.

بے جان لشکری

ڈاکٹر محمد آصف احسان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زیادہ پرانی بات نہیں، تین ماہ پہلے کا منظر نامہ ملاحظہ کریں: انسان کو چاند پر قدم رکھے50 برس سے زیادہ ہو چکے تھے۔ عالمی تجارت کا حجم آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔ پوری دنیا میں بے روزگاری کی شرح 4.94 فی صد کے ساتھ گیارہ سال کی کم ترین سطح پر تھی۔ طیارہ ساز کمپنیاں روز افزوں ترقی کر رہی تھیں۔ دسمبر 2019 ءمیں ان کمپنیوں کے جملہ ملازمین کی تعداد قریباً 30 لاکھ اور سالانہ آمدن 838 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھی۔

پیرس میں موجود 297 اور ماسکو میں موجود 261 عجائب گھر تاریخ و تہذیب اور فنون و نوادر سے دلچسپی رکھنے والے کروڑوں افراد کا نقطہ ارتکاز تھے۔ مغربی ممالک میں لوگ طبی آلات اور سہولتوں کی فراوانی کی بنا پر اوسطاً 80 سال سے زیادہ زندگی گزارتے تھے۔

مگر برا ہو،اس کرونا وائرس کا جس نے ربع مسکون میں ہر طرف ہلچل مچا دی۔ دنیا میں اس وقت کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چھے لاکھ سے متجاوز ہے۔تین ماہ کے قلیل عرصے میں ستائیس ہزار سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اٹلی اور اسپین کے باسیوں کی اوسط عمر عام طور پر 83 سال سے زیادہ ہوتی ہے ، مگر مقام عبرت ہے مرنے والے زیادہ افراد کا تعلق ان ہی دونوں ملکوں سے ہے۔

دنیا کی جو مشہور معروف فضائی کمپنیاں چند ماہ پہلے تک دنیا کے طول و عرض میں مسافروں کو لے کر جاتی تھی، اب انھیں سالانہ 250 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے یورپ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ریان ائیرنے اپنی تمام پروازیں بند کر دی ہیں۔ کرونا وائرس سے جو ملک زیادہ متاثر ہوئے ہیں،ان میں بے روزگاری کی شرح فلک تاز ہے۔گذشتہ ہفتے کے دوران میں صرف امریکا میں 33 لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوئے۔کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی کی وجہ سے کروڑوں نہیں،اربوں لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔

دنیا کو جس ابتلا کا سامنا ہے، اس سے انکار نہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اس وائرس نے انسان کی مادی ترقی کے نخوت زدہ دعووں کا پردہ چاک کر دیا ہے،جن ملکوں کو اپنی تدبیر و حکمت اور طاقت و سلطنت پہ ناز تھا،اب ہتھیلی سےماتھا کوٹنے پر مجبور ہیں جن کی دوا سازی کی صنعت کی چہادانگ عالم میں دھوم تھی،آج اپنے مُردوں کی تدفین کے لیے جگہ کی قلّت کا شکار ہیں۔

ایک بات طے شدہ ہے۔کرونا وائرس کے اثرات امتیاز و تفریق سے بالاتر ہیں،اگر نائٹ کلب سنسان ہیں تو مسجدیں بھی ویران ہیں۔ کہتے تھے کہ شہد میں انسانی امراض کی شفاء ہے،اہل علم کو کیا ہوا کہ ریت کا گھروندا ان کے عقیدے سے مضبوط نکلا۔؎

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہ زنوں سے گلہ نہیں، تیری راہبری کا سوال ہے

واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس بے جان ہے اور اسی وجہ سے اسے ختم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ قرآن حکیم میں ہے کہ اللہ کے لشکروں کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ اگر خالق کائنات کا ایک 'بے جان لشکری' احساس برتری، رعونت اور فرعونیت میں مبتلا انسان کو مشرق سے مغرب تک اس کی اوقات یاد دلا سکتا ہے تو جاندار فوج کیا قیامت برپا کرے گی، سوچنے کی بات ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرمحمد آصف احسان ایک محقق لکھاری ہیں۔انھوں نے برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی سے ’رسک مینجمنٹ‘ کے مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔وہ اسلامی مالیات اوراقتصادی امور کے ماہر ہیں اور اس کے مختلف پہلووں پر متعدد کتب اور تحقیقی مضامین کے مصنف ہیں۔ ان کی برقی میل کا پتا یہ ہے:maehsan@hotmail.co.uk

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.