سات اکتوبر 2023 کے بعد مشرق وسطی کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے تشکیل پانے والے نئے وژن میں ایران ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر رہا ہے۔ اس پس منظر کو سمجھنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسرائیل کس قدر وحشت ناک حملے کا تصور رکھتا ہے۔
ایران اور اسرائیل کی جاری جنگ کو سمجھنے سے یہ بات بھی سمجھنے میں مدد ملے گی کہ مشرق وسطی کی پچھلی بڑی جنگوں کے بعد دنیا کس قدر تبدیل ہو چکی ہے۔ خصوصا حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد دنیا کو کس قدر تبدیل کر دیا ہے۔ اس تناظر میں بلاشبہ سات اکتوبر کے حملے کے بعد بننے والے قواعد ایک اچھا نکتہ آغاز کہے جا سکتے ہیں۔
جبکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری اس براہ راست جنگ نے حالیہ دہائیوں کے دوران مشرق وسطی کی بڑی جنگوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ جیسا کہ 1980 سے 1988 کے دوران ایران عراق جنگ ہوئی، 1973 اور 1967 میں عرب ملکوں اور اسرائیل کی جنگیں ہوئیں۔ اسی طرح 1956 میں نہر سویز کا بحران پیدا ہوا تھا۔ یہ سب بڑی جنگی اور تنازعات تھے۔ اگرچہ ہر ایک کی حرکیات، مقتضیات اور اثرات میں فرق تھا۔
اب ایران اور اسرائیل کی جنگ ایسے حالات میں ہو رہی ہے جب سرد جنگ کے اثرات سے مغرب اور مشرق نکل چکے ہیں۔ اس لیے تمام مغربی ملک اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں نہ ہی سارا مشرقی بلاک ایران کی حمایت میں کھڑا ہے۔
البتہ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے کسی بھی پیشرو کی طرح بالکل نہیں ہیں۔ اپنے طرز فکر و عمل میں بھی بالکل ماضی کے امریکی صدور سے جدا ہیں۔
تب اور اب
بیسویں صدی کے دوسرے وسط میں مشرق وسطی کے کئی ملک مضبوط اور کھڑے ہونے کی پوزیشن میں تھے۔ کہ ان کے پاس وسائل کے علاوہ لیڈر شپ بھی مختلف تھی۔ ان میں مصر، شام اور عراق کی مثال اہم ہے۔ عراق کی فوج مضبوط تر تھی جبکہ عراق سیاسی اعتبار سے بھی مستحکم تھا۔
جبکہ آج معاملہ مختلف ہے۔ ان میں کوئی بد ترین معاشی صورت حال سے نکلنے کی کوشش میں ہے، کسی کو خانہ جنگی نے سخت زک پہنچائی ہے اور کوئی ان دونوں عارضوں میں بیک وقت مبتلا ہے۔ عرب دنیا کی طاقت کا مرکز خلیج میں منتقل ہو گیا ہے اور سعودی عرب اس کی قیادت کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں علاقے میں دوسرے ملک جن میں ترکیہ قابل ذکر ہے بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔
گویا یہ ایک سائیکل ہے جس سے مشرق وسطی کے ملک باری باری گزرنے پر مجبور ہوتے رہے ہیں۔ کبھی جو ایک اوپر ہوتا ہے پھر وہی نیچے کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ایک عرصے اب تک جاری نظر آتا ہے۔ ایسا جنگ عظیم دوم کے بعد مغرب میں دیکھنے کو کم ملتا ہے۔ یوں اب سات اکتوبر 2023 کے بعد انہیں کچھ نیا کرنا ہے کچھ نئے سے گزرنا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی جنگ ، لبنان میں حزب اللہ کا اس کی اعلی قیادت سمیت سر قلم کیا جانا، شام میں الاسد رجیم کے خاتمے کے بعد ایران کے لیے بہت کم حمایت کا باقی رہ جانا یا اس کے اتحادیوں کا ایک ایک کر کے کمزور اور بے دست و پا ہو جانا ایک نئی اور اہم حقیقت ہے۔
2020 میں صدر ٹرمپ کے حکم پر بغداد میں قتل کیے جانے والے ایرانی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی بنائی گئی یہ ایرانی حکمت عملی اب عملا بے نقاب بھی ہو گئی ہے اور اپنی حیثیت بھی کھو بیٹھی ہے کہ ایران مختلف عرب ملکوں کو اپنی پراکسیز کے ذریعے تصادم کا شکار بنائے رکھے۔
اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو جنگ کو ایران کی اپنی سرزمین سے دور دھکیلے رکھنا بھی تھا۔ تاکہ ایران کو براہ راست کسی جنگ میں نہ الجھنا پڑے۔ لیکن قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران کی یہ حکمت عملی موثر نہیں رہ پائی ہے۔ اسی لیے ایران کے خلاف براہ راست جنگ شروع کرنے کی اسرائیلی آرزو مندی آگے بڑھ سکی ہے کہ اب کسی علاقے میں ایران کی کوئی ایسی پراکسی موجود نہیں جو ایران کی مدد کو آ سکے یا اسرائیل کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔ جیسا کہ ان دنوں ہو رہا ہے۔
کمزوری کا احساس ہونا
ایران نے جس 'فوجوں' کو سالہا سال تک مضبوط کیا۔ ان کی تشکیل و تربیت اور انہیں اسلحہ دینے کے لیے اپنے کئی برس اور قیمتی سرمایہ لگایا تھا ۔ آج وہ ایران کی مدد کے لیے کہیں بھی میدان جنگ میں دستیاب نہیں ہیں۔ ان کی قیادت قتل کر دی گئی ہے۔ ان کے اسلحے کے ذخیرے تباہ کیے جا چکے ہیں۔
ایک وقت ایسا تھا جب چار عرب ملکوں کے دارالحکومت بغداد، دمشق ، بیروت اور صنعا خطے میں ایرانی اثر و نفوذ کی علامتوں کے طور پر نظر آتے تھے۔ لیکن اب ان میں سے کوئی ایک بھی اپنی اصل حالت میں موجود نہیں۔ سب نے بڑی تباہی دیکھ لی ہے اور دوسروں کے رحم وکرم پر ہیں اور تباہی یہاں تک پہنچی ہے کہ اب ان میں سے کوئی ایک اتحادی یا ایرانی 'پراکسی' اس ضرورت کے وقت پر ایران کی حمایت میں لڑنے کو تیار نہیں ہے۔ تاہم ان اتحادیوں میں سے ہر ایک کی وجوہات اپنی اپنی ہیں۔
اسرائیل اور نیتن یاہو نے ایران کی اس کمزوری کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ اسی لیے جنگ چھیڑی گئی ہے کہ یہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے اچھا موقع تھا کہ وہ خطے میں اپنے اہداف حاصل کر سکے۔
اس لیے اسرائیل نے ایرانی رجیم کا تختہ الٹنے کو بھی اپنا ہدف قرار دیا ہے۔ پہلے وہ یہ خواہش غزہ، لبنان اور شام کے لیے رکھتا تھا۔ اب اس نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہٹانے اور ایک بار پھر ایران میں شاہی دور واپس لانے کے لیے امریکہ کی مدد چاہی ہے ۔ تاکہ سابق شاہ ایران کے بڑے بیٹے رضا پہلوی کو برسر اقتدار لایا جا سکے۔
اسرائیل کا دوسرا اہم ہدف ایرانی جوہری پروگرام کی مکمل تباہی ہے۔ جب یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں تو اسرائیل کا یہ دعوی سامنے آ چکا ہے کہ تہران کی فضاؤں پر اسرائیلی فضائیہ کا راج ہے۔
مختصرا یہ کہ نیتن یاہو غزہ اور لبنان و شام کی طرح ہی ایران میں بھی اپنے اہداف کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ طریق عمل اس نے غزہ سے اخذ کردہ اصولوں سے لیا ہے۔
پہلے کلیدی شخصیات اور قائرین کو قتل کیا۔ ان میں فوجی قیادتوں کے علاوہ سول قائدین اور سیاسی قیادتیں بھی شامل تھیں۔ یوں پورا سیاسی و عسکری انفراسٹرکچر تباہ کر کے اپنے لیے مواقع پیدا کیے۔ اپنی حامی قوتوں کے لیے بھی جگہ بنائی۔ اب یہ ساری باتیں اسرائیل کی حکمت عملی اور نیتن یاہو کے مشرق وسطی کے لیے نئے ویژن پر مبنی کتاب کا متن بن گئی ہیں۔
بقا کا سوال
جب یہ سوال ایران کے حوالے سے سامنے آتا ہے تو اسرائیل پر امید ہے کہ ایرانی رجیم کی یہ کمزوریاں اسے اندرونی طور پر کمزور کر کے اس کے لیے چیلنج بڑھا رہی ہیں۔ نیز ایرانی قیادت کو مجبور کرنے میں اہم ہو سکتی ہیں کہ وہ اپنے جوہری عزائم ختم کر دیں یا پھر خود مرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ جیسا کہ ایرانی رہبر علی خامنہ ای کی زندگی کی خاتمے کو امریکی صدر بھی مشکل نہیں قرار دے رہے ۔ بس فی الحال ایک فوری آپشن کے طور پر نہیں دیکھتے۔
ایران کی نمایاں طور پر کمزور ہو چکی رجیم خطے میں توازن کو ایک اور طرح سے متاثر کر دے گی۔ یقینا یہ نیا توازن ایران کے حق میں نہیں ہو گا۔ بلکہ اس کی خطے میں ایک نئی الائنمنٹ کا دروازہ کھلے گا۔
اب یہ بڑا امکان لگ رہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے عزائم ادھورے رہ جائیں۔ یہ کہتے ہوئے یا سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ایران سے اگلا ہی ملک شام ہے۔ جس کے بشارالاسد حکومت دور کے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کیا جارہا ہے۔ جبکہ شام کی نئی قیادت اپنے نئے اتحادوں میں جڑ رہی ہے۔
لیکن ایک چیز جو ایران کو ڈیل کرنے والوں کو سمجھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ شام اور ایران میں فرق ہے۔ انہیں سادگی کے ساتھ ایک جیسا سمجھنا درست نہ ہوگا۔ مختصرا یہ کہ ایران شام نہیں ہے۔ ایرانی حکومت اور اس کا نظام شام کے مقابلے میں کہیں زیادہ لچکدار ہے۔
اسرائیل کی ایک عرصے سے کوشش رہی ہے کہ وہ امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹے۔ آج تک امریکہ کی یہی کوشش رہی ہے کہ وہ صرف دفاعی معاملوں تک رہے یا پھر انٹیلی جنس کے حوالے سے اسرائیل کی مدد کرتا رہے۔ شاید امریکی قیادتیں مشرق وسطی میں مکمل جنگ کے ساتھ کودنا اپنے دیگر بہت سے مفادات کے حق میں بہتر نہ سمجھتی رہی ہوں۔ لیکن اب تل ابیب اور حیفا کے شعلے ہو سکتا ہے کہ امریکہ کو کچھ زیادہ کرنے پر مجبور کر دیں۔ ٹرمپ نے کچھ ایسے اشارے بھی دیے ہیں۔
اسرائیل امریکہ کو مشرق وسطی میں پہلے سے زیادہ انوالو کرنا چاہتا ہے۔ جس طرح کہ وہ ماضی میں ویت نام اور افغانستان وغیرہ میں براہ راست جنگ لڑ چکا ہے یا جنگوں کی قیادت کر چکا ہے۔ اسرائیل سات اکتوبر کے بعد خطے کی مکمل اصلاح اور صفائی چاہتا ہے۔ اس لیے ایران کو مختلف رد عمل دینا چاہتا ہے۔ تاکہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے نئے ویژن کے مطابق نیا مشرق وسطی وجود میں لایا جاسکے۔ پھر مذاکرات ہوں۔ نئی سیٹلمنٹس ہوں اور جنگ کے بعد تعمیر نو کی جائے۔
کیا یہ وژن آگے بڑھے گا؟
مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر خواہش اسی طرح پوری ہو جائے جس طرح کی جارہی ہے۔ کیونکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تصادم محض جھڑپوں کی طرح نہیں ہے۔ یہ ایک جنگ ہے۔
اس جنگ کے ساتھ اب واضح طور پر دو امکانات جڑے ہوئے ہیں: ایک یہ نئی جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے رجوع کیا جائے یا پھر تمام داخلی اور علاقائی سطح پر ابھرنے والے اثرات کے ساتھ بات کی جائے۔ ان میں سے ایک کا انتخاب پوری احتیاط کے ساتھ کرنے کی ضروت ہے۔ بہر حال یہ جنگ سات اکتوبر کے بعد بنائے گئے نئے قواعد کے مطابق ہو رہی ہے۔