.

دنیا کی صورت گری امن نہیں، جنگیں کرتی ہیں

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ یوکرینی تنازع اس قدیم تصور پر مہر لگاتا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی صورت گری امن نہیں کرتا جنگیں کرتی ہیں اور یہ کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ قیام امن کے لیے بین الاقوامی تنظیموں کے قیام اور سرحدی حد بندی کے معاہدوں سے لیکر ممالک کے نقشوں کی منظوری تک کیا کچھ نہیں کیا گیا مگر جنگیں اور تنازعات اپنی جگہ موجود رہے۔

مثال کے طور پر ایران اور عراق کے درمیان سرحدی حد بندی کا معاہدہ 1979 میں شاہ کے زوال کے ساتھ ہی صدام حسین نے ایرانی سرحد سمیت روند ڈالا تھا۔ پھر بین الاقوامی حد بندیاں عراقی آمر کو کویت پر حملے سے بھی تو باز نہیں رکھ سکیں حالانکہ کویت عرب لیگ میں ایک برادر ملک ہے جس کا بغداد کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ تھا۔

مزید برآں سپر پاورز کی فوجی موجودگی نہ تہران کو عراق شام اور لبنان پہ کنٹرول سے روک سکی اور نہ ہی آرمینیا، ایتھوپیا، لیبیا، یمن، شام اور اب یوکرین کو جنگ کے خونی پنجوں سے بچا پائیں۔

گذشتہ صدی کے اوائل میں پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے باعث لوگ سمجھتے تھے کہ انسان ایسی تباہ کن جنگ دوبارہ نہیں چھیڑے گا۔ مگر کیا ہوا؟ چند دہائیوں میں اس سے بڑھ کر خونی اور تباہ کن جنگ چھڑ گئی جس نے ساٹھ ملین انسان نگل لیے، جبکہ پہلی جنگ عظیم میں یہ تعداد چالیس ملین رہی تھی۔

یورپین سمجھتے تھے کہ 02 ستمبر 1945 انکی سر زمین پہ جنگ کا آخری دن تھا اور اب جنگ کا ان کی دنیا میں کبھی گذر نہ ہو گا مگر 24 فروری کو روس نے انکے اس خوبصورت خواب کو ایک بد صورت جنگ کی شروعات سے توڑ دیا۔

اس بار یہ تنازع صرف دو ریاستوں کا باہمی تصادم یا سب کے بڑے ملک کی خود سے چھوٹے ملک کو نگل لینے کی کوشش سے بڑھ کر ایک بڑا نفسیاتی اپ سیٹ بھی ہے۔ اس واقعے پہ یورپی عوام کی طرف سے بہ کثرت کیا جانے والا تبصرہ 'یہ سب ناقابلِ یقین ہے'، اس یورپی ذہنیت کا عکاس ہے جو جنگوں اور تنازعات کو صرف باقی دنیا میں دیکھنے کی عادی ہے۔ سوائے کچھ اندرونی اختلافات کے یورپی عوام نے 76 سال اور 09 ماہ امن کے دیکھے۔ انہیں گمان بھی نہیں تھا کہ ٹیلی وژن پہ نظر آنے والے مناظر ان کے گلی محلوں میں بھی برپا ہو سکتے ہیں۔

یہ امکان موجود ہے کہ موجودہ بحران ایک پر امن معاہدے کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے لیکن یہ جنگ بین الاقوامی تعلقات میں کئی تبدیلیاں لائے گی اور مستقبل میں جنگوں کی تیاری کے فریم ورک میں قومی اور علاقائی دفاع کے تصور کو ترجیحاً دیکھا جائے گا۔

دنیا میں کئی بڑی دفاعی اور انتظامی تبدیلیاں نظر آنے لگی ہیں۔ برلن نے حالیہ تنازع کے بعد اپنے فوجی اخراجات میں تبدیلی کے اعلان کیساتھ ساتھ روس کی تزویراتی اہمیت کی حامل 'نورڈ سٹریم 02 ' گیس پائپ لائن کو معطل کر دیا ہے۔

یوکرین پر حملے نے نیٹو کو کمزور کرنے کی بجائے مضبوط کیا ہے اور مغربی یورپی ممالک کو امریکی انتظامیہ کے قریب کیا ہے۔ واشنگٹن نے اس بحران کا استعمال اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے ایسے کیا ہے جسکی مثال سرد جنگ کے بعد کی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ موجودہ واقعات سے ہمیں جو سبق لینا چاہیے وہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے۔ عزت صرف طاقت اور خود انحصاری کی ہے۔ طاقت کی تعریف میں فوج کی تعداد اور صلاحیت ہی نہیں سائنسی، تکنیکی اور اقتصادی پیش رفت بھی شامل ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ سوویت یونین کو معاشی وجوہات نے اس وقت بکھیر کر رکھ دیا تھا جب یہ دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[عبدالرحمان الراشد کے الشرق الاوسط میں شائع ہونے والے کالم کو ڈاکٹر نائلہ رفیق نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا]

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں