت چاہنے والے پاکستانیوں کے لیے سماجی تربیت کا بھی اہتمام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

خلیجی ملکوں میں ملازمت اور روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کے لیے باقاعدہ کلاس روم سج گئے۔ کلاس روم جو کرسیوں اور میزوں سے مزین تھا میں کل 20 طلبہ کی گنجائش ہے۔ یہ بیس طلبہ پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ اپنے انسٹرکٹرز سے سب پڑھ رہے ہیں۔

کلاس روم میں انہیں ایک عرب دنیا کے قوانین اور کلچر دونوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔نیز انہیں مقامی عربوں اور کفیل حضرات کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے یہ سکھایا جاتا ہے۔ یہ ان پاکستانیوں کے لیے بڑی مفید تعداد ہے جو ہر سال سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں خلیجی ملکوں میں ملازمت کے لیے جاتے ہیں۔

ان ملکوں میں سعودی عرب، امارات، بحرین، قطر اور اومان شامل ہیں۔ جو پاکستان کی غیر ہنر مند لیبر کی کھپت کے لیے بھی اہم ہیں۔ یہ کارکن آمدنی کی بدولت سالانہ کروڑوں ڈالر کی رقم واپس اپنے گھروں کو بھیجتے ہیں۔ جو حکومت پاکستان کے لیے ترسیلات زر کی صورت ایک بڑی رقم ہوتی ہے۔
تاہم حکومت پاکستان ان پاکستانی کارکنوں کی تربیت کے لیے ایسا کوئی پروگرام پیش نہیں کرتی ہے۔ کہ ان کارکنوں کو ایسی تربیت مل سکے کہ دیار غیر میں رہتے بستے ہوئے آسانی محسوس کریں۔ اس وجہ سے انہیں عام طور پربیرون ملک پہنچتے ہی کئی دقتوں کا احساس ہوتا ہے۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے نجی سطح پر روز گار دینے والے اداروں نے اقدامات شروع کیے ہیں۔ تاکہ پاکستانی کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی ملازمت کے دورانیے میں انہیں مشکلات سے بچایا جا سکے اور یہ اپنا کام بہتر انداز میں کر پائیں۔ کام کی جگہ، شہر اور قوانین سے پیشگی آگاہ ہوں اور وہاں کے مقامی کلچر سے بھی بے خبر نہ رہیں۔

جان محمد اینڈ سنز ریکروٹمنٹ کمپنی کے چیئرمین عصام بیگ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ' پاکستانی کارکنوں کے لیے آج کل اس طرح کی تربیت کا اہتمام انتہائی مفید رہے گا۔ تاکہ سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال کرنے کے بارے میں بھی آگاہ ہوں اور خواہ مخواہ کسی مشکل میں نہ جا پھنسیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا کے حوالے سے ہر ملک کے قوانین الگ الگ ہو سکتے ہیں، نیز ماحول اور انداز بھی مختلف ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ انہیں سافٹ سکلز کی تربیت بھی دی جارہی ہے۔ تاکہ خلیجی ملکوں میں جا کر کسی بھی ثقافتی پریشانی سے نہ گزریں۔ ان مہارتوں میں سماجی مہارتیں اور مواصلاتی مہارتیں بھی شامل ہیں۔ نیز دوسرے لوگوں سے میل جو کے آداب بھی شامل ہیں۔

'جان محمد اینڈ سنز' پاکستانی کارکنوں کے پاکستان سے روانہ ہونے سے پہلے کارکنوں کی تربیت کا اہتمام کرنے کی حامی کمپنی ہے۔ تاکہ یہ وہاں جاتے ہی ہر حوالے سے خود کو ایڈجسٹ کر لیں۔

انتہائی احتیاط

اکثر زیر تربیت کارکن یا مزدور تکنیکی شعبوں سے وابستہ ہیں۔ انہیں 'پاور پوائنٹ' سے تیار کی گئی پریزنٹیشنز کے ذریعے سکھایا جاتا ہے۔ انہیں عام سے امور اور ذاتی سطح کی چیزوں سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔ تاکہ یہ جان سکیں کہ بیرون ملک خواتین اور مردوں کے ساتھ بات کس لہجے میں کرنا ہے۔ تاکہ ان کے احترام میں فرق نہ آئے۔ ذاتی صفائی اور صحت کے اصولوں کی پاسداری کس طرح کرنا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں کیا احتیاطی تدابیر کرنا ہیں۔ 'ورک پلیس' پر کام کرنے والے دیگر ساتھیوں سے رویہ کیسا ہونا چاہیے، وغیرہ وغیرہ ۔۔

پاکستان سے سال 2025 کے دوران خلیجی ملکوں میں روز گار کے لیے 763000 افراد کار گئے ہیں۔ سٹیٹ بنک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق خلیجی ملکوں سے جون 2025 کے اختتام تک 21 ارب ڈالر سے زائد کے ترسیلات زر پاکستان کو موصول ہوئے ہیں۔ جبکہ دوسرے اہم ملکوں سے کل ملا کر 38 ارب ڈالر کی رقوم ترسیلات زر کی صورت موصول ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں