.

ہمارے اصل دشمن…

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لٹویا یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جو کبھی سابقہ سوویت یونین کا حصہ تھا۔ روس کے ہمسائے میں واقع اس ملک کی آبادی بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی ہے ۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد بمشکل چند ہزار ہے اور لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو مسجد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ پچھلے دنوں ریگا میں یونیسکو نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں 80 ممالک کے 300 سے زائد صحافی اور سفارتکار شریک ہوئے اس کانفرنس میں آزادی صحافت کیلئے بڑھتے ہوئے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ یونیسکو نے انسانی حقوق اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی کئی عالمی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کو بھی مدعو کر رکھا تھا جنہوں نے بتایا کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سیکورٹی کونسل کیا کردار ادا کر سکتی ہے ۔

کانفرنس کے ایک سیشن سے مجھے بھی خطاب کا موقع ملا جس کا موضوع یہ تھا کہ نفرتوں کے خاتمے میں میڈیا کیا کردار ادا کر سکتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میڈیا کو آزادی صحافت کے نام پر ایسا مواد شائع اور نشر کرنے سے گریز کرنا چاہئے جس سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے ۔میں نے کچھ عرصہ قبل فرانس کے ایک جریدے کے دفتر پر حملے کی مذمت کی لیکن اس جریدے کے شائع کردہ کارٹونوں پر سخت اعتراض کیا۔ معروف برطانوی اخبار گارڈین کے کرس ایلیٹ اور صحافتی اخلاقیات کے ماہر ایڈن وائٹ نے میری بھرپور تائید کی اور کہا کہ میڈیا کو ایک ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنی چاہئے۔ کانفرنس میں مجھ سے اختلاف کرنے والے بھی موجود تھے لیکن کسی نے اپنے اختلاف کو ذاتی دشمنی کا رنگ نہیں دیا۔ اس کانفرنس میں مختلف مندوبین کی تقاریر سن کر اور بہت سے مندوبین کے ساتھ ذاتی گفتگو کے بعد مجھے احساس ہوا کہ آزادی صحافت کا مسئلہ قانون کی حکمرانی کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔

جس ملک کا قانون ریاست کے شہریوں کا محافظ ہے وہاں صحافت آزاد ہے جس ملک کا قانون شہریوں کی بجائے حکومت کی حفاظت کرتا ہے وہاں صحافت آزاد نہیں ہے ۔مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے اکثر مسلم اکثریتی ممالک میں صحافیوں کا اغوا اور قتل معمول بن چکا ہے ۔ مصر کی فاطمہ فراغ اور بحرین کی مریم الخواجہ کی باتیں سن کر پتہ چلا کہ کئی مسلم ممالک میں خواتین صحافیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی بھی معمول بن چکا ہے ۔ اس کانفرنس میں مسلمان صحافی بتا رہے تھے کہ انہیں مذہبی انتہا پسندوں اور ریاستی اداروں کی طرف سے قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں، اغوا کر لیا جاتا ہے اور نوکریوں سے نکالا جاتا ہے جبکہ مغربی ممالک کے صحافیوں کو یہ شکایت تھی کہ خفیہ ادارے ان کے فون کیوں سننے لگے ہیں ان کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ میں موجود مواد کو چور ی کیوں کرنے لگے ہیں ؟۔مسلمان صحافیوں کو اپنی جان بچانے کی فکر پڑی تھی جبکہ مغربی صحافیوں کو اپنی نجی زندگی میں خفیہ اداروں کی مداخلت پر اعتراض تھا ۔

اس کانفرنس میں پاکستان سے میرے علاوہ کراچی کے ایک صحافی اور پاکستان پریس فائونڈیشن کے سیکرٹری جنرل اویس اسلم علی، افغانستان کے نجیب شریفی اور ایکویڈور کے ایک کارٹونسٹ بونیل نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ جب تک صحافی اپنی پیشہ وارانہ اخلاقیات کا احترام نہیں کرینگے معاشرہ ان کا احترام نہیں کریگا۔ اس کانفرنس میں الجزیرہ کے ساتھی مصر میں گرفتار اپنے ادارے کے صحافیوں کی رہائی کیلئے لابنگ میں مصروف تھے۔مصر کی حکومت نے الجزیرہ کے پیٹر گریسٹی کو رہا کر دیا کیونکہ ان کا تعلق آسٹریلیا سے ہے لیکن ان کے دو مسلمان ساتھیوں محمد فہمی اور باہیر محمد کو رہا کرنے سے انکار کر دیا گیا ان دونوں پر یہ الزام ہے کہ وہ مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کی حمایت کر رہے تھے۔

کانفرنس میں شریک نائیجیریا کے ایک صحافی نے بڑے تلخ لہجے میں کہا کہ بوکو حرام جیسے مذہبی انتہا پسندوں اور السیسی جیسے فوجی آمروں نے مسلمان معاشروں کو تباہ کر دیا ہے ۔ اس نے مجھے خبردار کیا کہ یاد رکھنا اگر مصر کی فوجی حکومت نے محمد مرسی کو سزائے موت سنا دی تو پھر افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ترکی میں بے چینی کی ایک نئی لہر اٹھے گی جس سے پاکستان بھی محفوظ نہ رہے گا۔ میں نے پوچھا وہ کیسے تو عمر رسیدہ سیاہ فام صحافی نے کہا کہ محمد مرسی کے خلاف فوجی انقلاب نے افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مذہبی انتہا پسندوں کو مضبوط کر دیا ہے ۔ مصر کے فوجی انقلاب کے فوراً بعد عراق میں داعش اور نائیجیریا میں بوکو حرام کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں یہ تنظیمیں جمہوریت کی مخالف ہیں اگر محمد مرسی کو پھانسی دی گئی تو مصر میں اخوان المسلمون کے ہزاروں نوجوان کارکن انہی تنظیموں کی طرف راغب ہوں گے۔

آج کے دور میں یہ تنظیمیں سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتی ہیں اور خدشہ ہے کہ بہت جلد ان تنظیموں کا ایک عالمی اتحاد وجود میں آجائے گا جس کا اصل نشانہ امریکہ یا مغرب نہیں بلکہ مسلم ممالک کی کمزور جمہور ی حکومتیں اور مضبوط بادشاہتیں ہونگی۔

ریگا سے واپس آتے ہی پاکستانی اخبارات میں امریکی صحافی سیمورہرش کی تحریر کردہ ایک کہانی پڑھنے کو ملی۔ سیمور ہرش نے یہ کہانی دراصل نیویارکر میگزین کیلئے لکھی تھی۔ نیویارکر نے اس کہانی میں موجود کچھ دعوئوں کی تصدیق کیلئے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے ان دعوئوں کو جھوٹ قرار دیا تھا۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا اسامہ بن لادن 2006ء کے بعد سے پاکستان کے کسی سرکاری ادارے کی تحویل میں تھا؟ میں نے نفی میں جواب دیا اور بتایا کہ 2006ء سے 2011ء کے درمیان اسامہ بن لادن نے دو درجن سے زائد آڈیو اور ویڈیو بیانات جاری کئے جن میں پاکستانی اداروں پر بھی تنقید کی گئی تھی لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ پاکستانی ادارے اپنے ہی قیدی کو اپنے خلاف بیانات جاری کرنے کی اجازت دیں۔

اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی پاکستانی اداروں کی نااہلی ضرور تھی لیکن ملی بھگت نہیں تھی کیونکہ اسامہ بن لادن ان اداروں سے شدید نفرت کرتے تھے ۔ نیو یارکر نے سیمورہرش کی یہ بے بنیاد کہانی شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ کہانی ایک برطانوی اخبار میں شائع کرائی اور پھر اس کے بعد پاکستانی میڈیا نے اس کہانی پر بحث شروع کر دی ۔بحث میں شریک بڑے بڑے دانشوروں اور ماہرین کے خیالات پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اکثر کو القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے بارے میں کئی بنیادی حقائق کا پتہ نہیں ۔ سیمور ہرش کی کہانی نے انکی اپنی پیشہ وارانہ دیانت کے بارے میں کئی سوالات پیدا کئے لیکن ہم نے ان سوالات پر غور کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی دیانت پر سوالات اٹھانے شروع کر دیئے۔ اس معاملے میں کچھ اہم ریاستی اداروں کی خاموشی بھی معنی خیز تھی۔ میں بار بار سوچتا رہا کہ جس ملک کی سیاسی و علمی اشرافیہ اور پالیسی سازوں کو ابھی تک مذہبی انتہا پسندوں کے انداز فکر اور طریقہ کار کا پورا علم نہیں ہوا وہ قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح کی نوید کیسے سنا سکتے ہیں؟

ہمیں ابھی تک القاعدہ اور داعش میں فرق کا پتہ نہیں۔ ہمیں القاعدہ اور طالبان کے طریقہ کار میں فرق کا اندازہ نہیں ۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ مسلم ممالک میں انتہا پسندی دینی مدارس اور مساجد سے نہیں بلکہ نظام کی خرابیوں سے جنم لے رہی ہے۔ داعش میں ہزاروں یورپی مسلمان شامل ہو چکے ہیں جو مغربی سکولوں اور یونیورسٹیوں میں پروان چڑھے۔ انہیں کسی دینی مدرسے نے نہیں ان کے معاشرے میں موجود تفادات نے انتہا پسند بنایا۔ سیمورہرش کی کہانی پر بحث ختم نہ ہوئی تھی کہ مصر کی فوجی حکومت نے محمد مرسی اور ایک عالم دین یوسف القرضاوی کو سزائے موت سنا دی۔ مرسی اور یوسف القرضاوی جمہوریت کے حامی ہیں۔ دونوں کو ایک جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں سزا سنا کر مصر کی فوجی حکومت نے القاعدہ، داعش اور بوکو حرام کا کام آسان کر دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ تبدیلی کیلئے جمہوریت نہیں بندوق کا راستہ اختیار کیا جائے۔ مصر کی حکومت کا یہ ظالمانہ فیصلہ صرف مصر نہیں بلکہ مسلم ممالک کے تمام جمہوریت پسندوں کیلئے نئے خطرات کا باعث بنے گا۔ اگر ہم واقعی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں سنجیدہ ہیں تو پھر ہمیں انتہائی بلند آواز کے ساتھ محمد مرسی اور یوسف القرضاوی کے خلاف سنائی جانے والی سزائوں پر احتجاج کرنا چاہئے تاکہ مسلمان معاشروں کو اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے بچایا جا سکے۔ مسلمان معاشروں کو صرف بوکو حرام سے نہیں بلکہ جنرل السیسی جیسے کرداروں سے بھی خطرہ ہے۔

---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.