ویڈیو: مسجد نبویﷺ کے صحن میں دیو ہیکل چھتریاں کیسے کام کرتی ہیں؟

250 منفرد چھتریوں کو خودکار نظام کے تحت طلوع آفتاب سے 15 منٹ پہلے کھولا اور غروب آفتاب سے 45 منٹ پہلے بند کر دیا جاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسجد نبویﷺ کے صحنوں میں خودکار نظام کے تحت کام کرنے والی چھتریاں طلوع آفتاب سے لیکر غروب آفتاب تک یہاں نماز اور عبادت کرنے والے زائرین کو سایہ راحت فراہم کرنے کا کام کرتی ہیں۔

’’العربیہ‘‘ کے فلیگ شپ پروگرام ’من الحرمین‘ میں ان دیو ہیکل چھتریوں سے متعلق نمائندہ سلطان السلمی نے اپنی خصوصی ویڈیو رپورٹ میں بتایا ’’کہ مسجد نبوی میں لگائی گئی چھتریوں کے سائے میں 2 لاکھ 30 ہزار افراد نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ چھتریاں نمازیوں کو سورج کی تمازت اور بارش سے بچاتی ہیں۔ چالیس ٹن وزنی ایک چھتری 25 میٹر رقبے پر سایہ فگن رہتی ہے۔‘‘

انجینئرنگ پراجیکٹس کے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری انجینئر عبداللہ المحمدی نے العربیہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ’’مسجد نبوی کے صحن میں 250 چھتریاں لگائی گئی ہیں۔ ان کی اونچائی ایک دوسرے سے متختلف ہے۔ ایک چھتری دوسری سے بلند رکھی گئی ہے۔ نیچے والی چھتری کی بلندی 14 میٹر اور 40 سینٹی میٹر ہے جبکہ اوپر والی چھتری کی بلندی 15 میٹر اور 30 سینٹی میٹر ہے۔ بند حالت میں تمام چھتریوں کی بلندی 120 میٹر اور 70 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق مسجد نبوی کے صحنوں کی چھتریوں نے 140 ہزار مربع میٹر رقبے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ انہیں کھولنے اور بند کرنے کے لیے خود کار نظام کام کرتا ہے ۔

انجینئر عبداللہ المحمدی نے خودکار نظام کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ’’ان چھتریوں کو ایک خودکار نظام کے ذریعے مرکزی کنٹرول سے روم کھولا اور بند کیا جاتا ہے۔ یہ کنٹرول روم مسجد نبوی کے پارکنگ ایریا میں بنایا گیا ہے۔ ان چھتریوں کو طلوع آفتاب سے 15 منٹ پہلے کھولا اور غروب آفتاب سے 45 منٹ پہلے بند کر دیا جاتا ہے۔‘‘

یہ چھتریاں جیومیٹریکل شکل اور ڈیزائن کے اعتبار سے منفرد خصوصیات کی حامل ہیں۔ ہر چھتری کے اوپر آخر میں تاج اور نیزے کی شکل بنی ہوئی ہے۔ یہ شکل تانبے سے بنی ہوتی ہے۔ اس پر سونا بھی ملمع کیا گیا ہے۔ اسی لیے یہ اپنی شاندار چمک سے نمازیوں اور زائرین کی توجہ اپنی مبذول کر لیتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں