شیروانی میں شیر!...

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

میاں صاحب نے ماشاء اللہ حلف کیا اُٹھایاکہ چہار جانب سے مبارک باد کی صدائیں،بادِ عقیدت کے جھونکے،محبت و وفا کے دلفریب مناظر…نہ جانے کیا کیا سنائی اور دکھائی دے رہا ہے کہ اُسے تحریر کرنے کے لئے تحریر اسکوائر کے انقلابیوں سے ہی مدد لینا پڑے گی…بعض چینلز کی زبان میں شَکر سے زیادہ شیریں مٹھاس اور پُشتینی مخالفین کے انداز میں غیر متوقع چاشنی نے کم از کم مجھے یہ تو سکھلادیا ہے کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی اور منہ کھلے کا کھلا رہ جانا کسے کہتے ہیں…

کَل تک تبّرے پڑھنے والے تجزیہ نگار تعریفوں کی نگارش اور قصیدوں کی ادائیگی میں گویا معتصم باللہ کے مصاحبوں کے کفن بھی چرا چکے ہیں…سب کچھ بدل گیا ہے، میاں جی کے ماضی کی فلم رپورٹس نشر کرنے کی ایک دوڑ سی لگی ہے، ہر ایک تخت سے تختے تک کا سفر دکھانے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لئے بے تاب و بے قرار ہے، تحسین سے لبریزجملوں کو وفاداری کے لفظوں سے ٹانک کر دوستی کی ایسی لاجواب مالائیں تیار کی جارہی ہیں جنہیں موقع پرستی کے بازار سے کوئی بھی خوشامدی سستے داموں خرید سکتا ہے…میاں صاحب کی ”کم عقلی“ اور ”متکبرانہ روش“ پر کالم کے کالم سیاہ کرنے والے اب اُن کی بردباری،مصلحت کوشی اور معاملہ فہمی پر مقالے لکھنے کو تیار ہیں، اُن کے کردار کی ایسی نایاب و کمیاب خصوصیات ڈھونڈ کر لارہے ہیں جو آنکھوں میں شہتیر ہونے کے باعث اُنہیں پہلے دکھائی نہیں دے رہی تھیں…گو کہ ہمارے میاں صاحب کو وزیر اعظم بنے صرف دو دن ہی گزرے ہیں لیکن واہ واہ کے ستونوں سے داد و تحسین کے پُل بنانے والوں نے اُن اقدامات کی بھی ابھی سے پذیرائی شروع فرمادی ہے جن کا ابھی تک اعلان ہی نہیں کیا گیا…بھئی بزرگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کردار ظاہری طور پر کتنا ہی خوب صورت اور بے داغ کیوں نہ ہو لیکن اُس میں ”پیندا“ بہت ضروری ہے تاکہ وہ اِدھر اُدھر لڑھکنے سے محفوظ رہے …کچھ عرصہ پہلے تک اِن میں سے کوئی یہ تسلیم کرنے کو بھی تیارنہیں تھا کہ

میاں صاحب اکثریتی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے اُبھر کر سامنے آسکتے ہیں،انتخابی مہم کے دوران سب ہی نے میاں صاحب مخالف اشتہارات کی گنگا میں جی بھر کے اِشنان کیا، بعضوں نے تو ”قومی فرض“ سمجھ کر کردار کشی پر مبنی اشتہارات کو ”بلا معاوضہ“ نشر کیا، جانبدارانہ رویوں کے سائے میں انتخابی نتائج پر تبصرے فرمائے،خیالات کے اظہار میں استعجاب سے زیادہ تاسف نمایاں تھا اور آج ”شیر“ کو شیروانی میں دیکھتے ہی سب کچھ تبدیل ہوگیا، ایک لمحے میں دنیاکے معنی کچھ اور ہوگئے!…استقامت کے دعوے، اصولوں پر ڈٹے رہنے کے عزائم، نہ جھکنے اور دبنے کی قسمیں، سب کی سب پَل میں ہوا ہوگئیں! مجھے ایسے ہی چہروں سے ہمیشہ ڈر لگتا ہے، یہ غیر محسوس طور پر اقتدار کی راہداریوں میں اُن چور دروازوں سے چپ چاپ داخل ہوجاتے ہیں جن پر لگے تالوں کی کنجیاں صرف اِنہی کے پاس ہوتی ہیں اور پھر اُس کے بعد آہستہ آہستہ سب کچھ برباد ہوجاتا ہے ، شخصیت پرستی کی آرتیاں اُتارنے والے یہ ”پُراسرار اپنے“اچھے بھلے انسان کو خودپسندی کی ایسی موذی بیماری میں مبتلا کردیتے ہیں کہ جس کا انجام رُسوائی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا …14برس بعد ایوانِ اقتدار کے راستوں سے گزرتے ہوئے یقینا میاں صاحب نے ہر اُس منظر کو یاد کیا ہوگاجس کے پسِ پُشت اپنوں کی بے وفائی سے زیادہ وقت کی بے اعتنائی کا دخل تھااور یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا…جو پہلے کبھی ”یہاں“ رہتا تھا اب وہ کہیں اور رہتا ہے اور جسے اب دوبارہ یہاں رہنا ہے اُسے بھی ایک دن یہاں سے پھر رُخصت ہونا ہے۔

حلف سے پہلے،حلف کے دوران اور حلف کے بعد گہری سوچ میں گم ،میاں صاحب کا چہرہ اُن کے اندر موجود اُس نواز شریف سے ملاقات کی تفصیلات سے عبارت تھا جس نے حالات کی درس گاہ میں کئی برس کی تعلیم کے بعد بہت سارے سبق سیکھے ہیں،نہ جانے اُنہیں کیا کچھ یاد آرہا ہوگا،ابّا جی آج حیات ہوتے تو اپنے بیٹے کا ماتھا چومتے اور جو بھائی دنیا میں اُن کا ساتھ چھوڑ گیا شاید اُس کے خیال نے بھی اُنہیں سنجیدہ رکھا، ماں ضعیف ہیں، آنہیں سکتی تھیں لیکن اُن کی یاد کو آنے سے تو روکا نہیں جاسکتا اور سامنے ہی نشست پر موجود اُن کی شریکِ سفر کلثوم نوازشریف کا پروقارچہرہ اُنہیں تھوڑی دیر کے لئے ماضی میں ضرور لے گیا ہوگا جب وہ تنہا اُن کی رہائی کے لئے مظاہرے کررہی تھیں اور ایک کرین نے اُن کی گاڑی کو اُس وقت اُٹھالیا تھا جب وہ خود بھی کار میں موجود تھیں…وزیراعظم کے برابر والی نشست پر ایک ایسا شخص براجمان تھا جو اُنہیں پانچ برس تک طنزیہ لہجے میں ”مولوی نواز شریف“ کہہ کر پکارتا رہا، جیل میں مچھروں سے ڈرنے والا کہہ کر اُن پر پھبتیاں کَستا رہا، اُن سے کئے گئے معاہدوں کا یہ کہہ کر مذاق اُڑاتا رہا کہ یہ قرآن و حدیث نہیں کہ جن کا میں پاس کروں، انتخابات میں کامیابی کے بعد مبارک باد دینے میں اِس ہستی نے کمال تساہل سے کام لیا، سلمان تاثیر جیسے بدزبان کو گورنر نامزد کر کے پنجاب پر مسلط کیا، عبدالرحمن ملک جیسے ”عالمی مسخرے“ کو وزیرِ داخلہ کا منصب دے کر حضوروالا نے دونوں بھائیوں کی کردار کشی میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور جس نے جان بوجھ کر حلف کی عبارتیں ایک ہی سانس میں اِس لئے لمبی لمبی ادا کیں تاکہ حلف برداری کی تقریب جلد از جلد اختتام پذیر ہوجائے…ایسے کینہ پرور کے ساتھ بیٹھناچہرے پر بھلاکہاں سے خوشی لاتا؟ اور غالباً اِسی وجہ سے میاں صاحب بڑے متفکر لگے…پھر سب ہی نے دیکھا کہ حلف کے فوراً بعد اُس شخص نے تو منتخب وزیراعظم کا ہاتھ بازو سے اُکھاڑنے میں کوئی کَسر ہی نہیں چھوڑی تھی…ایک گھنٹہ پہلے تک نیم بے ہوشی اور بعد میں بے سبب گرم جوشی! خبر رکھنے والے تو یہی کہتے ہیں کہ Dementiaکے مریضوں کو کم و بیش ایسی ہی کیفیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، وہ کچھ دیر کے لئے بھول جاتے ہیں کہ وہ کون اور کہاں ہیں اور پھر اچانک اُنہیں ایک جھٹکے سے یاد آجاتا ہے کہ وہ ”یہ ہیں اور یہاں ہیں“…

بہرحال ہونا تو یہ چاہئے کہ جس طرح سابقہ پارلیمینٹ نے اپنے ہی فارم ہاؤس میں مقید پرویز مشرف کے مواخذے کی تحریک پیش کر کے اُسے مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تھا بالکل اُسی طرح موجودہ صدر ، جو کہ مواخذے کے معاملے میں ہر لحاظ سے پورے اُترتے ہیں ،اِنہیں بھی یوں ہی ”اُتارنا“ چاہئے لیکن کیا کیجئے کہ پانچ برس قوم نے ”مفاہمت“ کی چھریوں سے لگائے گئے زخموں کو سہا اور اب ”مصلحت“کا خنجر باقی ماندہ مقامات پر گھاؤ لگانے کے لئے تیار ہے …قوم کے HonourکوGuardکرنے کے بجائے جس نے سوائے تکلیفوں کے اور کچھ نہ دیا اب وہ ایک دن بڑی شان اور Guard of Hounorکے ساتھ کنکریٹ کی دیواروں کے پیچھے قائم اپنے محل میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجائے گا…اخبارات کی سرخیاں چلائیں گی اورچینلز زور زور سے بولیں گے کہ ”انتقالِ اقتدار کا آخری مرحلہ بھی بخیروعافیت عمل میں آگیا اور ملک کو نیا صدر مل گیا“…مگر…میاں صاحب! اپنے اندر کے شیر کو تڑپ تڑپ کر مرنے نہ دیجئے گا!…

مشرف کو سزا اور اِن حضرت کا مواخذہ بہت ضروری ہے ،اِن کے دورِ اقتدار میں سیکڑوں لوگ جان کی بازی ہارے ہیں…حرفت مٹ گئی، معیشت تباہ ہوگئی، انصاف کی دھجیاں اُڑادی گئیں، عدالتوں کاتمسخر اُڑایاگیا، شرفاء نے سہمی سہمی سانسوں میں محبوس زندگی کو محسوس کیا، کئی گھرانے ختم ہو گئے اور لٹیروں نے بے بسوں پر راج کیا…کیا آپ مصلحت کے نام پر اِن دونوں کو جانے دیں گے ؟…کیا آپ بھی”قومی مفاد“ کے دولفظی سائبان کی آڑ لے کر منہ دوسری طرف کر لیں گے؟…آپ اپنے ہم وطنوں کے لہو کا حساب نہیں لیں گے؟…میاں صاحب! اعتماد، پیار اور تعلق عموماً مفت ہی میں مل جاتے ہیں لیکن اِن کی قیمت کا پتہ تب چلتا ہے جب یہ کہیں کھو جاتے ہیں، بس آپ سے گزارش ہے کہ اِنہیں کہیں کھونے نہ دیجئے گا…!!!
بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں