.

اگر ہو جذبہ تعمیر زندہ

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟ اس سوال کی روحانی و دینی تعبیر و تشریح میں تو شاید کوئی ابہام نہیں مگر سائنسی توجیہ اور مادی منطق چیستاں میں لپٹی پہیلی میں چھپا ایک ایسا معمہ ہے جسے انسان آج تک حل نہیں کر پایا۔ سائنسدانوں میں اس بات پر تو اتفاق ہے کہ یہ کائنات ایک بہت بڑے دھماکے کے نتیجے میں قائم ہوئی جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے،مگر فضا میں معلق مختلف ذرات کس طرح آپس میں جڑے اور وہ کونسی طاقت تھی جس نے نیوٹران اور پروٹان کو جوڑ کر ایٹم کی تخلیق کی،یہ گتھی سلجھائے نہیں سلجھ رہی تھی۔ہم بحیثیت مسلمان جس عمل کو ’’کُن فیکون‘‘ کہتے ہیں ،ماہرین طبعیات نے اسے تخلیقی خدائی عنصر یا ’’گاڈ پارٹیکل‘‘ کا نام دیا۔1960ء میں برطانوی سائنسدان پیٹر ہگس اور بیلجیم کے ماہر طبعیات Francois Englert نے ایک تھیوری پیش کی کہ اس کائنات کی تخلیق میں ایک سب اٹامک ذرے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جسے ہگس بوسون کا نام دیا گیا۔ جس طرح گلیو،فیوی کال یا ایلفی کا کام جوڑنا ہے اسی طرح اس خدائی ذرے نے ایٹم کے اجزاء کو مربوط کر کے مادہ کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اگر عامیانہ انداز میں بات کریں تو پروٹان اور نیوٹران دو اینٹیں ہیں جنہیں گاڈ پارٹیکل نے سیمنٹ کا کردار ادا کر کے جوڑ دیا۔ اگر یہ گاڈ پارٹیکل نہ ہوتا تو سب کچھ ہوا میں معلق رہتا اور ہماری دنیا معرض وجود میں نہ آتی۔ اس خدائی ذرے کا سراغ لگانے کیلئے یورپی تحقیقاتی ادارے (CERN) نے 2008ء میں ایک بہت بڑے منصوبے کا آغاز کیا جسے لارج ہیڈرون کولائیڈر (LHC) کا نام دیا گیا۔اس منصوبے کے تحت سوئٹرزلینڈ اور فرانس کی سرحد کے پاس جنیوا کے قریب ایک سرنگ کھودی گئی جو 174 فٹ گہری اور 27 کلو میٹر طویل ہے۔ دنیا کا مہنگا ترین تحقیقی منصوبہ جس پر 2012ء کے آخر تک 18 بلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہو چکی تھی، اس پر کام کرنے کے لئے 100 مختلف ممالک سے دس ہزار سائنسدان اور ٹیکنیشن جمع کئے گئے۔

اس منصوبے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا ڈی ٹیکٹر(CMS) Compact muon solenoid بنایا گیا جو 13000 ٹن وزنی ہے اور 330فٹ جگہ گھیرتا ہے۔ اس سرنگ میں سی ایم ایس جیسے چھ دیوہیکل ڈی ٹیکٹر لگائے گئے ہیں۔ اس سرنگ میں موجود ماہرین طبعیات کا ایک ہی مقصد تھاکہ ہر حال میں گاڈ پارٹیکل کا سراغ لگانا ہے۔یہ سائنسدان محدود پیمانے پر بگ بینگ جیسے دھماکے کرتے،اس مقصد کیلئے پروٹان کو روشنی کی رفتار سے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرایا جاتا اور اس دوران انتہائی حساس ڈی ٹیکٹرز کی مدد سے یہ نوٹ کیا جاتا کہ کوئی غیر مرئی طاقت انہیں جوڑتی ہے یا نہیں۔ ماہرین طبعیات کے مطابق گاڈ پارٹیکل کی تلاش کا کام اتنا ہی مشکل تھا جتنا کہ بھوسے کے ڈھیر سے کوئی سوئی تلاش کرنا مگر 4 جولائی 2012ء کو اس منصوبے سے وابستہ سائنسدانوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ بگ بینگ جیسے 1600ٹریلین دھماکوں کے بعد وہ گارڈ پارٹیکل کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر ہگس بوسون تھیوری کے خالق ڈاکٹر پیٹر ہگس بھی موجود تھے۔ فرط جذبات سے ان کی آنکھیں چھلک پڑیں کہ ان کے خواب کو ان کی زندگی میں ہی تعبیر مل گئی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ چاند پر انسان کے قدم رکھنے سے بھی زیادہ بڑی چھلانگ ہے۔ کچھ سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ الیکٹرون کی دریافت سے کہیں بڑا کارنامہ ہے اور بعض افراد کی دانست میں یہ کولمبس کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت سے بڑی کامیابی ہے۔اگرچہ سائنسی اعتبار سے اس تحقیق کو دریافت کا درجہ پانے کے لئے کچھ مزید مراحل طے کرنا ہوں گے مگر اب یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ گاڈ پارٹیکل ہی تشکیل کائنات کا جزو لاینفک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلجیئم اور برطانیہ کے دونوں ماہرین طبعیات کو نوبل انعام دیا گیا ہے۔

اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پا جانے والے ان قابل فخر انسانوں میں کئی گمنام سپاہی بھی ہیں۔ہمارے وہ دانشور جو اپنی قوم پر لعن طعن کو فرض منصبی سمجھتے ہیں اور یہ باور کرانے میں لگے رہتے ہیں کہ یہ معاشرہ بانجھ ہو چکا انہیں شاید یہ بات ہضم نہ ہو کہ اس کامیاب تحقیقی منصوبے میں پاکستانی سائنسدانوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ہمارے ملک سے 30 سائنسدانوں کو منتخب کیا گیا تھا۔ ان پاکستانی ہیروز نے نہ صرف تحقیقی عمل کو آگے بڑھایا بلکہ کالم کے آغاز میں میں نے جن دیوہیکل ڈی ٹیکٹرز کا ذکر کیا ہے وہ بھی پاکستانی ماہرین نے بنا کر دیئے۔ پاکستان نے اب تک لارج ہیڈرون کولائیڈر پروجیکٹ کے لئے جو سازوسامان تیار کر کے دیا ہے،اس سے پاکستان کو 10ملین ڈالر کا ریوینیو بھی حاصل ہوا ہے۔اس ضمن میں ایک اور قابل فخر کامیابی یہ ملی کہ پاکستان کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ کر CERNکی ایسوسی ایٹ ممبر شپ لینے میں کامیاب ہو گیا۔’’سرن‘‘ کی کونسل نے 15اکتوبر2013ء کو متفقہ طور پر ایسوسی ایٹ ممبر شپ کیلئے پاکستان کا نام منظور کر لیا اب محض رسمی کارروائی باقی ہے جس کے تحت ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن آئندہ سال فروری میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور ممبر شپ دے دی جائے گی۔سربیا،اسرائیل اور یوکرائن پہلے ہی ’’سرن‘‘ کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔ایک نشست بڑھانے کا فیصلہ ہوا تو بھارت اور چین سمیت کئی ممالک نے کوشش کی مگر پاکستانی ماہرین طبعیات کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز پاکستان کو دینے کا فیصلہ ہوا۔دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ اس ممبر شپ کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ پاکستان ہر سال 15ریسرچ اسکالر ’’سرن‘‘ بھجوا سکے گا جبکہ اس سے پہلے کسی بھی ریسرچ اسکالر کو وہاں بھیجنے کے لئے باضابطہ درخواست دینا پڑتی تھی۔

مکھیوں کی طرح رستے ہوئے زخموں پر بیٹھنے والے ان دانشوروں کے نزدیک شاید یہ کوئی غیر معمولی بات نہ ہو لیکن بھارت کو اس معاملے پر شدید خفت اٹھانا پڑی ہے۔اللہ کے فضل سے ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ارفع کریم رندھاوا،علی معین نوازش اور موسیٰ فیروز تارڑ اسی قوم کے جگمگاتے ستارے ہیں۔چناب نگر کی ایک بچی ستارہ بروج اکبر نے گیارہ سال کی عمر میں تین او لیولز کر کے ورلڈ ریکارڈ قائم کیا، اوکاڑہ کے عمار افضل نے اوریکل نائن کے علمی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، پشاور کے محمد حسین نے 3 منٹ میں 652 ککس لگا کر مارشل آرٹس میں تیز ترین ککس لگانے کا ریکارڈ بھارت سے چھین لیا۔ مایوسی کے سمندر میں امید کے جزیرے تو بہت ہیں مگر ناخدا ہی لٹیا ڈبونے پہ اُتر آئیں اور مایوسی پھیلانے والے دانشور بھی مل جائیں تو کشتی بھنور میں کیسے نہ پھنسے؟ اگر جاپانی، کوریائی اور چینی باشندے بھی مایوسی پھیلانے اور مورال گرانے والے ایسے دانشوروں کی باتوں میں آجاتے تو کبھی ترقی نہ کر پاتے۔ اُمید کے استعارے اور کامیابی کے اشارے تو بہت ہیں مگر یہ ہارے ہوئے دانشور احساس کمتری کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں تو پوری قوم کو مایوس کر جاتے ہیں ورنہ سچ تو یہ ہے کہ
اگر ہو جذبہ تعمیر زندہ تو پھرکس چیز کی ہم میں کمی ہے

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.