پلان ’’سی‘‘ اور پورس کے ہاتھی
کپتان کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتے رہے ہیں۔یہ بات سچ ہے یا جھوٹ ،خدا ہی بہتر جانتا ہے مگر کپتان کی حکمت عملی مجھے سمجھ آ گئی ہے ۔اگر امپائر سے ساز باز نہ ہو تو کپتان مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو ساتھ ملا کر کھیلتا ہے اور عین وقت پر میچ کا پانسا پلٹ دیتا ہے۔اب دیکھئے ناں ،فیصل آباد میں گھمسان کا رن پڑنے سے پہلے آپ کی طرح میرا بھی یہی خیال تھا کہ مسلم لیگ کے فیصل آبادی لیڈر نواز شریف الیون کی طرف سے کھیل رہے ہیں مگر مخالف ٹیم کے لئے انہوں نے جس طرح کی پچ تیار کی ،جیسی شاٹ گیندیں کرائیں اور جس طرح یہ میچ جیتنے میں عمران خان الیون کی مدد کی اسے دیکھ کر یہ راز منکشف ہوا کہ وہ بھی عمران خان کی طرف سے کھیل رہے تھے۔آپ نے راجہ پورس کے ہاتھیوں کے بارے میں پڑھا ہو گا؟جہلم کے راجہ پورس نے سکندر اعظم سے مقابلہ کرنے کے لئے ہاتھیوں کی ایک فوج تیار کی مگر عین حالت جنگ میں یہ ہاتھی بد حواس ہو کر پلٹے اور انہوں نے اپنے ہی لشکر کو روند ڈالا ۔اگر آپ پورس کے ہاتھیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تو ملول ہونے کی ضرورت نہیں ،8 دسمبر کو فیصل آباد میں نواز شریف کے ہاتھیوں یعنی ساتھیوں نے جو کیا برسہا برس قبل پورس کے ہاتھیوں نے بھی اس کے ساتھ یہی کچھ کیا تھا۔ میاں صاحب نے جس طرح کے افلاطون، ارسطو ،بقراط اور جالینوس جمع کر رکھے ہیں اگر کرائسز منیجمنٹ کے لئے انہی کی عقل و دانش پر اکتفا کیا جائے گا تو یہی کچھ ہو گا اور اگر فیصل آباد کے بعد لاہور کو بچانے کی حکمت عملی بھی یہی ہے تو بہتر ہو گا کہ خادم اعلیٰ پنجاب مزاحمت کرنے کے بجائے غرناطہ کے حاکم ابو عبداللہ کی طرح شہر کی کنجیاں کسی فرڈ ی نینڈ کے حوالے کر کے چپ چاپ رائیونڈ چلے جائیں اور اپنی بد قسمتی پر جس قدر چاہیں آنسو بہائیں۔
برطانیہ کے معروف حکمران سر ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ سیاست کا عمل قریباً جنگ کی مانند نہ صرف ولولہ انگیز ہے بلکہ اس کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے۔جنگ و جدل کے دوران انسان صرف ایک بار مرتا ہے اور رزق خاک ہو جاتا ہے مگر سیاست میں کئی بار موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہمارے ملک میں بھی گزشتہ کئی ماہ سے ایک ایسی سیاسی جنگ لڑی جا رہی ہے جس نے نئے قوانین اور نئے ضابطے متعارف کرائے ہیں۔ اس جنگ میں کبھی کسی فریق کا پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کبھی کوئی فریق غالب دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر تو اس جنگ کے دو اہم فریق حزب اقتدار اور حزب اختلاف ہیں یا یوں کہئے کہ نواز شریف اور عمران خان ہیں مگر اس لڑائی کے اصل فریق کوئی اور ہیں ۔طاہر القادری کا دھرنا ختم ہونے کے بعد حکومت کے خلاف تحریک بے جان ہو چکی تھی اور جب 30 نومبر کے جلسے سے بھی کسی جوار بھاٹا نے جنم نہ لیا تو یوں محسوس ہوا کہ سونامی کا خطرہ ٹل چکا ہے ۔میں نے پہلے بھی اپنے کالم میں اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا کہ عمران خان کا پلان ’’سی‘‘ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف کی صفوں میں بھی سراسیمگی کا عالم تھا اور کپتان کے اعلان کے مطابق پاکستان کو بند کرنے کی بات مذاق بن چکی تھی۔
لیکن اس مشکل وقت میں رانا ثناء اللہ،عابد شیر علی ،طلال چوہدری اور پرویز رشیدجیسے لوگ تحریک انصاف کے لئے مسیحا بن کر سامنے آئے اور نہ صرف فیصل آباد کو بند کرنے کا منصوبہ مکمل کرایا بلکہ حکومت کے خلاف تحریک میں نئی جان بھی ڈال دی۔رات گئے لاہور میں پی ٹی آئی کے چند مقامی رہنمائوں سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ انہوں نے علی الصبح فیصل آباد روانہ ہوناہے اور وہاں نشاط چوک بند کرنے کا ٹاسک انہیں دیا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ فیصل آباد میں تحریک انصاف کے مقامی کارکن یہ فرض ادا کرنے کو تیار نہ تھے۔مگر ان تمام انتظامات کے باوجود صبح 11 بجے تک شہر میں کوئی غیر معمولی صورتحال دکھائی نہ دی۔
گھنٹہ گھر چوک میں تحریک انصاف کے دو تین سو کارکن موجود تھے اور پورے شہر میں نہ صرف ٹریفک کا پہیہ رواں دواں تھا بلکہ بازاروں میں کاروبار بھی معمول کے مطابق ہو رہا تھا۔
اگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت ہوش کے ناخن لیتی اور اپنے کارکنوں کو جمع کر کے تصادم کی فضاء پیدا نہ کرتی تو ہڑتال کی یہ کال بری طرح ناکام ہوتی اور شہر ٹس سے مس نہ ہوتا کیونکہ یہاں بہر حال مسلم لیگ (ن) کی واضح حمایت موجود ہے اور کاروباری طبقہ کبھی بھی شٹر ڈائون کے حق میں نہیں ہوتا خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے کیوں نہ ہو۔لیکن جب دونوں طرف ڈنڈہ بردار جتھے جمع ہو گئے تو تصادم ہونا یقینی بات تھی۔اس تصادم کے نتیجے میں ایک نوجوان حق نواز گولیاں لگنے سے جاںبحق ہو گیا تو یہ خبر جنگل میں آگ کی مانند پھیل گئی اور یوں پشاور اور لاہور سمیت کئی شہروں میں احتجاج شروع ہو گیا۔ یہ نوجوان کون تھا؟ تحریک انصاف کا کارکن تھا یا پھر کوئی راہگیر ؟وہ کس کی گولی سے مارا گیا؟ میرے خیال میں ان سوالات سے متعلق حکومتی وضاحتیں اور صفائیاں کسی کام نہیں آئیں گی۔
تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کو ایک لاش درکار تھی جو فراہم ہو گئی۔چونکہ اس لاش نے احتجاجی سیاست کے مردے کو نئی زندگی بخش دی ہے اس لئے اب اگلا مرحلہ خاصا مشکل ہو گا۔نئے پاکستان کے خواہشمند تو بھنگڑے ڈال کر اس لاش کا بھی جشن مناتے رہے لیکن وہ بد قسمت والدین جن سے ان کا نوجوان بیٹا ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا ان کے لئے تو شاید پرانا پاکستان ہی بہتر تھا جس میں ان کا بیٹا تو ان کے ساتھ تھا۔فیصل آباد میں اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوانے کے بعد عمران خان کو کسی اتالیق کی ضرورت تو نہیں لیکن پھر بھی اگر وہ عروس البلاد کو بند کرانے کے لئے کسی ’’استاد کامل ‘‘سے کچھ ٹپس لے لیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اس شہر کوبند کرانے کا الگ فارمولا ہے۔
عمران خان کو کراچی میں رانا ثناء اللہ، عابد شیر علی اور طلال چوہدری جیسے مددگار تو دستیاب نہیں ہوں گے البتہ وہ چاہیں تو ایسے افراد کی خدمات حاصل کر سکتے ہیںجوکسی راہگیر ،کسی خوانچہ فروش یا عام دکاندار کو ٹھوک ڈالیں تاکہ انہیں پارٹی پرچم میں لپیٹ کر دفنانے کے بعد شہداء کی تعداد بڑھائی جا سکے۔ اگر کوئی لاری سڑک پر نظر آئے تو یہ افراد ڈرائیور، کنڈکٹر اور مسافروں سمیت اسے یوں نذر آتش کر دیں کہ پھر کسی کو باہر نکلنے کی جرات نہ ہو اور شہر سائیں سائیں کرتا رہے۔شہر کو بند کرنے کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ میڈیا کو پر مارنے کی اجازت نہ ہو اور پولیس یوں غائب ہو جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔بہر حال پلان ’’سی‘‘کامیاب ہو یا ناکام،کپتان وفاقی و پنجاب حکومت کے ماتھے پر ’’سی‘‘ لکھنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ رسوائی و جگ ہنسائی کے بعد تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے کا اعلان کر کے حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سو پیاز اور سو جوتے کھانے کی پالیسی ترک کرنے کو تیار نہیں۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘