کمزوریوں اور کمزوروں کی لڑائی

نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کسی کو اچھا لگے یا برا ملک میں اس وقت کمزوروں کی لڑائی اپنے عروج پر ہے۔ لڑائی اگر مضبوط اور طاقتور لوگوں کے درمیان ہوتی تو زیادہ فکر کی بات نہیں تھی۔ طاقتور لوگ لڑتے ہوئے بھی کچھ اصولوں، کچھ اقدار اور اپنی روایات کا لحاظ رکھتے ہیں۔ لیکن کمزوروں کی لڑائی کا معاملہ دوسرا ہے۔

کمزور لوگ لڑائی میں کبھی بھی اخلاقیات، اقدار اور روایات کے پاسدار نہیں رہ پاتے۔ انہیں اپنی ہر لڑائی آخری لگتی ہے اور ہر لڑائی کی شکست میں انہیں اپنی موت بلکہ مرگ مفاجات دکھتی ہے۔ اس لیے ہر داؤ، ہر فریب، ہر سازش اور ہر قسم کی مکاری ہی نہیں گھٹیا چال چلنے کو ادا سمجھتے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت کی نفسیات میں یہ چیزیں اسی لیے گھٹی میں پڑی نظر آتی ہیں کہ صدیوں غلام رہنے والی قوم سے تعلق ہونے کی وجہ سے اخلاقی معاملات مکاری، عیاری اور سازش کو ہی جنم دیتے ہیں۔

بہرحال ذکر مودی کے بھارت کا نہیں، شہباز شریف، نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران خان اور قمر جاوید باجوہ کے قابو میں آئے ہوئے پاکستان اور پاکستانیوں کا ہے۔ ہاں مولانا فضل الرحمان کا اس لڑائی میں دخل ایک پس پردہ اداکار کی طرح تو ہو سکتا ہے۔ اب بڑے کھلاڑی اور جنگجو کا نہیں رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنا کام سود کے خلاف اپیل واپس کروانے میں دکھا دیا ہے۔

یہ انہی کی تجویز تھی کہ جس طرح عمران خان عوام میں مقبولیت پا رہا ہے۔ مذہبی ووٹر بھی اس کی طرف جا رہا ہے۔ اس لیے سود کے خاتمے کے لیے عدالتی فیصلے کے ساتھ کھڑے ہونے کا کارڈ کھیلنا ضروری ہے۔ یہ بات مولانا فضل الرحمان کو بھی اسی وقت سجھائی دی اور ان کے اتحادی وزیر اعظم شہباز شریف اور استاد وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو سمجھ آئی جب سود کے خلاف فیصلہ دینے والے جج صاحب سمیت اس کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والے، فریق بننے والے اور کیس لڑنے والوں کی بڑی تعداد دنیا سے جا چکی ہے۔

تاہم مولانا فضل الرحمان نے اپنے سیاسی ہونے کا بھرپور استعمال کیا اور سیاسی بیانیے کی جنگ میں عمران خان کی مسلسل کامیابی کا راستہ روکنے کے لیے بظاہربر وقت 'سود کارڈ' کھیلا ہے ۔ بلا شبہ مذہب کارڈ ان سے اچھا کوئی نہیں کھیل سکتا ہے۔ ان کی تو زرداری طرز کی ساری سیاست کا انحصار ہی اسی مذہب کے پوری مہارت سے اور بوقت ضرورت استعمال پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سود کے خلاف حکومت نے اپیل واپس لینے کا اعلان تو کر دیا لیکن ماہ اپریل میں سامنے آنے والے عدالتی فیصلے پر عمل کے حوالے سے آج تک کوئی عملی قدم اٹھایا ہے نہ ایسی تیاری کی ہے نہ ارادہ۔ گویا ' رند کے رند رے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔ '

اسی لیے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے آئندہ جمعہ کو ملک گیر سطح پر یوم انسداد سود منانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بقول حکومت کا دوہرا معیار یہ ہے کہ ایک طرف سود کے خلاف اب آکر عدالتی فیصلے کو ماننے کا اعلان کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب حکومت نے شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے۔ یوں حکومت کا مقصد سود کا خاتمہ نہیں ہے۔ 'سود کارڈ' چلانا ہے۔ لیکن سیدھی سادھی سیاست کرنے والے سراج الحق کا یہ بھولپن ہے کہ ایک یوم انسداد سود منانے سے حکومت سود کے خلاف عملی اقدامات بھی کرنا شروع کر دے گی۔ اس کے لیے لمبی مہم اور تحریک چلانا پڑے گی اور ایک واضح لائحہ عمل کے ساتھ سامنے آنا پڑے گا۔ جس کا فیصلہ شاید جماعت اسلامی بھی کرنے پر مائل نہیں ہے۔ اس جنگ کو اللہ نے اپنے خلاف جنگ کا نام دیا ہے ۔ کیا اتنی بڑی جنگ ایک دن میں جیتی جا سکتی ہے۔ کسی نقصان اور قربانی کے بغیر؟

بات ہو رہی تھی کمزوروں کی لڑائی کی۔ سب کمزوروں کو ایک دوسرے کی کمزوری ہی نہیں تمام تر کمزوریوں کا خوب ادراک ہے۔ اس لیے اوچھے ہتھکنڈوں کی یلغار کی تمام راہیں ہموار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لڑائی کا ہر فریق اپنے اپنے انداز میں اپنا آپ دکھا رہا ہے اور دوسرے کو بھی ننگا کر رہا ہے۔ اس میں کچی پکی خبریں۔ الٹی سیدھی کہانیاں اور تھپڑ تک چل جانے کی افواہیں بھی جگہ پا رہی ہیں ۔ وجہ صاف ہے کہ کوئی بھی بات اصول اور ضابطے کے مطابق اور شفافیت کے ساتھ نہیں کی جارہی ، بلکہ اسی طرح مال اور اختیار بانٹنے کوشش ہے جس طرح بھلے وقتوں میں چور چوری کے کپڑے کو ڈانگوں سے ماپ کر باہم تقسیم کرتے تھے۔ اب یہی کام ملکی قیادتیں کرتی ہیں۔

کمزوروں کی اس لڑائی میں فریق اول مسلم لیگ نوازہے۔ اس کی قیادت اور حکومت ہے۔ اس کی کمزوری یہ ہے کہ اس کی اصلی قیادت ملک سے باہر ہے۔ ملک میں پارٹی کی قیادت، اصلی قیادت کے مطابق کمزور ہاتھوں میں ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اپنی صحت کی کمزوری ہی نہیں سیاسی پالیسی، فیصلہ سازی اور اقدام کاری میں بھی بہت کمزور ہیں۔ اس لیے اپنا آئین و قانون میں دیا گیا حق بھی کئی جگہوں سے پوچھ پاچھ کر استعمال کرنے کے رجحان کے باوجود کورونا کے پیچھے چھپ کر گھر بیٹھ گئے، بلکہ لیٹ گئے ہیں ۔

ان کا یہ لیٹ جانا محض لیٹ جانے اور بار بار لیٹ جانے کے معنوں میں نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے اٹونٹی کھٹونٹی لے کر لیٹ جانے کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ وہ اپنے اختیار کے مطابق آرمی چیف لگا پانے سے بھی ابھی تک قاصر نظر آرہے ہیں اور اپنے بڑے بھائی جان کے اصرار کے مطابق بھی ۔ نہیں لگا رہے۔ بے چارے میاں شہباز شریف شکنجے اندر پھنس کے رہ گئے ہیں۔

لیکن آرمی اور اس کے سربراہ ہی نہیں دوسرے اعلی ذمہ داران کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کے انداز میں وہ وہی سلوک کر رہے ہیں جو تبلیغی جماعت کی فیلڈ میں نکلی ایک چھوٹی جماعت نے ایک پرانے جواری کے توبہ تائب یعنی 'اے گلیمبر' ہو کر سیدھے راستے پر آنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب تبلیغی جماعت کی تبلیغ پر نکلے امیرصاحب اس 'اے گلیمبر' قسم کے نئے نئے تبلیغی مسلمان کا تعارف ہی یہیں سے کرتے تھے کہ یہ شہر کے سب سے بڑے جواری تھے، وغیرہ وغیرہ مزید وغیرہ وغیرہ ۔

بالآخر اپنے اس سابقہ تعارف کو ہر دروازے پر دستک کے ساتھ پہنچانے کی تبلیغی جماعت کی مہم سے تنگ آکرسابقہ جواری کو واپس اپنے مہارت کے اصل میدان میں جانا پڑ گیا۔ جہاں وہ ایک عزت دار فرد کے طور پر تسلیم شدہ تھا۔ اس کا رعب داب اور عزت و عظمت مسلمہ تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ 'اے گلیمبر'ہونے کے بعد اتنا ذلیل کیا جائے گا۔

شہباز شریف اور ان کی جماعت اور حکومتی وزیر ہی نہیں اتحادی رہنما بھی یہی معاملہ کر رہے ہیں کہ پہلے والے آرمی چیف قمر باجوہ کے وقت وداع اور نئے کی نامزدگی کے اس درمیانی دورانیے میں وہ عمران خان کے کھاتے ہیں۔ نیوٹرل کے لفظ سے شروع کر کے وہ تشریحات بزبان عمران خان پیش کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ یادش بخیر یہ نیوٹرل اور اس لفظ کے معنی جو اب عمران خان کی لغت عمرانی سے جڑ کر رہ گئے ہیں اصلاً سابق وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کی اپنی مشہور زمانہ تقریر میں استعمال بلکہ ایجاد کیے تھے۔

کمزوروں کی لڑائی میں پاک آرمی فریق ثانی ہے۔ اسے فریق اول کی ان کمزوریوں کا بھی خوب اندازہ ہے جو فریق اول کو اب یاد تک نہیں رہی ہیں۔ اسے بھی بارہ تیرہ جماعتوں کے مربے سے تیار ہونے والی حکومت میں مضبوطی والی چیزکیوں نظر آ سکتی ہے۔ اس لیے وہ بھی اس کی اسی کمزوری سے خوب کھیل رہی ہے۔ اسی وجہ سے سمری مبینہ طور پر حکومت کے پسندیدہ وقت میں جاری نہیں کی گئی ہے۔ آگے بھی سب کچھ وہ نہیں ہوسکتا جو حکومت یا اس کے اصل فیصلہ ساز میاں نواز شریف چاہتے ہیں۔ یقینا یہ ہضم ہونا مشکل ہے کہ اس قدر کمزور حکومت کا وزیر اعظم ملکی سلامتی سے متعلق امور کو اپنے خاندان کی ترجیحات کے تابع کر دے۔

فوج کے کسی ایک ممکنہ ' بینفیشری' کو تو یہ بات قبول ہو سکتی ہے پوری فوج کو بحیثیت مجموعی نہیں۔ ماضی میں جو فیصلے ابا جی کرتے تھے۔ اب ایک بھائی جان، ایک سسرصاحب، ایک سمدھی صاحب ، ایک داماد صاحب اور ایک بیٹی مل کر کر رہی ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ اس سے پہلے 'آرمی' کی اتنی بےقدری نہ تھی۔ دنیا کے بیمار ترین سیاسی قائد جو اپنی بیماری کی وجہ سے کراچی اور سندھ کے سیلاب زدگان کو نہ مل سکے تھے اپنی بیماری کے باوجود قیمتی مشورے لیے لیے پھر رہے ہیں۔ اسحاق ڈار ایک طویل عرصہ مفرور بمعنی بھگوڑا ملک سے باہر رہے۔ آج کل فوج کے محاذوں پر ڈٹ کر کھڑے جوانوں کے چیف کا تقرر کرنے میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

تیسرے فریق عمران خان ہیں۔ ان کا سب سے بڑا ہتھیار ان کی مقبولیت کا بڑھتا ہوا گراف ہے۔ اگرچہ یہ ہتھیار ان کے ہاتھ میں نسبتاً نیا ہے۔ ان کے ہاتھ میں دوسرے ہتھیاروں میں سے اہم ترین اس پی ڈی ایم پلس پی پی پی و دیگران کی حکومت کی سات ماہ میں کارکردگی کا انتہائی مایوس کن ہونا ہے۔ اس لمبی چوڑی اور وسیع البنیاد مگر 'ستماہی' حکومت نے سات ماہ کے دوران سوائے نیب، سینٹ، چیئرمین، سینٹ اور بعض اہم تعیناتیاں اپنے ہاتھ سے کرنے اور بڑے سیاسی قائدہن کی اگلی نسل کو وفاقی کابینہ میں وزارتیں دینے میں کامیابی حاصل کر لینے کے کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے۔ عوام کے لیے دھیلے کا کام نہیں کیا۔ عمران خان کی اپنی کمزوریوں کی بھی ایک لمبی فہرست مخالف کے پاس آڈیو اور وڈیو ٹیپس کی صورت موجود ہے۔ کچھ قابل بیان اور کچھ ناقابل بیان۔

سوال یہ ہے کہ آیا آرمی چیف کی تقرری میں سیاست اور سیاسی ملحوظات صرف پہلی بار شامل ہوئی ہیں۔ کیا ماضی میں میاں نواز شریف سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک کے وزرائے اعظم نے سیاسی مفادات، ترجیحات اور ضروریات کو الگ رکھتے ہوئے آرمی چیف مقرر کیے تھے۔ اگر ایسا مسلسل ہو رہا ہے تو فوج کے اس شعبے سے 'اے پولیٹیکل' رہنے کی امید کیسے ہو سکتی ہے؟

یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر فوج کے چیف کے معاملے میں سیاسی اور مفاداتی و ذاتی کھلواڑ اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ کمزوری سے دوچار ہر با اختیار اپنا حصہ اور حق زیادہ سمجھ کر ملکی سلامتی کی اس ذمہ دار فوج کو کمزور کرنا شیر مادر کی طرح اپنا حق سمجھتا ہے تو بائیس کروڑ عوام کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں بشمول پارلیمنٹ، عدلیہ اور بیوروکریسی و انتظامیہ اور قومی خزانے کے ساتھ کے ساتھ کھلواڑ کتنا نیچے جا کر کیا جاتا ہوگا۔ اس سوال کا جواب پانے کی خاطر ان کی حالت اورکارکردگی کو جانچنے کے لیے کسی زیادہ تکلف کی ضروت نہیں ہے۔ سب کچھ سامنے کی باتیں ہیں۔

اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو شہ رگ پاکستان کشمیر ، سیاچن، کارگل، سر کریک اور اس طرح کے سارے تذکرے محض علامتی رہ جائیں گے۔ ملک سے باہر بیٹھا دشمن گدھوں کی طرح مزید جھپٹنے کے لیے بے تاب ہوتا رہے گا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ زمین انسانوں کو کھا جاتی ہے۔ لیکن جب اس قماش کے فیصلہ سازوں کے ہاتھوں میں معاملات ہوں تو یہ انسان بھی زمین کو کھا جاتے ہیں۔ قوم کو بیچ ڈالتے ہیں اور ملکوں کو نقشے سے مٹا کر دم لیتے ہیں۔ ان کمزور لوگوں کی اغراض اور ان کے انداز انہیں اپنے ملکوں ، اداروں اور سماج کے لیے دیمک بنا دیتے ہیں۔ دیمک بھی دیکھنے میں کمزور ہوتی ہے ، بہت کمزور۔ مگر اس کی کارروائیوں کو روکا نہ جائے تو سب کچھ منہدم ہونے کی طرف پہنچ سکتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں
  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size