.

گندہ ہے پر دھندہ ہے!!!

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلم اسٹار عامر خان بالی ووڈ میں مسٹر پرفیکشنسٹ کہلاتے ہیں کیونکہ وہ بہت تدبر اور تفکر کے بعد فلم بناتے ہیں۔’’راجہ ہندوستانی ‘‘سے مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے والے عامر خان نے اپنے کمالِ فن کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنانے کا تہیہ کیا تو 2001ء میں اپنی پروڈکشن کمپنی بنا ئی۔

ان کی پہلی تخلیق ’’لگان‘‘ تھی جس نے برصغیر پر برطانوی راج کے دوران استعمار کی سوچ کو بے نقاب کیا۔ اس کے بعد بھی کامیابی نے ان کے قدم چومے اور رنگ دے بسنتی، پیپلی لائیو، تارے زمین پر، فناء، تھری ایڈیٹس اور دھوم تھری نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ مگر ان کی حالیہ فلم ’’پی کے‘‘ نے بھارتی فلم انڈسٹری کی تاریخ میں سب سے سپر ہٹ فلم کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ اس فلم کا مرکزی خیال عامر خان نے مولانا طارق جمیل سے مستعار لیا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ بات درست ہو مگر عامرخان خود بھی ایک علمی و فکری گھرانے کا چشم و چراغ ہے اور اس کا تعلق برصغیر کے معروف اسکالر مولانا ابو الکلام آزاد سے ہے۔ اس فلم میں عامر خان نے ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا ہے جس کا تعلق کسی اور سیارے سے ہے، اس کا وہ ریموٹ جس سے اس نے واپس اپنے سیارے پر جانا ہوتا ہے، چھین لیا جاتا ہے اور اس کی تلاش میں وہ دنیا پر مارا مارا پھرتا ہے اور دربدر کی خاک چھانتا رہتا ہے۔ وہ جہاں بھی جاتا ہے ایک ہی بات کانوں میں گونجتی ہے کہ اب تو بھگوان ہی کچھ کر سکتا ہے۔ چنانچہ وہ بھگوان کی تلاش میں ایک مندر سے ملحق دکان پر جاتا ہے اور کہتا ہے ایک بھگوان دیدو۔ دکاندار حسب معمول پوچھتا ہے، کونسے والا بھگوان، 20 والا، 100 والا یا 500 والا؟ پی کے یعنی عامر خان حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ ان میں فرق کیا ہے ؟ دکاندار بے اعتنائی سے جواب دیتا ہے کہ بس سائز کا فرق ہے ۔بہر حال وہ ایک ساشا شائز بھگوان لیکر چلا جاتا ہے اور مندر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے ،بھگوان بہت بھوک لگی ہے ،کھانے کے لئے کچھ دیدو۔اتفاقاً ایک عورت اس کے ہاتھ پر کھانے کی کوئی چیز رکھ دیتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ بھگوان کی دین ہے۔مگر جب وہ اپنے ریموٹ کیلئے گڑگڑاتا ہے تو کوئی جواب موصول نہیں ہوتا ۔وہ سمجھتا ہے کہ شاید بھگوان کی بیٹری ختم ہو گئی ہے۔وہ دکاندار کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ یا تو اس کی بیٹری ختم ہو گئی ہے یا پھر تم نے مجھے ناقص پیس دے دیا ہے۔وہ دکاندار ترنت جواب دیتا ہے کہ ہم ناقص پیس نہیں بناتے ۔اس بار عامر خان کو حیرت کا شدید جھٹکا لگتا ہے اور وہ پوچھتا ہے کہ بھگوان نے تمہیں بنایا یا تم نے اسے بنایا ۔وہ دکان دار وضاحت کرتا ہے کہ بھگوان نے تو ہم سب کو بنایا ہے مگر ہم اس کی مورت بناتے ہیں تاکہ اس کی عبادت کر سکیں ۔عامر خان ایک اور سوال داغ دیتا ہے کہ بھگوان ہماری بات سنتا کیسے ہے،اس مورتی میں کوئی ٹرانسمیٹر لگا ہوتا ہے کیا؟دکاندار جھلا کر کہتا ہے کہ نہیں، بھگوان کو سننے کے لئے کسی ٹرانسمیٹر کی ضرورت نہیں۔ اس پر عامر خان یہ اعتراض اٹھاتا ہے کہ جب بھگوان کسی ٹرانسمیٹر کے بغیر ہی سن لیتا ہے تو پھر یہ مورتیاں کیوں بناتے ہو؟ وہ دکاندار عاجز آ کر منہ اس کے کان کے قریب کرتا ہے اور آہستگی سے کہتا ہے "ابے دھندہ بند کرائے گا کیا ....؟؟" اس دوران عامر خان سچ کے متلاشی کی حیثیت سے مندر، مسجد، امام بارگاہ، چرچ اور گردوارے سمیت تمام مذاہب سے منسلک عبادت گاہوں پر جا کر دہائی دیتا ہے مگر کوئی صورت بر نہیں آتی۔اس تگ و دو کے دوران اسے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب کے نام پر پنڈت،مولوی،گرو،راہب اور دیگر مذہبی پیشوا لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں اور سب نے اپنی اپنی دکانیں سجا رکھی ہیں۔ چنانچہ وہ رانگ نمبر کی اصطلاح متعارف کرواتا ہے اور بتاتا ہے کہ جو مذہبی پیشوا عقیدے کے نام پر کھلواڑ کر رہے ہیں، وہ سب رانگ نمبر ہیں۔ یک ہندو پنڈت تپسمی جی جو بھگوان سے براہ راست بات کرانے کا دعوے دار ہوتا ہے اس کے پاس ایک شخص آ کر کہتا ہے کہ میری بیوی مفلوج ہے، بھگوان سے پوچھ کر بتائیں کہ اس کا علاج کیسے ہو سکتا ہے۔ پنڈت کہتا ہے کہ ہمالیہ میں رادھان گلیشئر کے پاس ایک مندر ہے جہاں تک پہنچنے کے لئے آٹھ دن کا دشوار گزار راستہ طے کرنا پڑے گا۔ وہاں جا کر ماتھا ٹیک آئو تو شاید تمہاری بیوی ٹھیک ہو جائے۔ اس دوران عامر خان کھڑا ہو کر سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم سب خدا کے بچے ہیں؟ پنڈت اثبات میں جواب دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ تم نے رانگ نمبر پر کال کی ہے۔ اگر ہمارا بچہ تکلیف میں ہو اور وہ ہمارے پاس آئے تو ہم کیا کہیں گے کہ اتنے کلومیٹر دور فلاں شہر میں ہمارا ایک اور گھر ہے، وہاں آ کراپنا یہی مسئلہ پھر سے بیان کرو تو ہم تمہاری تکلیف دور کر دیں گے؟

جب فلم کے آخر میں مباحثے کے دوران وہی پنڈت کہتا ہے کہ ہم اپنے بھگوان کی حفاظت کریں گے تو عامر خان کہتا ہے، اس کائنات میں کتنے ہی جہان آباد ہیں اور تم ایک چھوٹے سے سیارے کے ایک چھوٹے سے شہر کی چھوٹی سی گلی میں بیٹھ کر کہتے ہو کہ کائنات تخلیق کرنے والے کی حفاظت کرو گے؟ اسے تمہاری حفاظت کی حاجت نہیں۔ اس دوران وہ ایک اور سوال یہ اٹھاتا ہے کہ اگر مذہب کی تفریق خدا کی طرف سے ہے تو اس نے سب انسانوں کے جسم پر کوئی ٹھپہ کیوں نہیں لگایا تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون ہندو ہے، کون عیسائی، کون سکھ، کون یہودی اور کون مسلمان؟ فلم کا نچوڑ یہ ہے کہ جب تک انسان اپنے اپنے بھگوان کی حفاظت کرتے رہیں گے، دنیا امن کا گہوارہ نہیں بن پائے گی۔ آخر میں اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ اگر یہ سب رانگ نمبر ہیں تو تم ہی بتا دو کہ آخر رائٹ نمبر کیا ہے؟ اس سوال پر عامر خان کہتا ہے کہ جس خدا کو ہم سب نے بنایا، وہ ہماری طرح جھوٹا، دغاباز، ظالم اور خود غرض ہے، اس کی عبادت نہ کرو بلکہ اس خدا کے پیچھے چلو جس نے ہم سب کو بنایا۔ اگرچہ اس فلم میں ہندو ازم کو بے نقاب کیا گیا ہے مگر سچ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی مذہب ،عقیدے اور مسلک کے نام پر بہت سی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ہر ایک نے چند مقدس و معتبر ناموں کے جملہ حقوق اپنے نام رجسٹر کروا رکھے ہیں اور ان کی حفاظت کے نام پر انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ کوئی پوچھے ارے صاحب! جس مسلک پر اتنا بھائو کھاتے، اِتراتے اور لاشیں گراتے ہو، اس کا ٹھپہ کہاں ہے؟سب جانتے ہیں کہ یہ دھندہ کس قدر گندہ اور پراگندہ ہے مگر اس کے باوجود تفریق ختم کرنے کو تیار نہیں کیونکہ نفرتیں اور کدورتیں ختم ہو گئیں تو سب فرنچائزیں بند ہوجائیں گی اور دھندہ ٹھپ ہو جائے گا۔

سانحہ پشاور کے بعد کہا گیا کہ بس اب اور نہیں .... مگر سانحہ شکار پور نے پھر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ہم سب کو بخوبی معلوم ہے کہ دہشت گردی کے کس جن کا تعلق کس بوتل سے ہے اور اس کا ڈھکن کس کے پاس ہے مگر اس کے باوجود ہم ان بوتلوں کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرنے کو تیار نہیں۔اگر کافر ،کافر کا یہ دھندہ بند نہ ہوا تو کرہ ارض پر کوئی مسلمان باقی نہیں رہے گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.