نیتن یاہو سمجھ چکے، کوئی ملک غزہ کے بے گھروں کو نہیں لے گا!
غزہ کی جنگ جو اگلے ماہ دو سال پورے کر رہی ہے۔ اس کے طویل تر اسرائیلی جنگ ہونے کے باوجود صورت حال یہ ہے کہ نیتن یاہو کی طرح امریکی صدر ٹرمپ بھی تحمل کا دامن تھامے رکھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
اس لیے نیتن یاہو کے لیے ان کا تبصرہ بھی ہے اور مشورہ بھی۔ یعنی بیک وقت دونوں چیزیں وہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے انہیں اس جنگ کو ختم کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اس جنگ سے اسرائیل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس امر پر شاید کسی کو شک نہ ہو کہ جنگ میں اسرائیل کو جیت ہو رہی ہو۔ مگر اسرائیل عالمی رائے عامہ کی تائید و حمایت نہیں جیت پا رہا۔ بلکہ بعضوں کے خیال میں اس میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو کو اب امکانی طور پر غزہ سے نکالے جانے والے فلسطینیوں کو دھکیلنے یا بسانے کے لیے متبادل ملکوں کی تلاش کرنا پڑ گئی ہے۔ تاکہ دس لاکھ فلسطینیوں کو ان کے ہاں بھیج سکے یا ان میں تقسیم کر سکے۔
اس مقصد کے لیے شام، صومالیہ، صومالی لینڈ، جنوبی سوڈان اور انڈونیشیا ان کی کوششوں کا مرکز رہے ہیں۔ نیتن یایو کی ایک خواہش یہ بھی ہے کہ غزہ سے نکالے گئے فلسطینیوں کو غزہ اور اسرائیل سے جغرافیائی قربت والے کسی ملک میں نہ بھیجیں کہ پھر آئے روز کے مسائل اور چیلنج بنتے رہیں گے۔
صاف بات ہے وہ نت نئی سر دردی میں اسرائیلی ریاست کی معیشت و معاشرت کو مبتلا نہیں دیکھنا چاہتے۔ کہ اسرائیل بہر حال ایک نئی ریاست ہے اور اس کی آبادی کی غالب اکثریت دوسرے ملکوں سے متعلق ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نیتن یاہو نے کبھی یہ کوشش نہیں کی ہے کہ غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کو یورپ یا کینیڈا میں بھجوائیں۔ ایسی کوشش نہ کرنے کی وجہ یہ ہے یاہو نہیں چاہتے یہ فلسطینی کینیڈا اور یورپ میں رہ بس کر اسرائیل کے لیے کوئی مقابلے کی قوت بن کر زیادہ با اثر ہو جائیں۔
نیتن یاہو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں اور بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور وہ غزہ کی سست روی سے تباہی ہے۔ بعد از جنگ کیا ہو گا اور کیا کرنا ہو گا۔ نیتن یاہو اس معاملے میں بھی ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غزہ کے رہنے والوں کو بے گھری کے آخری درجے تک پہنچائے بغیر جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتے۔
اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم ابھی ان جگہوں کو بھی محفوظ نہیں بنا سکے جنہیں وہ ہر قیمت پر محفوظ بنانا چاہتے تھے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ یہ افواہ بھی ہے کہ نیتن یاہو غزہ کے فلسطینیوں کو اپنے اعلان کردہ سکیورٹی زونز میں محدود کر دینا چاہتے ہیں۔
کیونکہ شام میں فلسطینیوں کو رکھنے کی کوشش بھی مستقبل میں منظم خطرہ بن سکتی ہے۔ جیسا کہ لبنان میں ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اب تک کسی بھی ملک نے غزہ کے فلسطینیوں کو اپنے ہاں بسانے کی اس تعداد سے اتفاق نہیں کیا ہے جو اسرائیلی وزیر اعظم یا کسی اور کی خواہش ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے غزہ میں وسیع پیمانے پر فلسطینیوں کے قتل کا جرم کیا ہے۔ ان ہلاک کیے گئے لوگوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے۔ مزید یہ کہ درجنوں اسرائیلی قیدیوں کی ہلاکت بھی انہی کی جنگی پالیسی کے باعث ہوئی ہے۔ اس کے باوجود یہ محسوس نہیں ہوتا کہ نیتن ہاہو کو یہ جرم بے چین کرتا ہو یا اس کے دل میں کوئی ایسی خلش پیدا کرتا ہو کہ اسے راتوں کو نیند نہ آتی ہو۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ جنگ بندی کی راہ میں آج بھی رکاوٹ ہیں۔ وہ جنگ بندی کی اب تک کی تمام تجاویز کو مسترد کر چکے ہیں۔ حتیٰ کہ امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف کی تجاویز کو بھی انہوں نے قبول نہیں کیا ہے۔
وہ جنگ بندی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ غزہ میں امدادی سامان بشمول خوراک کی ترسیل کی بھی بہت تھوڑی مقدار میں اجازت دیتے ہیں۔ اگرچہ انہیں غزہ میں بھوک کے باعث اموات کا بھی علم ہے اور اقوام متحدہ کے قحط کے انتباہات سے بھی بے خبر نہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ خوراک انہیں کی فوج کی نگرانی میں غزہ پہنچتی ہے لیکن پھر بھی اس بارے میں انہیں شک بھی ہے اور شکایات بھی۔ اس لیے صرف سرحد سے جڑی رفح داری سے گزرنے والی محدود سی خوراک ہو یا جہازوں کے ذریعے گرائے گئے خوراک کے قطروں کا معاملہ ہو ۔ نیتن یاہو کو ان پر بھی شکایات اور تحفظات ہیں۔
وہ چاہتے تو اپنی ان پریشانیوں کے مداوے کے لیے اسرائیل کے اندر موجود حل کا اطلاق کرتے۔ اسرائیل کی اشدود کی بندرگاہ غزہ سے محض چالیس کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ اسی طرح تل ابیب کا بین گوریان ایئر پورٹ غزہ سے صرف 70 کلومیٹر دور ہے۔ مگر وہ اپنے شکوک کو بھی بوجوہ دور نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کی موجودگی کی برقراری انہیں پسند ہے۔
رہے غزہ میں اسرائیلی قیدی تو ان کے لیے بھی وہ ایک بے رحم پالیسی رکھتے ہیں۔ یہ کہنے کی وجہ صاف ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ان کی ترجیحات میں آخری درجوں میں ہے۔ اگر یہ ترجیح بنائیں تو حماس کے خلاف جنگ کو مسلسل جاری رکھنے کا جواز کیا پیش کریں گے۔
وہ حماس کی آڑ میں پچھلے کئی برسوں سے تین مقاصد کا حصول ممکن بنانے کے لیے مسلسل جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو کا پہلا مقصد فلسطینیوں کو تقسیم کرنے کا موقع پیدا کیے رکھنا ہے کہ تقسیم ہو چکے فلسطینی ان کے فائدے میں ہیں۔
دوسرا مقصد کسی بھی سیاسی حل سے دور رہنا ہے کہ اس طرح انہیں اپنے قبضے چھوڑنا پڑیں گے۔ تیسرا یہ کے حماس کو مغربی دنیا کے سامنے اس طرح پیش کرنا کہ مغربی ممالک کی اسرائیل کے لیے حمایت کا امکان ختم یا کمزور نہ ہونے پائے۔
اگر نیتن یاہو مسئلے کا حل چاہتے تو وہ اس غزہ جنگ کے شروع میں ہی حماس کو نکل جانا کرتے۔ تاکہ اسرائیل اسے بھی تباہ نہ کر پاتا اور قتل عام بھی نہ کر سکتا۔ یہ حکمت عملی یاسر عرفات نے اختیار کی تھی۔ 1982 میں نیتن یاہو کی جگہ اور اسے تمام مخالف مسلح افواج کو تباہ کرنے کا لائسنس دے دیا۔
غزہ میں فوجی مہم کے آغاز سے ہی حماس کو پٹی سے نکل جانا چاہیے تھا تاکہ نیتن یاہو کو اسے تباہ کرنے اور قتل عام کرنے کا موقع نہ ملتا۔ یاسر عرفات نے یہی کیا تھا جب 1982میں نیتن یاہو کی جگہ پر اریئل شیرون تھا۔ شیرون نے بیروت کا محاصرہ کیا تو یاسر عرفات نے اپنے آدمیوں کو ساتھ لیا اور بیروت سے نکل گیا۔ یوں اس کی جان بھی بچ گئی اور اس کے ساتھیوں کی جان بھی محفوظ رہی۔
مگر ہوا کیا کہ اس ساری اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہونے والی خونریزی کو حماس نے موقع دیا۔ وہ مذاکرات کے ہر ہر مرحلے پر جھکتی اور نرم پڑتی رہی۔ مگر نیتن یاہو اس سب کچھ کو کم قرار دیتے رہے ۔۔۔ اور عملاً ' ڈو مور ' کی پالیسی چلانے کی کوشش میں رہے۔
اگر ایران اپنے تمام تر ہتھیاروں اور فوج کے باوجود مزید آگے بڑھ کر لڑنے سے پیچھے ہٹ گیا اور حزب اللہ نے بھی جنگ بندی معاہدہ قبول کر لیا تو حماس کی کیا حیثیت تھی کہ وہ اسرائیل کی نافرمانی کرتی رہتی۔ اسے اس نافرمانی سے بچنا چاہیے تھا۔ ایسا نہ کرنے سے ہی اسرائیل کو جواز فراہم ہوتا رہا۔ حماس کے حامی اسی مضمون کے شروع میں دیے گئے ٹرمپ کے ان الفاظ کا حوالہ استعمال کر سکتے ہیں کہ 'اسرائیل عالمی رائے کو جیت نہیں سکا بلکہ کھو رہا ہے۔'
لیکن ٹرمپ کا بیان کچھ بھی ہو۔ یہ عالمی رائے عامہ نہیں۔ یہ میڈیا کے غبارے جن کی ہوا جلد نکل جاتی ہے اور پھر یہ لوگوں کو یاد بھی نہیں رہتے۔ نیتن یاہو تو پچھلے بیس برسوں سے میڈیا کی حمایت کھوئے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ ان کی پریشانی کا باعث نہیں ہے۔
نیتن یاہو کو پریشانی صرف اس صورت ہو سکتی ہے کہ صدر ٹرمپ میڈیا کی وجہ سے اپنے انتخاب کے لیے چیلنجوں سے خوفزدہ ہو کر اسرائیل کی حمایت سے پیچھے ہٹنے لگیں یا سلامتی کونسل کے ارکان کو مجبور کر دیں کہ وہ اسرائیل کو سزا دینے کے لیے کچھ کریں۔ ایسا کچھ ہوا ہے نہ ہونے والا ہے۔ میڈیا کی حمایت کا نہ ہونا اور مخالفانہ شور کرنا یا سیاسی شرمندگی کی صورت حال رہنا نیتن یاہو کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ بلکہ وہ اپنے اس انداز سے اسرائیلیوں کے نڈر محافظ کے طور پر ابھرتے ہیں۔ وہ بے پرواہ لیڈر ہیں جیسا کہ بین الاقوامی فوجداری کے وارنٹ گرفتاری بھی ان کے لیے خطرہ نہیں بن سکے۔
رہی بات امریکی یونیورسٹیوں میں اسرائیلی جنگ کے خلاف مظاہروں کی تو امریکہ میں ان یونیورسٹیوں کو چپ کرانے میں بھی بالآخر نیتن یاہو ناکام نہیں رہے۔ ان سٹوڈنٹس کے خلاف ٹرمپ کا گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی کافی آگے بڑھ چکی ہے۔ ٹرمپ کی یہ پالیسی بہرحال نیتن یاہو کے لیے ہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ حماس یا فلسطین کو اس پراپیگنڈے والے ماحول سے کیا حاصل ہو سکا۔ پل دو پل کی حمایت کی کہانی کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔ امریکی یونیورسٹیوں میں نیتن یا ہو کی یہ مخالفت کسی کو بھی متاثر نہیں کر سکی اور ٹھس ہو گئی۔ امریکی سٹوڈنٹس کی ریلیاں زمینی حقائق پر تو بہر حال اثر انداز نہیں ہو سکیں۔ تباہی تو اسی طرح جاری ہے۔