کیا سعودی عرب ایک نئی خارجہ پالیسی اختیار کرے گا؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ سعودی عرب جزوی یا مکمل طور پر ایک مختلف خارجہ پالیسی اختیار کرنے جا رہا ہے۔سعودی پالیسی بالعموم پتھر کے دور سے تعلق رکھتی ہے حالانکہ سعودی مملکت کے اردگرد دنیا بہت بدل چکی ہے۔اس لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس مملکت کی پالیسی غیرمتبدل ہی رہے۔خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایک نئی قیادت موجود ہے۔

درحقیقت شاہ کو حتمی فیصلے کا اختیار ہے۔میرے خیال میں جہاں تک ہمیں علم ہے۔سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں اہم ایشوز سے متعلق کوئی ڈرامائی تبدیلیوں کا امکان نہیں ہے اور یہ ریاست کے اندر فیصلہ سازی کے عمل کی نوعیت کی وجہ سے ہوگا۔سب سے اہم بات یہ کہ بڑے ایشوز اس ملک کے اعلیٰ تر مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب لیبیا میں معمر قذافی ،یمن میں علی عبداللہ صالح اور عراق میں صدام حسین کی مطلق العنان آمریتوں کی طرح نہیں ہے یا وہ ایسے ہی دوسرے حکمرانوں ایسا نہیں ہے جو اپنی ذاتی خواہشات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

الریاض میں حاکمیت (گورننگ) کا ایک ادارہ موجود ہے۔اس کی فیصلہ سازی کی اپنی روایات ہیں۔بادشاہ ریاست کا سربراہ اور حتمی فیصلہ ساز ہے۔تاہم فیصلہ سازی کا عمل طویل ہے اور اس میں ایک سے زیادہ حکومتی پارٹیاں حصہ لیتی ہیں۔ایسے فیصلوں میں سب سے مشہور شاہ فہد مرحوم (اللہ ان پر رحم فرمائے) کا کویت کی آزادی کی جنگ میں شمولیت اور امریکی فوجیوں کے لیے اڈے دینے کا فیصلہ تھا۔بطور شاہ بظاہر تو یہ ان کا فیصلہ تھا۔ تاہم انھوں نے یہ فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا تھا جب تک کہ انھوں نے مختلف وزارتوں اور حکمران خاندان کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ مشاورت مکمل نہیں کر لی تھی۔انھوں نے یہ تحریری ضمانت بھی لی تھی کہ وہ جب چاہیں گے سعودی سرزمین سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا مطالبہ کرسکیں گے۔

یہ بالکل اسی انداز میں کیا گیا تھا جس طرح کہ دوسرے بہت سے فیصلے کیے جاتے ہیں۔میں یہاں ان فیصلوں کا حوالہ دے رہا ہوں جن کے نمایاں داخلی یا خارجہ مضمرات رہے ہیں۔یہ فیصلے طویل غوروخوض اور عمل کے بعد کیے گئے تھے اور پھر جا کر شاہ نے ان پر دستخط کیے تھے اور ان کی منظوری دی تھی۔یہی وجہ ہے کہ میڈیا سعودی عرب کو یہ کَہ کر تنقید کا نشانہ بناتا رہتا ہے کہ اس کا فیصلہ سازی کا عمل بہت سست رفتار ہے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز اقتدار سنبھالنے کے بعد خارجہ امور سے متعلق حتمی فیصلہ ساز بن گئے ہیں۔ہمیں انتظار کرنا اور دیکھنا چاہیے۔تاہم میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر تبدیلیاں ہوتی بھی ہیں تو وہ بہت معمولی ہوں گی کیونکہ سعودی عرب کے نئَے بادشاہ گذشتہ دور میں خود فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ رہے ہیں۔وہ محض گورنر الریاض کی حیثیت میں اس عمل کا حصہ نہیں تھے بلکہ وہ 1960ء کی دہائی سے نظام حکمرانی کا ایک ستون رہے تھے۔وہ اہم فیصلوں کے لیے زمین ہموار کرنے والی سپریم کیمٹیوں کے رکن رہے تھے۔اس لیے ہم یہ گمان کررہے ہیں کہ وہ خارجہ ایشوز سے متعلق تمام تفصیل جانتے ہیں اور وہ ان اساسوں سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جن کے تحت ماضی میں فیصلے کیے جاتے رہے ہیں۔نئے شاہ دراصل خود گذشتہ قریباً پانچ عشروں سے خارجہ سیاسی امور سے ذاتی طور پر متعلق رہے ہیں۔

ایسے بہت سے خارجہ امور ہیں جن پر سیاست دان گہری نظر رکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ شاہ سلمان سعودی عرب کے پہلے بادشاہ ہیں جو بہت ہی سنجیدہ اور سنگین علاقائی اور عالمی چیلنجز اور ایشوز کے ساتھ اپنا اقتدار شروع کررہے ہیں۔انھیں ان تمام امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہوگی اور محض وزارتوں اور اداروں کے اندر افسرشاہی نظام کی ان امور پر توجہ کافی نہیں ہوگی۔ان بڑے ایشوز میں شامی بحران، بغداد حکومت اور عراق کے باقی کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات ،دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) اور اسی طرح کے دوسرے گروپ، جن سے مملکت کی شمالی سرحدوں کو خطرات لاحق ہیں۔ان کے علاوہ یمن کا بحران سعودی عرب کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا سبب ہے اور یہ ہمسایہ ملک 1960ء کے عشرے میں امامت کے خاتمے کے بعد اب پہلی مرتبہ ایک سنگین بحران سے دوچار ہے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب کے لیے ایران کی جانب سے اس کے گرد جنوب اور شمال میں توسیع پسندانہ منصوبے پر عمل درآمد بھی ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔عراق سے یمن اور بحرین تک سعودی عرب کے لیے چیلنج ہی چینلج ہیں۔ان سب پر مستزاد سنی مسلمانوں کی جماعت اخوان المسلمون ہے جو مصر میں ناکامی کے باوجود خطے میں ایک متحارب متوازی نظام قائم کرنا چاہتی ہے اور خلیج میں اس کو کریک ڈاؤن کا سامنا رہا ہے۔

ان کے علاوہ بھی ایشوز ہیں۔مثال کے طور پر لیبی اور ترک ہیں۔ان کا براہ راست خطے کی سکیورٹی سے تعلق ہے۔ایک اور بڑا چیلنج امریکا کی ایران سے متعلق خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور اس کی جانب جھکاؤ ہے۔ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعے پر مصالحت کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ مصالحت خلیجی ممالک کی قیمت پر کی جارہی ہے۔خاص طور پر امریکا کے سیاسی فیصلہ سازی کے عمل میں تیل کی اہمیت گھٹ گئی ہے۔واشنگٹن کے ساتھ مختلف سطحوں پر تعلقات سعودی عرب کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں مگر امریکا کی جانب سے عراق پر چڑھائی کے بعد یہ تعلقات کمزور ہوئے ہیں۔شاید امریکی صدر براک اوباما کا ایک بھاری بھرکم وفد کے ہمراہ حالیہ دورہ شاہ سلمان کے دور حکومت کے آغاز کے موقع پر ایک اچھا پیغام تھا۔

ہمیں اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ سعودی شاہ کا جن امور سے پالا پڑے گا،ان میں خلیجی ممالک کے درمیان باہمی تعلقات بھی سرفہرست ہیں۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان بعض امور پر معمولی اختلافات کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور ان میں بالواسطہ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔جہاں تک مصر کا تعلق ہے تو میرے خیال میں اس کے حوالے سے سعودی عرب نے ایک ٹھوس موقف اختیار کیا ہے۔شاہ سلمان دوسروں کے مقابلے میں مصر سے زیادہ باخبر ہیں۔وہ جمال عبد الناصر ،انور السادات اور حسنی مبارک کے ادوار صدارت سے مصر کو زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔

مسلم دنیا کی قیادت اور انتہا پسندی سے اسلام کے تحفظ اور مسلمانوں کے مخالف طاقتوں سے بچاؤ کے ضمن میں بھی سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے بعض سیاسی اور دانشورانہ مسائل ہیں۔بعض دوسری طاقتیں اس پوزیشن کے لیے سعودی عرب سے مسابقت کی دوڑ میں شامل ہیں۔

کشتی کیسے پار لگے گی؟اب کمان نئے کپتان کے ہاتھ میں ہے۔یہ شاید سعودی عرب کے لیے اپنے موقف کو تبدیل کرنے کا موقع ہو لیکن بعض ممالک اور غیرملکی فریقوں کے لیے بھی نئے شاہ کی جانب ہاتھ بڑھانے اور ایک نیا دور شروع کرنے کا موقع ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں