پارکنگ منع ہے!

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اللہ رب العزت نے مزاج میں نفاست و نزاکت دی ہو اور دنیاوی وسائل و اختیارات کی بھی قدرے وسعت دی ہو تو چھوٹی سی بے ترتیبی، ننھی سی کثافت اور معمولی سی آمیزش بھی برداشت نہیں ہوتی ۔ ایسے نفیس لوگوں سے اس بے ترتیبی، کثافت اور آمیزش و ملاوٹ کے ہرذمہ دار کی اچھی خاصی ڈانٹ ڈپٹ ہو جاتی ہے۔

بعض اوقات معمولی کوتاہیوں کے مرتکب افراد اورعملے کو مزاج کی ان معزز شخصیات سے سرعام ایسی بےعزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ بے چاروں کی عزت نفس اور انسانی عظمت کچل کر رہ جاتی ہے۔ زور آور حضرات سارے سماجی و اخلاقی بندھن توڑ دیتے ہیں اور ہر طرح کے توازن کو عدم توازن سے بدل دیا جاتا ہے۔

گھروں میں موجود فارغ قسم کے شوہروں اور مصروف طبیعت کی بیگمات کے درمیان جھگڑوں اور خفگی کے مسائل کی بھی ایک وجہ یہی بن جاتی ہے کہ اس قسم کے شوہر نامدار کے پاس کوئی ڈھنگ کی سرگرمی نہیں ہوتی۔

ریٹائرمنٹ کی زندگی بعض دوستوں کے لیے اس طرح کے مواقع زیادہ پیدا کر دیتی ہے کہ کرنے کا کوئی کام سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ آنکھیں بینائی کے اس درجے پر کام کرتی ہیں جس سے دو فٹ دور کا ویژن بھی غلطی سے پاک نہیں ہوتا، اس لیے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والے بڑے میاں ریٹائرمنٹ کے بعد کے قیمتی وقت کو اسی طرح کی چھوٹی موٹی سرحدی جھڑپوں کی نذر کرتے رہتے ہیں۔

بلاشبہ ریٹائرمنٹ سے ملنے والی اچھی خاصی پنشن اور تن آسانی بعض اوقات انسان کے ذہنی، بصری اور عملی توازن کو موزوں نہیں رہنے دیتی۔

ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والے میرے دوست ناراض نہ ہوں کیونکہ بعض حاضر سروس معززین کی زندگی بھی اسی طرح کی مثالوں سے بھری ہوتی ہے۔ جبکہ بعض ریٹائرڈ افراد کی زندگی ریٹائرمنٹ سے پہلے کی طرح شاندار اور خوبصورت گذرتی ہے۔ وہ گھریلو ملازمین کے ساتھ برتاؤ میں خرابی کرتے ہیں، نہ پوتوں پوتیوں کو ہر بات پر مار پیٹ کرنے پر تیار ہوجانا اپنی شناخت بناتے ہیں۔

تاہم ایسے مہربان بھی ہوتے ہیں کہ گھر کے اندر غصہ اور اختیار کارگر نہ ہو سکتا ہو تو سیر یا چہل قدمی کے لیے باہر نکلنے پر ہی اڑوس پڑوس اور آس پاس کے لوگوں کے ساتھ الجھ الجھا کر اپنا قیمتی وقت اور قوم کے خون پسینے سے نکلے پنشن کی رقم کو ضائع کرتے رہتے ہیں۔ ایسی بدمزگی پر اگر کبھی چوٹ شوٹ آجائے تو بھی سرکاری خرچ پر قوم کو بعد از ریٹائرمنٹ بھی اچھے خاصے مہنگے پڑ جاتے ہیں۔

اس لیے ناراض ہونے کی ضرورت نہیں یہ عارضہ افراد کی سطح پر ہی نہیں اداروں اور ان کے اعلیٰ عہدیداروں کی سطح پر بھی بعض اوقات اپنا ظہور کرتا رہتا ہے۔ سیاستدانوں اور حکام بالا میں بھی ایسی شخصیات دیکھنے میں آتی رہتی ہیں کہ وہ اپنی شخصیت یا اختیار کا تعارف اپنے عمل کے ذریعے اس طرح کراتے ہیں کہ چھوٹی موٹی ہر چیز پر لمبے لمبے اجلاس کرتے ہیں، بار بار میٹنگ بلاتے ہیں، مسلسل دورے کرتے ہیں اور کمزور ماتحتوں پر برابر برسنے کا انداز اپناتے ہیں۔

ایک مثال ان حکومتوں اور حکمرانوں کی مزید دی جا سکتی ہے کہ اقتدار میں آ کر اختیار پاتے ہی سب سے پہلے ضروری اور اہم امور کو ایک طرف رکھ کر محض اپنی شخصیت کا رعب اور عہدے کا اختیار ثابت کرنے کے لیے گلی محلوں میں تجاوزات کو ہی سب سے بڑا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں۔

اتفاق سے اہل کراچی نے حالیہ برسوں میں اس طرح کے اقدامات عدلیہ کی اعلیٰ ترین سطح سے بھی دیکھے ہیں۔ جس میں لوگوں کے چالیس چالیس سال پہلے سے بنے گھر ہی نہیں مسجدیں تک اختیار کی زد میں آ کر انہدام کا شکار ہو گئیں۔

مگر یہ تجاوزات ہٹانے اور پارکنگ کو ٹھیک جگہ پر کروانے ہر ہی سارا زور لگا دینے والے اصحاب یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے بڑے مسائل اس کے علاوہ بھی ہیں۔ سارا زور اور اختیار انہی مسائل پر لگا دینے کا نہیں ہے۔

افراط وتفریط انفرادی سطح پر ہو یا اجتماعی زندگی کا چلن قرار پا گیا ہو، اداراتی شناخت بن گیا ہو یا قومی شعار، اچھی چیز نہیں ہے۔

غرناطہ اور بغداد کی تاریخ کے عبرت ناک اور سبق آموز واقعات ہوں یا مثالیں اسی افراط وتفریط کے حوالے ہیں۔ یہ کسی فرد اور قوم کے سامنے کوئی مثبت اور معقول ہدف نہ ہونے کی علامت بھی ہیں اور آنے والے دنوں میں تباہی کی خبر بھی ہیں۔

بلاشبہ غلط پارکنگ کی تائید نہیں کی جا سکتی۔ مگر دو پہلوؤں سے پارکنگ کے امور کو مؤخر ضرور رکھا جا سکتا ہے۔ اولا یہ کہ کسی بھی ملک کے آئین اور قانون کی بالادستی کے متاثر ہونے کی یہ آخری درجے کی ایک چھوٹی سی علامت ہے۔ اس غلطی اور جرم کی سزا کے کمتر ہونے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس جرم کی سنگینی کم تر درجے کی ہے۔

دوسرا یہ کہ غلط پارکنگ اگر عارضی وجہ سے ہوئی ہے تو یقیناً یہ 75 برسوں کی آئینی خلاف ورزیوں، آئین شکنیوں اور قانون کی توڑ مروڑ کے درجے کا گناہ نہیں سمجھی جا سکتی ہے۔

لہٰذا قومی مسائل اور چیلنجوں کے حل کے لیے نچلی سطح سے آغاز کی کوشش شروع ہوگی تو مجموعی اصلاح کے بامعنی سطح تک پہنچنے میں صدیاں لگ جائیں گی۔ اس کے بر عکس اگر بڑے مسائل، چیلنجوں اور مجرموں یا قانون و آئین شکنوں کی پکڑ سے اصلاح احوال کی کوشش شروع ہوگی تو نچلی سطح تک 'ٹرکل ڈاؤن ایفیکٹس' خود بخود اور تیزی سے نظر آنے لگیں گے۔

کوئی توپ سے چڑیا اور چیونٹی کا نشانہ لینا چاہے تو یقیناً اسے روکا نہی جا سکتا بصورت دیگر وہ اپنی توپوں کا دھانہ روکنے والے ہی کی طرف سیدھا کر سکتا ہے۔ اگرچہ حقیقت یہی ہے کہ توپوں کے دھانے اور قیمتی بارود چڑیوں اور چیونٹیوں یا عام اور کمزور انسانوں کے لیے نہیں بنے ہیں۔

عام لوگوں پر گرجنا، برسنا اور اہل حکم کے لیے آواز کا دھیما کر لیا جانا، بڑوں کو آئین، پارلیمنٹ، قانون و احتساب کے سر عام کھلواڑ کی اجازت دیے رکھنا اور عام آدمی کو چھوٹے چھوٹے قواعد، ضابطہ بندی اور میرٹ یا معیار کے اعلیٰ پیمانوں پر تولنے کے لیے ہمہ وقت مائل رہنا، قومی وسائل اور قیمتی وقت کا ضیاع بھی ہے، شخصی عدم توازن کا اظہار بھی اور قدرے عدم بلوغت کی نشانی بھی۔ اسے اجتماعی سطح کا ابہام بھی کہا جاتا ہے۔

'نو پارکنگ' ، 'پارکنگ منع ہے' ، 'یہاں پارکنگ کی اجازت نہیں ہے' کے بڑے بڑے بورڈ عام لوگوں کے لیے ریڈ زون سمیت ہر جگہ موجود ہیں ۔ لیکن پارلمینٹ کے اختیار کو ذاتی مفاد میں استعمال کرنا، ملک کے بازوئے شمشیر زن کو محض قلمی و لسانی جہاد پر لگائے رکھنا اور بیرون سے زیادہ اندرون میں 'فوکسڈ' ہوتے دیکھنے کے بعد بھی خاموش رہنا قومی وسائل و اختیارات کی بھی غلط پارکنگ کے ذمرے میں آتا ہے۔

اس طرح کی ہر پارکنگ غلط ہے۔ اسے روکنے کے لیے بھی کبھی کوئی چپکے سے ٹہلتے ٹہلتے ادھر آ نکلے تو کیا ہی اچھا ہو۔ کیونکہ ان امور پر بھی ضرور حکم صادر ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر تو یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے منسوب اس قول 'مچھرکو چھاننے اور اونٹ کو نگل جانے' کے مصداق ہوگا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں