پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران اور امریکی کے درمیان جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں جمعے کو تہران پہنچ گئے ہیں۔
تہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقعے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد براہ راست گفتگو کا سلسلہ تو تعطل کا شکار ہے تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
دوسری طرف العربیہ/الحدث کے ذرائع نے بتایا ہے کہ عاصم منیر کے ہمراہ پاکستانی انٹیلی جنس کے سربراہ عاصم ملک بھی تہران گئے ہیں۔
با خبر ذرائع نے اس سے قبل العربیہ/الحدث کو واضح کیا تھا کہ عاصم منیر کسی پیش رفت یا بعض رکاوٹوں کے دور ہونے کی امید پیدا ہونے کی صورت میں تہران کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف ایرانی حکام کے ساتھ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے۔ تاہم انہوں نے اسی وقت اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اس دورے کا ایک اور رخ یا مقصد بھی ہو سکتا ہے اور وہ ہے رکاوٹوں کو دور کرنا۔
اس تناظر میں العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اشارہ کیا کہ یہ امکان موجود ہے کہ کچھ حساس تکنیکی، فوجی یا فنی گتھیاں اب بھی الجھی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے عاصم منیر نے خود اپنا وزن ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی دوران اعلیٰ سفارتی ذرائع نے العربیہ/الحدث کے لیے انکشاف کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی افہام و تفہیم پیدا ہوتی ہے تو وہ "ایک صفحے کا معاہدہ" ہو گا، جو کہ ایک بنیادی یا تاسیسی معاہدے کی حیثیت رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذاکرات کے اس فریم ورک کو "اعلانِ اسلام آباد" کا نام دیا جائے گا جو کسی حتمی ڈیل کا پیش خیمہ بنے گا۔
ملفان حساسان للغاية.. واشنطن وطهران تتمسكان بشروط متضادة حول اليورانيوم عالي التخصيب ومضيق هرمز.. ومخاوف دولية من انهيار المفاوضات النووية وعودة الحرب pic.twitter.com/sSb0EGguv8
— العربية (@AlArabiya) May 22, 2026
آج اس سے قبل ایک پاکستانی ذریعے نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے مابین ممکنہ معاہدے کے حوالے سے جاری رابطوں میں محتاط امید کا عنصر غالب ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کا کوئی متبادل نہیں ہے"۔ انہوں نے تصدیق کی کہ "خلیج کو کم کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ دونوں فریقوں کے مطالبات کی سطح بہت زیادہ ہے"۔
مزید برآں انہوں نے اشارہ کیا کہ "یورینیم اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر دوریوں کو کم کرنے کے لیے رابطے جاری ہیں"۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کا نام لیے بغیر بتایا کہ "مذاکرات کی اصل گانٹھ ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کے معاملے سے کیسے نمٹا جائے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "معاہدے کے بڑے معاملات پر مذاکرات کے لیے طویل وقت درکار ہے"۔ یہ بھی بتایا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے چین پر بہت زیادہ تکیہ کر رہا ہے۔
مصدر باكستاني للعربية:
— العربية (@AlArabiya) May 22, 2026
. الاتصالات مستمرة لتقليل الفجوة بملفي اليورانيوم ومضيق هرمز
. لا بديل عن اتفاق مرحلي بين أميركا وإيران
. تقليل الفجوات ليس سهلا لأن لدى الطرفين سقفا عاليا من المطالب
. عقدة المفاوضات كانت ولا تزال كيفية التعامل مع اليورانيوم
. أميركا وإيران تتمسكان… pic.twitter.com/C2o2SAh7WT
پاکستانی وزیر داخلہ نے آج اس سے قبل دو دنوں میں دوسری مرتبہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی۔
یہ معلومات ان افواہوں کے سامنے آنے کے بعد آئی ہیں جن کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی معاہدے کا مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ جس میں تمام محاذوں پر جنگ روکنے اور فریقین کی جانب سے فوجی، سویلین یا اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنانے کے عزم کے ساتھ ساتھ خود مختاری، علاقائی سالمیت کے احترام اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی باتیں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، مسودے میں خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت بھی شامل ہے۔ اس میں نگرانی اور تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کرنا بھی شامل ہے۔ مسودے میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ معلق مسائل پر مذاکرات کا آغاز سات دنوں کے اندر ہوگا۔
یاد رہے کہ ایرانی فریق اس سے قبل ملک کے اندر موجود اعلیٰ افزودہ یورینیم، جس کا وزن تقریباً 440 کلوگرام ہے، کو ملک سے باہر منتقل کرنے سے انکار کر چکا ہے۔
تہران نے جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں ایک "نئی صورت حال" کے بارے میں بھی بارہا بات کی ہے، اور اس نے اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے انتظام کے لیے ایک نیا ادارہ قائم کیا ہے جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
دوسری طرف واشنگٹن نے جہاز رانی کی نقل و حرکت کے لیے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے کھولنے پر اصرار کیا ہے اور ایرانی حدود کے اندر یورینیم کی موجودگی کو قطعی طور پر مسترد کیا ہے۔