غزہ کا محاذ بند، لبنان، یمن و ایران کے محاذ باقی
غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن ابھی باقی جگہوں پر کام باقی ہے۔ دیگر محاذ اب بھی کھلے ہیں۔ لبنان میں ایک کمزور سی جنگ بندی چل رہی ہے۔ جبکہ یمن کے ساتھ گاہے گاہے گولہ باری و میزائلوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ دریں اثناء ایران ایک بڑے فرنٹ کے طور پر سامنے ہے۔ جو جون کی 12 روزہ جنگ کے بعد کافی چوکنا ہوئی ہے۔
اس تناظر میں تمام آنکھیں نیتن یاہو پر لگی ہوئی ہیں کہ کیا شرم الشیخ میں امن کانفرنس کے حوالے سے سامنے آنے والی پیش رفت نیتن یاہو کو وزارت عظمیٰ سے نکال پھینکتی ہے یا وہ دوسرے محاذوں پر اپنا مشن مکمل کرنے کی طرف آگے بڑھ سکیں گے۔
لگتا یہی ہے کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل چاہیں گے اگرچہ اس سے ایک مرتبہ پھر علاقے میں ان تمام تینوں محاذوں پر کشیدگی شروع ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد ہوا تھا اور نیتن یاہو نے اس چیلنج سے نمٹنے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو نیتن یاہو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں بقیہ محاذوں پر بھی کامیابی مل گئی اور وہ اپنی فتح کو مکمل کر سکیں تو یہ فاتحانہ تعارف انہیں ہر طرح کے احتساب سے بالاتر کر دے گا۔
تاہم اگر ان کے مخالفین انہیں حکومت سے نکلوانے میں کامیاب ہوگئے تو فوری طور پر ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ علاقے کی صورتحال درمیان میں لٹک کر رہ جائے گی اور اسرائیل کو علاقے کے لیے نئے سرے سے پالیسی بنانے کے لیے نئی قیادت کی ضرورت پڑے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نیتن یاہو کشیدگی کم کرنے کی طرف آجائیں اور دو سال کی کشیدگی ختم ہو جائے۔ مگر یہ طے ہے کہ نیتن یاہو اپنے اقتدار میں رہنے کی صلاحیتوں کی وجہ سے زیادہ مضبوط لیڈر کے طور پر موجود ہیں۔ انہیں اسرائیل میں موجود پیچیدہ پارلیمانی نظام کے اندر رہتے ہوئے اتحاد سازی کا ہنر بھی آتا ہے اور اقتدار کو لمبا کرنے کا طریقہ بھی۔
نیتن یاہو واحد اسرائیلی لیڈر ہیں جنہوں نے اب تک 17 سال تک حکومت کر لی ہے اور وہ آج بھی اقتدار میں موجود ہیں۔ اپنے اس طویل ترین دور حکومت کی وجہ سے وہ بین گوریان سے بھی زیادہ عرصہ اسرائیلی حکمرانی پر فائز رہنے کا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں اور کئی جنگوں کی قیادت کرنے کے بعد بھی وہ اسرائیلی عوام میں مقبول ہیں۔ 1967 میں عربوں کو شکست دینے کے بعد سے مسلسل جنگی فتوحات حاصل کر رہے ہیں۔
ایسے میں لبنان میں تھوڑی بے چینی بڑھ رہی ہے جس کا اظہار صدر جوزف عون نے کیا ہے اور خبردار بھی کیا ہے کہ اسرائیل غزہ سے فارغ ہونے کے بعد ان کے ملک کی طرف دوبارہ رخ موڑ سکتا ہے۔ جوزف عون اس خدشے کو نیتن یاہو کے زیادہ سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کے کسی ممکنہ تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
اس پس منظر میں ایک طرف اسرائیلی ریاست کی غزہ سے نکلنے والی فوج اب اس کے کسی اور مقصد اور محاذ کے لیے کام آنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے اور دوسری طرف لبنان میں حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ کیے گئے اس معاہدے کے تحت ہتھیاروں سے دستبرداری قبول کرنے کی طرف مائل نہیں ہے۔ بلکہ اس کی کوشش ہے کہ وہ لبنانی فوج کو اس کے ہتھیار واپس نہ کرنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کر لے۔
اگرچہ لبنانی حکومت سمجھتی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ 27 نومبر 2024 کو ہونے والی جنگ بندی میں یہ ایک اہم معاملہ تھا۔ اس لیے اس پر عمل ہونا چاہیے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شاید اس موقع پر لبنان کے حوالے سے اسرائیل کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ امریکہ و فرانس دونوں اسرائیل و لبنان کی جنگ بندی میں ضامنوں کے طور پر موجود ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ گیند اب لبنانی صدر کی کورٹ میں ہے۔ جن کی کوشش ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ تصادم سے بچتے ہوئے سماجی و سیاسی سطح پر لبنان میں امن و استحکام کو برقرار رکھ سکیں۔ جیسا کہ انہوں نے پچھلے ایک سال یہ کوشش کی ہے۔
دوسری طرف اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوج کو واپس بلانے پر آمادہ ہے نہ لبنان میں اپنی کارروائیاں اس وقت تک روکنے کو تیار ہے جب تک حزب اللہ اپنے ہتھیاروں سے دستبرداری اختیار نہیں کرتی۔ شاید اس صورتحال میں کچھ نئے بندوبست اور نئی ضمانتوں کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
یمن کے ساتھ بھی اسرائیلی کشیدگی کے بڑھنے یا کم ہونے کا انحصار ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے رویے پر ہے کہ وہ حماس کے بعد کیا سبق سیکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کو قبول کر لیتا ہے یا نہیں۔ بلاشبہ اسرائیل یمن کے ان حوثیوں کی قوت کو کمزور کرنے کے لیے پوری فوجی استعداد رکھتا ہے اور یہ صلاحیت بھی رکھتا ہے کہ صنعاء میں انصار اللہ رجیم کو اٹھا کر پھینک دے۔ ابھی تجدید پانے والا اسرائیلی جوش و جذبہ جو اس کی افواج ظاہر کر رہی ہیں بھی اس نئے فیز میں داخل ہونے کے لیے اپنی تیاری کا اشارہ دے رہی ہیں۔
اسرائیل کے لیے جو سب سے مشکل اور خطرناک محاذ ہو سکتا ہے وہ ایران ہے۔ جس کے علاقائی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔
یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے جنہوں نے ماہ جون میں ایران میں لڑی جانے والی 12 روزہ جنگ کو رکوا دیا تھا۔ اس سے پہلے امریکہ نے خود بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی لیکن اس خطے میں یہ پہلی جنگ تھی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کرایا۔ نیتن یاہو اس وقت بھی اس جنگ بندی سے مطمئن نہ تھے مگر وہ امریکہ کی طرف سے جنگ کو ایران کے خلاف جاری رکھنے کے لیے مزید مثبت اشارے نہ حاصل کر سکے کہ اپنی جنگ کو ایران میں بھی جاری رکھ سکیں۔ لہذا جنگ بندی ہوگئی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے تہران کے خلاف اپنی پوزیشن کا خوب مہارت سے استعمال کیا اور یہ بھی انتباہ کر دیا کہ نیتن یاہو دوبارہ بھی ایران میں یورینئم افزودگی کی صورت میں فوجی کارروائیاں کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی مسلح افواج اس وقت بھی ہائی الرٹ پوزیشن پر ہیں اور نیتن یاہو نے اگر ایران پر حملے کا ارادہ کر لیا تو وہ اپنی ہوشیاری اور سفارتی و جنگی چالاکیوں میں قطعا ایسی کمی نہیں ہونے دیں گے جو ان کو ایران کے خلاف کارروائی سے روکنے والوں کو موقع دیدے۔
کیا خطے کی دو بڑی طاقتوں ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ سے جنگ چھڑنی چاہیے جبکہ اس جنگ کے اثرات علاقے کے دیگر ملکوں کے لیے بھی تباہ کن ہوں گے جو اسرائیل و ایران کے گرد و پیش میں موجود ہیں اور صورتحال کو بڑی پریشانی کے عالم میں دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو ہائی الرٹ پر رکھے ہوئے ہیں۔
لبنان اور ایران میں موجود سیاستدانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد ان کے لیے خطرہ ختم نہیں ہوگیا۔ غزہ کی خونی جنگ دو طرفہ سمجھوتے کے نتیجے میں ختم ہوئی ہے۔ جبکہ غزہ کے علاوہ دیگر محاذوں پر اس طرح کا کوئی بندوبست ابھی تک سامنے نہیں آیا جس پر تمام فریقوں نے اتفاق کیا ہو۔ یہ سارے تنازعے ابھی حل ہونا باقی ہیں۔
غزہ کے لیے بین الاقوامی برادری کی نمایاں توجہ اور مذاکرات کے لیے حمایت کے ساتھ ساتھ یہ دباؤ بھی اہم ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ یہ موقع دیگر تین محاذوں سے متعلق فریقوں کے لیے بہت اچھا ہے کہ وہ اس دوران اپنے ہاں صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کریں اور جہاں ضروری ہو اتفاق رائے کے لیے آگے بڑھیں۔
انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی عارضی جنگ بندی اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہو سکتی کہ جیسے کوئی ٹک ٹک کرنے والا ٹائم بم ہو جو بالآخر پھٹ پڑتا ہے۔