.

آنکھ جن کی ہوئی محکومی وتقلید سے کور

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلے دنوں دنیا بھر میں عالمی یومِ برداشت، یعنی Tolerance ڈے منایا گیا۔ اپنے ہاں بھی اس کی خوب چرچا ہوئی۔ امریکہ بہادر جو ایسے ’’اچھے اچھے‘‘ دنوں کی تخلیق اور درآمد میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، یہ دن بھی دنیا بھر کو بھیجا جانے والا اس کا ’’تحفہ‘‘ تھا۔ جس کے بعد عرب و عجم کے معاشرے کتنا تبدیل ہوئے۔۔۔ ان میں رواداری اور قوتِ برداشت پیدا ہوئی یا نہیں، اس کی تو خبر نہیں البتہ عرب و عجم کے معاشروں میں اوّل اوّل اپنی تہذیب کے ذریعے انسانوں میں انتشار پیدا کرنے اور بعد میں ان پر کارپٹ بمبنگ کرنے، ڈرون برسانے اور بابل و نینوا کی تہذیب و تاریخ پامال کرنے میں اپنا خاص کردار رکھنے والا امریکہ اس ضمن میں ایک چہرہ یہ بھی رکھتا ہے کہ جب افغانستان میں اس کے جہاز ٹنوں بارود برسا رہے تھے تو ایک جانب اس کے جہاز کٹے پھٹے برباد افغانوں پر خوراک کے تھیلے برسا رہے تھے، جن پر سابقہ صدر بش نے افغان ماؤں کو معذرت کے پیغام لکھ بھیجے تھے۔ ایسے ہی پیغام چنگیز خان ثانی نے بغداد کی ماؤں کوبھی خوراک کے تھیلوں پر لکھ کر بھجوائے تھے اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکا تھا اور ایسے ہی پیغام الانبار، کوبانی اور شام کو داعش کی سرکوبی کے نام پر امریکہ اس وقت بھجوا رہا ہے جبکہ دنیا بھر کی اقوام سے کوئی مڑ کر اس سے یہ پوچھنے کی جرأت نہیں کر رہا کہ داعش کی تخلیق اور اسے دنیائے عرب پر مسلط کرنے والی ذات شریف کون ہے؟ داعش کو تھپکیاں دینے اور دنیائے اسلام کو اس کے ذریعے بدنام و رسوا کرنے والے امریکہ کو اب اس کی سرکوبی کی مہم کیونکر درپیش ہو گئی؟ یہ ماجرا کیا ہے؟۔

پہلے بیماری پیدا کرنے اور بعدازاں جیب سے شفا کی پڑیا نکال کر پیش کرنے اورمریض کی زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے والے امریکہ کی تاریخ ایسے ہی کارناموں سے بھری ہے جو اس وقت دنیا پر واحد سپر طاقت کی پہچان رکھتا ہے۔ اس کے بے شمار چہروں میں سے ایک ظاہری چہرہ انسانی حقوق کے علمبردار کا بھی ہے۔ جو کبھی ماؤں کا دن، کبھی خواتین کا، کبھی مزدوروں اور بچوں کا، کبھی محبت کرنے والوں کا اور کبھی زمین کی حرمت اور اس پررہنے والے جانداروں کے دن، تھرڈ ورلڈ کو تحفتاً بھیج کر دنیا کے سامنے اپنی رواداری اور برداشت کی مثالیں پیش کرتا رہتا ہے اور ہم اس کے اصل مکروہ چہرے کو بھول کر اس کا یہ نرم و نازک روپ اُچک کر دیکھتے ہیں اوراس کے گن گانے لگتے ہیں۔ علامہؒ صاحب یاد آتے ہیں:

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق اُن کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور

علامہؒ صاحب کا دن اک رسمی تہوار کی طرح منا کر قوم پچھلے دنوں فارغ ہوئی ہے اور ان کے افکار سے آج بھی اتنی بے بہرہ ہے جتنی کہ کبھی تھی۔۔۔ ان کا سارا کلام، خطابات اور افکار اسی غلامی و محکومی کے اسباق پر مشتمل تھے۔ جسے وہ مرگِ خودی کا نام دیتے تھے، اُسی مری ہوئی خودی کو جگانے کی کوشش میں ان کی عمر تمام ہوئی مگر ہم کہ خوئے غلامی ہماری روح کی پہچان ٹھہری، ہم نے اُن کی تمام تر سعی کی برابر نفی کی، ان کا دن اک تہوار کی طرح منایا، ان کا کلام موزوں کیا، اس سے حِظ اٹھایا مگر اس سے وہ پیغام اخذ نہ کیا، جس کی خاطر وہ تمام عمر یہ فرماتے رہے ’’اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں۔ سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر ‘‘اور ’’میرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے ۔ خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر‘‘۔عالمی یومِ برداشت،اس جنون پسندی اور عدم برداشت کے شاہکار معاشرے نے ہاتھوں ہاتھ وصول کیا، امریکہ اور اس کے بھیجے ہوئے ’’پرتقدس‘‘ تحفے کے ایسے گن گائے، جیسے یہ چیز ان کے لئے نئی ہو اور وہ اس سے قبل برداشت ، رواداری اور باہمی حسن اتفاق کے معانی تک سے ناواقف ہوں، جسے دیکھ کر غلامی و محکومی کے نسلوں پر پڑنے والے بداثرات اور روحوں میں سرایت کر جانے والی بے عمل اور بے تدبیری کا احساس شدید ہو گیا۔۔۔ اور ہم اور ہمارا معاشرہ اس وقت زوال کی کن گھاٹیوں اور پستیوں پر تیزی سے لڑکھتا ہوا جا رہا ہے، اس کا اندازہ بھی خوب ہو گیا۔

شاید ہم اور ہمارا معاشرہ نِسیاں کے مرض میں بری طرح گرفتار ہو چکے ہیں ورنہ ہمیں کیونکر یاد نہ رہتا کہ اس معاشرے کی گھٹی میں برداشت اور رواداری بدرجۂ اتم موجود تھی۔ کبھی یہ معاشرہ، معاشرتی اقدار، اصول پسندی، باہمی اتفاق، رواداری اور حسنِ برداشت کا اک نمونہ تھا۔ جس میں کئی قومیں اور مذاہب مل کر رہتے تھے۔ 1947ء سے پہلے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، کیا ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتنے فسادات، خونریزی، جھگڑے اور قتل و غارت گری کہیں دکھائی دیتی ہے جتنی کہ اس وقت مملکت اسلامیہ کے اسلامی معاشرے کا حصہ ہے۔ پہلے توہینِ رسالتؐ کا مجرم صرف اک ہندو ملعون تھا، اب جگہ جگہ کلمہ گوؤں پر یہ الزام لگ رہا ہے، ہماری جیلیں ایسے مرد و زن سے بھری پڑی ہیں جو اس الزام کے تحت سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ اس ضمن میں مسیحی برادری پر ہونے والے ظلم کو دیکھیں تو وہ مخلوط معاشرہ جنت کا گہوارہ دکھائی دیتا ہے، جس میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی،پارسی اور دیگر اقوام مل جل کر رہتی تھیں۔

وہ معاشرہ جس میں برداشت اور رواداری باہر سے درآمدکرنے کی ہرگز ضرورت نہ تھی، ماؤں بہنوں کی عزت، بیٹیوں کی حرمت، بزرگوں کی عزت، مسجد کے احترام، مولوی کی عزت، علمائے دین کے احترام سمیت ہمسایوں اور محلہ داروں سے حسنِ سلوک میں اپنی خاص پہچان رکھتا تھا۔ اس معاشرے میں مسافروں کی میزبانی سے لے کر عام ریڑھی بانوں اور مزدوروں تک سے حسنِ سلوک کے آداب موجود تھے۔ جنہیں مادہ پرستی اور نمودونمائش جیسی ان گنت برائیوں کو مغرب سے درآمد کر کے آہستہ آہستہ ختم کیا گیا۔

اس کے بعد اس معاشرے کا حال یہ ہے کہ بچے ماؤں کی شکلوں سے بیزار ہیں اور ماں باپ بچوں کی نفرت سے بچنے کی کوشش میں ایسی دفاعی پوزیشن پر دکھائی دیتے ہیں جنہیں دیکھ کر اس معاشرے کی اخلاقی پستی کا احساس دوچند ہونے لگتا ہے۔ ہر شخص اپنی ذات کے خول میں بند اور اپنے اپنے مفادات کا اسیر۔ کسی کو کسی زندہ مردہ کی پروا نہ ضرورت۔ قتل اور خونریزی اس معاشرے میں رہنے والوں کا معمول بن چکی ہے۔ روزانہ کے اخبارات میں رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ، ذات برادری، مسلک، فرقے اور ذاتی رنجشوں کی بنا پر ہونے والے سانحات کی تفصیل دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم سب اس سے واقف ہیں۔ عدم برداشت، تنگ نظری اور مادیت پرستی نے اس معاشرے کا چہرہ اتنا بگاڑ دیا ہے کہ اب باقاعدہ انسانوں سے خوف آتا ہے۔ قرآن کہتا ہے ’’انسان بہت جھگڑالو ہے‘‘۔ اسی وجہ سے اس پر پیغمبر اور رسول اتارے گئے کہ مذہب ہی وہ واحد طاقت ہے جو اس جھگڑالو کو وہ انسان بنانے کی قوت رکھتی ہے جو زمین پر خدا کا نائب کہلانے کا حقدار ہو۔ مگر کیا مذہب اپنا یہ کردار ادا کر رہا ہے؟ اور قانون جو اس جھگڑالو کو نکیل ڈالتا ، کیا کہیں موجود ہے؟ اگر نہیں تو پھر امریکہ کا یہ ’’تحفہ‘‘ اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ خود اس کا عرب و عجم میں کردار۔ مجھے کہنے دیجئے، ہمیں اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے، جو پینٹاگون ہرگز بھی نہیں ہو سکتا!!!۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.