کبوتر جا،جا ،جا…!!…
یہ صرف کہتے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کبوتر پرندوں میں اللہ رب العزت کی وہ نفیس ترین تخلیق ہے جس سے پیغمبروں اور ملائکہ نے بے مثال محبت کی اورراندۂ درگاہ و مشرک ابلیس ملعون نے شدید نفرت کی …عہد نامۂ عتیق میں تو کبوتر کے پَروں کو سیدناجبرئیل علیہ السلام کے عظیم الشان پَروںسے تشبیہ دے کراِس پیارے اور حَسین پَرندے کو وہ عزت و وقار عطا کیاگیا کہ روزِقیامت تک تمام طیور کی تارِ نگاہ اِسے رشک سے ہی دیکھے گی…
سیدنا سلیمان علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کے دربار میں اِسے ایک خصوصی درجہ حاصل تھا ،ایک مرتبہ تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوری انسانیت کو کبوتر کی ایک نصیحت سے آگاہ کیا اور اِرشاد فرمایا کہ ’’سنو! کبوتر تم سے کیا کہہ رہا ہے ، وہ کہتا ہے کہ مرنے کے لئے پیدا ہو اور ویران کرنے کے لئے عمارتیں بناؤ…اِس کی یہ نصیحت بھی کیا ہی بہترین عبرت ہے‘‘…اورپھر ہم اُس کبوتری کو کیسے بھول جائیں جس نے غارِثورکے دہانے پر اللہ کے حکم سے فوراً ہی گھونسلابناڈالا،اور قدرت کاملہ نے اُس کے انڈوں سے لمحے کے ہزارویں حصے میں بچے پیدا کر کے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں کو اُس غار کے پاس پھٹکنے بھی نہ دیا…اورنوح علیہ السلام کا وہ وفادار کبوتر جو طوفان کے تھمنے کے بعد سب سے پہلے خشکی کی خبر لے کر آیا…اور مسیح اللہ کے دستِ کرم میں آکر اللہ کے حکم سے پھڑپھڑاتا ہوا جی اُٹھنے والا وہ مٹی کا کبوتر…اور قیدِ تنہائی میں سیدیحییٰ علیہ السلام کی خبر گیری کرنے والا وہ سفید کبوتر…
آتشِ نمرود کے گلزار بنتے ہی خلیل اللہ کے کاندھوں پر آکر بیٹھنے والا وہ فرماں بردار کبوتر…تمام پرندوں کو اسحق علیہ السلام کی پیدائش کی خوش خبری سنانے والا مسرور کبوتر…سمندر کی گہرائیوں اورشکم ِ ماہی میں سیدنایونس علیہ السلام کی دعا پر تین دن تلک خشکی میں آمین کہنے والاعابد کبوتر…پالنے میں ننھے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ساتھ دریا پرپرواز کرنے والا محافظ کبوتر…مدینہ منور میں مسجد نبوی کے صحن میں چہل قدمی کرنے والا عاشق کبوتر…کعبۃ اللہ کا جُھنڈ کے جھنڈ طواف کرنے والامؤدب کبوتر…اپنی غٹرغوں میں تسبیح رب کریم پڑھنے والاذاکر کبوتر…صدقے اور منتوں کے دانے چُگ کر دعائیں کرنے والامحسن کبوتر… اور اِس کے کتنے روپ بتلاؤں…اِس کی محبتوں اور وفاداریوں کے کون کون سے جلوے دکھلاؤں…اِس سے اُلفت رکھنے والوں کے نام اِتنے بڑے ہیں کہ لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ جاتے ہیں،پھر وہ نام میں کیسے لکھ پاؤں…کیسے سمجھاؤں کہ قابیل سے لے کر ولید بن مغیرہ، مطعم بن عدی ، عمرو بن ہشام (ابوجہل)، عاص بن وائل اور شمر و یزید کو کبوتروں سے کِس قدر نفرت تھی …اور صرف یہی نہیں بلکہ پرندوں کی برادری میں بھی اِس کی سفیدی سے حسد کرنے والے چیخ چیخ کر اپنی آواز کو اِس قدر بھدا بنا چکے ہیں کہ کسی پر اُن کی ’’کائیں کائیں‘‘ کا اب کوئی اثر نہیں ہوتا…
ویسے تویہ بہت پرانی بات ہے ، اتنی پرانی کہ جب ہندوستان پر ’’تنگ نظر اور متعصب ہندو‘‘ قابض نہیں ہوئے تھے…سب مل جل کر رہا کرتے تھے…ایسے میں ایک کبوتر اپنے بچے کو اڑنے کا طریقہ سکھا رہا تھاکہ کچھ ہی دیر میں اُس کا بچہ تھک کر درخت کی ایک نچلی ٹہنی پر جا بیٹھاجہاں ایک خالی گھونسلا تھا،اُس نے سستانے کے لئے گھونسلے میں کچھ دیر کے لئے قیام کرنا مناسب سمجھا اور آنکھیں موند لیں…اچانک ہی ایک ہیبت ناک کائیں کائیں نے اُس معصوم کو ہڑبڑا کر اُٹھنے پر مجبور کردیا…نہ رکنے والی کائیں کائیں سن کربچے کا باپ کبوتر بھی فوراً ہی خالی گھونسلے کے قریب آگیا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کو اانتہائی بداخلاقی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل کائیں کائیں کئے جارہا ہے …
اُس کا اصرار تھا کہ مدتوں پہلے یہ گھونسا میرا تھا، گو کہ میں اب اِسے چھوڑ چکا ہوں لیکن یہ ہے میرا ہی اور شکایت یہ تھی کہ تیرے بچے کو یہ کیسے جرأت ہوئی کہ وہ اِس میں چند لمحوں کے لئے سستانے کو آجائے…کبوتر نے انتہائی ملائمت ،نرمی اور آہستگی سے غٹرغوں کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھائی کوے! ہمیں تمہارے اِس چھوڑے ہوئے گھونسلے سے کیا لینا دینا،میرا بچہ بس تھوڑی دیرکے لئے تھک گیا تھا، اگر مجھے اِس کی تھکن کا خیال نہ ہوتا تو اِس گھونسلے میں تو کیا،ہم تو اِس درخت پر بھی نہ بیٹھتے اور پھر ویسے بھی ہم درختوں پر بیٹھنے والے پرندے تو ہیں نہیں، خواہ مخواہ آسمان سر پر نہ اُٹھاؤ، ہم یہاں سے ابھی چلے جاتے ہیں‘‘…مگر جناب! بداخلاق کوا تومزید پھیل گیا اور کہنے لگا’’اچھا اب زبان بھی چلانے لگے ہو،پہلے دوسروں کے درخت پر بیٹھتے ہو،پھر گھونسلوں میں جا گھستے ہو اور اگر کوئی سوال کرے تو زباں درازی کرتے ہو، اب تو میں تمہیں وہ مزا چکھاؤں گا کہ مدتوں یاد رکھو گے اور تمہیں ایسا ذلیل کروں گا کہ کبھی سر اُٹھا کر اڑ نہیں پاؤ گے ‘‘…کبوتر نے ایک بار پھر معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’میاں کوے! بات بڑھانے سے کیا فائدہ، چلو اگر ہم سے یہ غلطی ہوگئی ہے جسے تم مسلسل ’’سازش‘‘ کہنے پر تُلے ہوئے ہو تو ہم یہاں سے فوراً ہی چلے جاتے ہیں، تم بھی ذرا اپنے ’’بڑے پن‘‘ کا خیال کرو اور اِس قصے کو یہیں ختم کرو‘‘…لیکن وہ کوا ہی کیا جو کائیں کائیں چھوڑ دے…
چنانچہ اُس نے مزید شور و غوغا کرنا شروع کردیا اور کہنے لگا’’اب میں تمام پرندوں کو جمع کروں گا،سب سے کہوں گا کہ تم پڑوسی جنگل کے بھیجے ہوئے جاسوس ہو جو ہمارے گھروں پر قبضہ کرنے آیا ہے، میں آج کبوتروں کی عزت کو خاک میں ملادوں گا، یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے کہ جہاں تھکے وہیں بیٹھ گئے،اب دیکھو میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں، کیا ہمارا جنگل پرواز سکھانے کا اِدارہ ہے ؟یا یہ کوئی سرائے ہے؟تم بچ نہیں سکتے اور یہ کہتے ہوئے اُس نے کبوتر کے بچے کو زمین پر پٹخ دیا‘‘…غرض یہ کہ وہ ’’مودیانہ کائیں کائیں‘‘ میں آپے سے باہر ہوگیا…جب کبوتر نے کوے کی خباثت کو اِس حد تک پہنچتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا’’اب تمہارا جو جی چاہے کر گزرو…میں یہاں سے جانے والا نہیں…یہ گھونسلا میرا ہے ،میری ملکیت ہے ،میرے اجداد نے اِسے بنایا تھا اور تم نے تقسیم کے بعد سے اِس پر قبضہ جما رکھا ہے لہٰذا جوکر سکتے ہو اب کرلو‘‘…یہ جواب سن کر کوا غصے میں ایسا پھٹا کہ اُس کی کائیں کائیں بھی پھٹ گئی، اُس نے تمام پرندوں کو جمع کر کے کہا کہ ’’کبوتر نے میرے گھونسلے پر قبضہ کرلیاہے ،یہ گھس بیٹھیا ہے اور اب میں اِسے زندہ نہیں چھوڑوں گا‘‘…
کبوتر نے پرسکون انداز میں جواب دیا کہ ’’یہ گھونسلا میرا ہے ،اور اِس کوے نے میرے بچے کو گھونسلے سے نکال پھینکا اور شور کر کے مجھ سے میرا گھونسلا چھین لینا چاہتا ہے ،اب تم سب نے فیصلہ کرنا ہے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون؟…تمام پرندے بولے کہ ہم نے کبھی کبوتر کے منہ سے جھوٹی بات نہیں سنی چنانچہ یہی بہتر ہے کہ کوا اپنی شکایت قاضی سے جاکرے اور ہد ہد جو حضرت سلیمان کا مصاحب اور عدل کے معنی سے واقف ہے وہی فیصلہ کرے…کوا بولا کہ میں تو ہد ہد کو نہیں جانتا،پرندوں نے جواب دیا کہ تُو اِس قدر وحشی اور بھدا ہے اِسی لئے ہد ہد سے ناواقف ہے لیکن فیصلہ تو اب وہی کرے گالہٰذا پرندے گئے اور ہد ہد کو بلا لائے…
ہُد ہُد نے آتے ہی پہلے معاملے کو سمجھا اور پھر جرح شروع کی…اُس نے کوے سے پوچھاکہ ’’تیرے پاس کوئی ثبوت ہے کہ یہ تیرا گھونسلا ہے ؟‘‘کوے نے کہا کہ ’’نہیں‘‘…ہُد ہُد نے پھر پوچھا کہ تو اب تلک کہاں تھا‘‘ کوے نے کہا ’’ایک گھونسلے میں‘‘…ہُد ہُد نے اب مُڑ کر کبوتر سے پوچھا کہ تُو اب تلک کہاں تھا؟کبوتر نے کہا کہ ’’میں اِسی جگہ تھا،میں اِسی جگہ ہوں اور کوے نے آکر یہاں غل غپاڑہ شروع کردیا کہ یہ گھونسلا میرا ہے‘‘ …ہُد ہُد نے طرفین کے جوابات سننے کے بعد کہا کہ اب میں جو فیصلہ کروں گا کیا سب اُسے قبول کریں گے؟…
سب نے ایک آواز ہوکر کہا کہ یقیناً یقیناً…چنانچہ ہُد ہُد نے کہا کہ ’’میرا فیصلہ ہے کہ گھونسلا کبوتر کو ملنا چاہئے‘‘…کوے نے فیصلہ سن کربہت شور مچایالیکن پرندوں کے ہجوم کے سامنے اُس کا کیا بس چلتا…سب ہی اُسے لعن طعن کرنے لگے…ایسے میں کبوتر ہُد ہُد کے قریب گیا اور اُس سے دریافت کیا ’’حضور آپ نے مجھے حق پر کیسے جانا حالانکہ میرے پاس کوئی ثبوت تھا اور نا ہی کوے کے پاس کوئی سند‘‘…ہُد ہُد نے مسکرا کرکہا کہ تم ٹھیک کہتے ہولیکن اِس طرح کے معاملات میں جب کوئی دلیل موجود نہ ہو توفیصلہ اُس کے حق میں ہوتا ہے جو نیک نام ہو، جس کا اخلاق بہتر ہو،جو سب سے اچھی طرح ملتا ہو…تم راست گو کی حیثیت سے معروف ہو اور کوا دروغ گو کی حیثیت سے مشہور ہے…
تم انکساری کے سبب سفید ہو اور وہ حسد و غرور کی آگ میں جل جل کر کالا ہوچکا ہے …کبوتر کی آنکھوں میں اظہارِ تشکر کے آنسو تھے…اُس نے کہا کہ ’’لیکن میں آپ سے سچ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ گھونسلا میرا نہیں ہے ‘‘…ہُد ہُد نے پیار سے کبوتر کو دیکھتے ہوئے کہا ’’آفرین ہو تم پر تمہارے بارے میں میرا گمان بالکل درست تھا لیکن پھر تم نے جھوٹ کیوں بولا؟‘‘…کبوتر نے کہا کہ ’’میں نے بالکل جھوٹ نہیں بولا آپ نے جو سوال پوچھا اُس کا یہی جواب تھا کہ میں یہیں بیٹھا ہوں اور میں یہیں تھا، میں نے یہ نہیں کہا کہ یہ گھونسلا میں نے بنایا ہے یا یہ میںنے خریدا ہے، بس کوے کی بدتمیزی اور الزامات کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا‘‘…ہُد ہُد نے کہا کہ ’’اللہ تجھے برکت دے لیکن میں تجھے رُسوا نہیں کروں گا‘‘…
پھر ہُد ہُد نے پرندوں کو آواز دی اور کہنے لگا کہ ’’اگر کوا، کبوتر سے معذرت کر لے تو وہ یہ گھونسلا اُسے دینے کے لئے تیار ہے‘‘…کوے کے پاس کوئی چارہ نہ تھا، اُس نے کہا کہ ’’حضور ! میری تقصیر نہ تھی،بس ہمارا تو کام ہی کائیں کائیں کرنا ہے اِسی وجہ سے سب ہماری کائیں کائیں سے بے آرام ہوتے ہیںاور ہم سے دور رہتے ہیں، میرا تو کام ہی الزام لگانا ہے ،اِس حسد نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا،کبوتر سے گزارش ہے کہ وہ مجھے معاف کردے‘‘…کبوتر نے کوے کی جھکی ہوئی گردن اُٹھاکر اُس سے کہا کہ ’’خاموشی ،کائیں کائیں سے بہتر ہے، اُمید ہے کہ تم نہ یہ راز جان لیا ہوگا، جاؤ میں نے تمہیںمعاف کیا‘‘…!!
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں