کہیں پی پی کی برسی تو نہیں؟؟؟

بشریٰ اعجاز
بشریٰ اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

بھٹو کی 35 ویں برسی کل گزر گئی۔ کیا اس برسی پر یہ کہنا درست نہیں کہ کرشماتی بھٹو کی اس برسی پر سندھ میں مرحوم بھٹو کی پارٹی بھی لاوارث دکھائی دیتی ہے اور بھٹوز کی سیاست بھی حالانکہ بھٹو خاندان کے بارے میں عام خیال یہی تھا بھٹو کا جن جسے ایک دفعہ چمٹ جائے پھر اتارے نہیں اترتا۔ پچھلے تیس برس اسی تاثر اسی خیال کے ساتھ گزر گئے مگر بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی محض بھٹو کے سلوگن، محترمہ کی تصویر، فریال تالپور اور مظفر ٹپی تک محدود ہو کر رہ گئی۔ جسے کاروباری سوچ رکھنے والے آصف زرداری آج بھی پی پی کے لیبل سے ایک بزنس ایمپائر کی طرح چلانے پر مصر ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو جس لیڈر کا نام تھا، وہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ گڑھی خدا بخش منتقل ہو چکا ہے۔ اور سندھ کی سیاست کے سنیاریو پر اب محض جئے بھٹو۔۔۔ اور تم کتنے بھٹو مارو گے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا، کے کھوکھلے نعرے کے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ تحریک انصاف نے جب لاڑکانہ میں جلسہ رکھا تو پی پی کی باقیات سے آج بھی بڑی امیدیں باندھنے والوں نے اسے عمران خان کی بے وقوفی قرار دیا، پی پی کے گڑھ میں پنجاب سے اُٹھ کر جلسہ کرنا، ظاہر ہے کوئی معانی رکھتا ہے اور تحریک انصاف جس کی ایک سیٹ بھی اندرون سندھ نہ تھی، اس کا اچانک اٹھ کر لاڑکانہ میں جلسہ کر دینا، بظاہر کوئی عقلمندی کا فیصلہ نہ لگتا تھا۔ مگر جب یہ جلسہ منعقد ہو گیا اور بھرپور کامیاب بھی تو پی پی کا رہا سہا بھرم بھی ٹوٹ گیا۔ کوئی مانے نہ مانے پی پی اب اگر کہیں زندہ ہے تو بھٹو کے عاشقوں کے دلوں میں یا پھر بلاول ہاؤسوں میں، جن میں خود بلاول بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ گرچہ بھٹو کی پارٹی کا شیرازہ بڑے خاندان کی طرح بہت پہلے دانہ دانہ ہو کر بکھر گیا تھا مگر نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے اسے لاوارث کبھی نہ ہونے دیا۔ اب تو لاوارثی کا یہ حال ہے کہ اور تو اور روٹی کپڑا اور مکان کا دلنشین نعرہ بھی مدت ہوئی پٹ گیا۔ حالانکہ یہ وہ سلوگن تھا جو پارٹی کا منہ متھا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 20دسمبر 1971ء کو چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا۔ اس وقت عملی سیاست میں آئے انہیں قریباً 4 برس ہی ہوئے تھے۔ ان کی نوخیز جماعت، جس کا قیام یکم ستمبر 1967ء میں ہوا تھا، اس نے 1968ء میں ایوب خان کی حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں نومبر 1968ء میں گرفتار کر لیے گئے اور گول میز کانفرنس کے انعقاد سے پہلے رہا کر دیئے گئے۔

اگر یہ کہا جائے کہ بھٹو کو بڑی مقبولیت اعلانِ تاشقند سے ملی تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ اس وقت بھٹو صاحب فیلڈ مارشل ایوب خان کے وزیر خارجہ کے طور پر ایک تاریخی اعلان کرتے ہیں ’’پاکستان ایک ہزار سال تک جنگ کرتا رہے گا‘‘۔ حالانکہ جنگ بندی کا اعلان ان کی جیب میں ہوتا ہے۔ دوسرا بڑا فیصلہ اسی حوالے سے یہ ہوتا ہے کہ وہ اعلان تاشقند کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر اپنے نظریاتی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اور جلد ہی پی پی کے نام سے سیاسی نظریاتی جماعت قائم کر کے عملی سیاست کا آغاز کر دیتے ہیں۔ روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ بھی سحر انگیز ہوتا ہے اور خود زیڈ اے بھٹو کی شخصیت بھی، جس پر چڑھا عوامی رنگ، عوام کو اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے۔۔۔ یوں جیسے شمع کے گرد پروانے۔۔۔ اور بھٹو دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف سندھ، بلکہ پنجاب سمیت چاروں صوبوں کا ہیرو بن جاتا ہے۔ وہ زمانہ جب کمیونیکیشن نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس وقت میلے کچیلے، گرے پڑے ہاریوں، مزدوروں، کسانوں کا اک سیل بے کراں بھٹو کی طرف، بھٹو بھٹو پکارتا بڑھنے لگتا ہے۔ مجھے یاد ہے، پنجاب کی ننگے پاؤں اور پھٹے کپڑوں والی میلی بوڑھی مائیاں، گھر والوں سے ضد کر کے کہتی ہیں، ’’وے بھٹو آ رہی ہے، ہمیں اپنے ساتھ لے چلو، ہم نے بھٹو دیکھنی ہے‘‘۔ یعنی انہیں بھٹو کی جنس تک کا پتہ نہیں ہوتا، مگر وہ بھٹو کے نعرے اور عوامیت پسندی کی ڈور سے بندھی، کھچی چلی جاتی ہیں۔ معقولیت جلد ہی قبولیت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے، اور ذوالفقار علی بھٹو صدر پاکستان بن جاتے ہیں۔

ایک کڑے دور سے پاکستان گزر رہا ہے، جنگی قیدی، سقوط ڈھاکہ، پاکستانی علاقوں کی واگزاری جیسے مشکل ٹاسک، جن سے زیڈ اے بھٹو کامیابی سے گزر جاتے ہیں۔ ان سے سیاسی اور نظریاتی اختلافات رکھنے والے بھی مانتے ہیں کہ بھٹو نے اپنے دورِ اقتدار میں کچھ اقدامات ایسے کیے جو واقعی انقلابی تھے۔ جن میں سرفہرست شملہ معاہدہ، 1973ء کا آئین، حمود الرحمن کمیشن کا قیام ، مارشل لاء کا خاتمہ، دوسری سربراہی کانفرنس اور مختلف اصلاحات، جن میں معاشی، زرعی، قانونی اور تجارتی اصلاحات قابل ذکر ہیں۔ ان اصلاحات میں زرعی اصلاحات اور صنعتی اصلاحات نے پرانے سرمایہ دارانہ نظام اور جاگیردارانہ نظام کا ڈھانچہ تو توڑ دیا، مگر اس سے فائدے کے بجائے نقصان زیادہ ہوا، خصوصاً صنعتی اصلاحات کے ذریعے جب صنعتوں کو قومیایا گیا تو،یہ انڈسٹری زوال پذیر ہو گئی اور ملک کی معاشی حالت کمزور سے کمزور تر ہونے لگی۔

جس کے بعد عوام الناس میں یہ تصور عام ہونے لگا کہ پی پی پی کے منشور میں سوشلزم کی بنیاد پر جو ملکی معیشت کو استوار کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، یہ اسی کی شروعات ہے، چنانچہ سوشلزم سے سرمایہ داروں کو اپنی اجارہ داری ختم ہوتی دکھائی دی، اور انہوں نے بھٹو کے خلاف ردعمل ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ دوسری جانب مذہبی حلقے بھی سوشلزم کو قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ چنانچہ ان تمام حلقوں نے مل کر تحریک چلا دی۔ انتخابات میں دھاندلی اور مذہبی جماعتوں کا اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا، نو ستاروں کا اتحاد اور بھرپور ایجی ٹیشن، گرچہ بھٹو صاحب کے زوال کے اسباب میں اہم مانے جاتے ہیں، مگر بھٹو کے زوال ، برطرفی، قید، مقدمے اور پھانسی کی کہانی کے پیچھے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کا قیام ایک ایسی وجہ ہے جسے سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ بھٹو صاحب کی راولپنڈی میں جذباتی تقریر اور اس ضمن میں امریکہ کو سخت پیغام، دراصل بھٹو صاحب کو تختۂ دار تک پہنچا گیا۔

ایک تکلیف دہ مقدمے اور قید و بند کے مراحل کے بعد، 4 اپریل کو راتوں رات راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں جب نظریاتی لیڈر تختۂ دار پر جھول گیا۔۔۔ اور ایک فوجی طیارہ ان کی میت کو لے کر گڑھی خدا بخش روانہ ہو گیا تو سارا پاکستان دم بخود تھا اور اردو پنجابی کی بے مثال شاعرہ نسرین انجم بھٹی کی آواز میں آواز ملا کر بین کرتا تھا۔ ’’میں بھٹو ساگر سندھ دا، میری راول جنج چڑھی‘‘۔ عجب تھی یہ بارات جس میں دولہا اکیلا ہی موت کی دلہن کے ہمراہ، گڑھی خدا بخش کی مٹی کی طرف رواں دواں تھا۔

آج ان تاریخی اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے، سندھ کے اس عظیم لیڈرکا المیہ، یونانی المیہ کرداروں کی طرح قوم کے سامنے ہے، جس کا سارا خاندان سیاست پر قربان ہو گیا اور اس کی پارٹی کو لاوارث قرار دے کر ایک کردار زبردستی بلاول بھٹو زرداری کے نام سے تخلیق کر لیا گیا۔ اور پارٹی کو بزنس کی طرح چلانے کی کوشش شروع ہو گئی۔ خود پارٹی کے اصلی حقدار (اگر جانشینی ہی میرت ہے تو) فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار جونیئر کونے سے لگا دیئے گئے اور قابضین نے بھٹو صاحب کے منشور، مقبول عام سلوگن اور بینظیر بھٹو کی تصویر کو بیچنا شروع کر دیا۔ مگر کب تک؟ اب حال یہ ہے کہ بلاول ہاؤسوں میں الو بولتے ہیں۔ سندھ میں لیڈر کی تلاش شروع ہے۔ کراچی کو رینجرز نے سنبھال رکھا ہے۔ بلاول ہاؤس کراچی کے گرد، حفاظتی فصیلیں ٹوٹ چکی ہیں۔ زرداری صاحب خود پتا نہیں کہاں ہیں؟ اور بھٹو کے جیالے، اس کے عشاق، اس کی برسی منا رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کیا یہ بھٹو صاحب کی برسی ہی ہے؟ کہیں پی پی کی برسی تو نہیں؟؟؟

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں