.

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج کل سیاست پر لکھنے کو دل نہیں چاہتا۔ قصور سیاست کا نہیں بلکہ کچھ سیاستدانوں کا ہے۔ یہ سیاستدان جمہوریت اور آئین کی بالا دستی کے علمبردار ہیں لیکن آج کل مصلحت پسندی کی سیاست کررہے ہیں۔ مصلحت پسندی کوئی بری چیز نہیں لیکن ذاتی مصلحتوں کو قومی مفادات قرار دینا اور پھر ان قومی مفادات کے نام پر جمہوریت اور آئین کے بنیادی اصولوں کا حلیہ بگاڑنا منافقت کے زمرے میں آتا ہے۔ قومی مفادات کے نام پریہ منافقانہ رویے صرف سیاست پر نہیں بلکہ صحافت پر بھی غالب آرہے ہیں۔ سیاستدانوں کی کمزوریوں نے جمہوریت کو کمزور کیااور جمہوریت کی کمزوری نے صحافت کو کمزور کردیا ہے۔

آج پاکستان کی صحافت اتنی ہی آزاد ہے جتنی پاکستان کی پارلیمنٹ آزاد ہے اور پارلیمنٹ کتنی آزاد ہے یہ آپ کو بہت اچھی طرح معلوم ہے۔ ایک طرف اس پارلیمنٹ کے منتخب اراکین اپنی پارلیمنٹ کو دھاندلی کی پیداوار قرار دیتے ہیں، دوسری طرف اس پارلیمنٹ میں منظور کئے جانے والے قوانین کے ذریعہ پاکستان کی بقاء کے لئے مرمٹنے کے دعوے کرتے ہیں۔ ایک طرف دہشت گردی کو پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے اور دوسری طرف دہشت گردی کی بدنام والدہ مارشل لاء کو آوازیں بھی دی جاتی ہیں۔

جب میری گستاخ سوچ مجھے اس کھلے تضاد پر کچھ بولنے اور لکھنے کے لئے اکساتی ہے تو پھر وہ تمام چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں جو آج کل مجھے یہ مشورے دیتے ہیں کہ کیا پورا سچ بولنے کا ٹھیکہ صرف تم نے لے رکھا ہے؟ تم سچ بولنے کے شوق میں بار بار اپنے خاندان کو اور اپنے آپ کو خطرے میں کیوں ڈالتے ہو؟کل مجھے آرمی پبلک ا سکول پشاور میں شہید ہونے والے ایک طالبعلم کی والدہ نے فون کیا۔ یہ مظلوم ماں دکھ بھرے لہجے میں پوچھ رہی تھی کہ سانحہ پشاور کو دو ماہ پورے ہونے کو ہیں۔ اس سانحے کی تحقیقات کے بارے میں آپ کو کچھ معلوم ہو تو ہمیں بھی بتادیں۔

میں نے تحقیقات کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی تو اس ماں کا لہجہ قدرے تلخ ہوگیا۔ کہنے لگی کہ کئی دن پہلے سب ٹی وی چینلز اور اخبارات نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے بچوں کے قاتل افغانستان میں گرفتار ہوگئے وہ قاتل کدھر غائب ہو گئے؟ پھر یہ ماں پوچھنے لگی کہ ہمارے بچوں کی لاشوں پر فوجی عدالتیں تو بن گئیں لیکن اگر ہمارے بچوں کے قاتلوں کو پکڑ کر ان عدالتوں سے سزائیں نہیں دلوائی جاتیں تو ہمیں ان عدالتوں کا کیا فائدہ؟ میرے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہ تھا۔

میں نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ ان سوالات کا جواب تو حکومت دے سکتی ہے۔ میرے جواب پر دکھی ماں کا ضبط ٹوٹ گیا۔ وہ رونے لگی اور چیختے ہوئے کہنے لگی کہ جب ہم صوبائی حکومت سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے قاتل کیوں نہیں پکڑے گئے تو کہا جاتا ہے وفاقی حکومت سے پوچھو اور جب وفاقی وزیروں کو فون کرو تو کوئی سنتا ہی نہیں۔ خبر کی تلاش میں ٹی وی آن کرو تو وہاں عمران خان دھاندلی دھاندلی کررہا ہوتا ہے اور پرویز رشید کا جواب الجواب چل رہا ہوتا ہے آپ بتائیے کہ اس ملک میں اصل اختیار کس کے پاس ہے؟ ہمیں سچ کون بتائے گا؟ ہمیں انصاف کون دے گا؟

یہ تو سچ ہے کہ سانحہ پشاور پر بہت سیاست کی گئی لیکن اس سانحے کے اصل ذمہ داروں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد دہشت گردی کے خلاف ایک سیاسی اتفاق رائے بھی قائم ہوا لیکن حکومت اور اس کے ادارے اس اتفاق رائے کو قائم رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ پہلے مولانا فضل الرحمان اس اتفاق رائے سے نکلے پھر تحریک انصاف نے مسلم لیگ [ن] کیخلاف دوبارہ تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ اس دوران الطاف حسین صاحب نے مارشل لاء کو پکارنا شروع کردیا۔

ابھی ان کی پکار پر ہماری حیرانگی ختم نہ ہوئی تھی کہ 2012ء میں سانحہ بلدیہ ٹائون کراچی پر رینجرز کی ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ منظر عام پر آگئی جس میں بلدیہ ٹائون میں ڈھائی سو سے زائد افراد کے زندہ جلنے کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر ڈالی گئی تھی۔ الطاف حسین نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا اور سانحہ بلدیہ ٹائون کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ سے کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا۔ الطاف حسین بھول گئے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک قرار داد کے ذریعہ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، پھر اقوام متحدہ نے تحقیقات شروع بھی کردیں۔

تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرکے حکومت پاکستان کو بھجوائی گئی لیکن بعد میں اس رپورٹ پر اعتراضات کردئیے گئے۔ سانحہ بلدیہ ٹائون پر رپورٹ نے واقعی کچھ سوالات پیدا کئے ہیں۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایک گرفتار ملزم نے کچھ سنی سنائی باتوں پر مشتمل اعتراف 2013ء میں کیا تھا لیکن رینجرز دو سال تک خاموش کیوں رہی؟ آج الطاف حسین کہہ رہے ہیں کہ سانحہ بلدیہ ٹائون میں جو کوئی بھی ملوث ہے اسے سر عام پھانسی پر لٹکا دیا جائے لیکن جب یہ سانحہ رونما ہوا تو ان کی پارٹی سندھ کی صوبائی حکومت کا حصہ تھی۔ اب ایک دفعہ پھر وہ صوبائی حکومت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ کیا وہ قوم کے ساتھ وعدہ کریں گے کہ صوبائی حکومت میں شامل ہونے کے تین مہینے کے اندر اندر سانحہ بلدیہ ٹائون کے ذمہ داروں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں دلوائیں گے؟

مصلحت پسندی کی سیاست کے اس دور میں کراچی سے ایک اچھی خبر آئی ہے۔ یہ اچھی خبر کراچی میں چھٹے لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد ہے جس میں بہت اچھی اچھی تقریریں ہوئیں۔ شاعری سنائی گئی اور تیمور رحمان نے حبیب جالب کا کلام بھی گایا۔ ادب کے اس میلے میں کچھ سیاستدان بھی شریک ہوئے اور انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ وہ اپنی مصلحتوں کو قومی مفادات قرار دے کر اچھی اچھی تقریریں تو کرسکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ عوام ان کی تقریروں کو آنکھیں بند کرکے سچ مان لیں۔ اس ادبی میلے کے ایک سیشن میں حبیب جالب کی ایک نظم’’دستور‘‘ پر گفتگو کے دوران اعتزاز احسن اور عاصمہ جہانگیر نے فوجی عدالتوں پر ایک دوسرے سے اختلاف کیا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان خطرے میں ہے اس لئے وقتی طور پر فوجی عدالتوں کے ذریعہ پاکستان کو بچایا جا رہا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ایک ڈکٹیٹر نے تو اسلام کو بھی خطرے میں قرار دیا اور فوجی عدالتیں بنا ڈالیں کیا اس نے فوجی عدالتوں کے ذریعہ اسلام کی کوئی خدمت کی تھی؟ اعتزازاحسن اور عاصمہ جہانگیر کا اختلاف دراصل جمہوریت کا حسن بھی قرار دیا جاسکتا ہے لیکن فوجی عدالتوں کے ذریعہ جمہوریت اور پاکستان کی خدمت کے دعوئوں کو صرف اسی صورت کچھ اہمیت ملے گی اگر سانحہ پشاور کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے ان عدالتوں میں پیش کیا جائے اور سانحہ بلدیہ ٹائون کے ذمہ داروں کو بھی فوجی عدالتوں سے سزا دلوائی جائے، اگر ایسا نہ ہوا تو آپ جو چاہیں کر لیں مصلحت کے سائے میں پروان چڑھنے والی سیاست کا دستور صبح بے نور کی علامت بن جاتا ہے اور ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.