کیا شاہ چارلس تخت کو بچاپائیں گے؟

عبدالرحمان الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ملکہ ایلزبتھ کے انتقال کے بعد برطانیہ شاید پھر کبھی ایسا نہ رہے، ان وجوہات کی بنا پرجن کی وجہ صرف بکنگھم پیلس سے منسوب نہیں کی جاسکتی ہیں۔

آج مختلف عوامل کا مجموعہ اس دیرینہ وجود کو خطرے میں ڈال رہا ہے،جسے برطانیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ عوامل بریگزٹ اور دولت مشترکہ کے گھٹتے ہوئے اثرورسوخ سے شروع ہوکر،جو برطانیہ کو اس کی پرانی کالونیوں سے جوڑتا ہے،خاص طور پراسکاٹ لینڈ میں علاحدگی پسندی کے بڑھتے ہوئےمطالبات کے ساتھ ختم نہیں ہوتے ہیں۔

بادشاہت خود برطانیہ میں زندہ اوراچھی حالت میں ہے۔ میری رائے میں چارلس سوم کے تخت نشین ہونے سے بادشاہت کی مقبولیت برقراررہے گی۔ ایک ولی عہد کی حیثیت سے چارلس ہمیشہ عوام کی نظروں میں رہتے تھےاور لوگوں کے قریب رہتے تھے۔بادشاہ کی تخت نشینی اور بادشاہت مخالف مظاہروں کے دوران میں ایک شخص کا احتجاج یہاں اورکوئی خبر نہیں ہے۔اس طرح کے احتجاج کے واقعات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں لیکن وہ کبھی توجہ حاصل کرنے اور مقبولیت پانے یا سیاسی دھاروں میں تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ اپنے چھوٹے حجم کے باوجود بنی نوع انسان کے لیے معروف سب سے بڑی سلطنت تھی۔ چین سے لے کر کیلی فورنیا تک یہ دنیا پر حاوی رہا۔ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی اس کے زیرنگیں آ گئی تھی۔اس کی وجہ اس کے جنگی جہاز،توپیں اور جنگجو دلاورملاح تھے۔ دو صدیوں تک اس نے سائنس اور سرمایہ داری کی دنیا کی قیادت کی۔اپنی توسیع کے ذریعے اس نے تہذیب کو دنیا کے دور درازکونوں ،کھدروں تک پہنچایا اور اپنی کالونیوں کے وسائل استعمال کرتے ہوئے ایک خوش حال ریاست بن گئی۔اس کا ریل نیٹ ورک دنیا بھر میں ساڑھے تین لاکھ کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا جبکہ باقی دنیا میں صرف 30 ہزار کلومیٹر کا مشترکہ نیٹ ورک تھا۔انگریزوں نے اپنی ٹرینوں اور جہازوں پرفوجیوں، گھوڑوں اور سامان کی نقل وحمل کی اور انیسویں صدی میں دنیا پرحکومت کی، باوجود اس کے کہ اس وقت برطانیہ کی آبادی صرف ایک کروڑ 80 لاکھ تھی۔

تاریخی طورپرتمام سلطنتوں کا ایک نوآبادیاتی ماضی تھا: رومی، فارس، عرب، ترک، فرانسیسی، روسی، ڈچ، بیلجیئن، پرتگیزی اور اسپین کے باشندے سب استعمار تھے،بالکل اسی طرح جیسے انگریز تھے۔ غلامی، جنگوں اور سرحدوں کے ساتھ تمام سلطنتوں کا ایک تاریک پہلو ہے جو سامنے آ رہا ہے اور انگریز بھی اس سے مستثنانہیں تھے مگر اس کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ برطانوی سلطنت اپنے ساتھ سائنس، فنون لطیفہ، فن تعمیر، طب، نئی مشینوں اور جدید سیاسی نظاموں کولے کر آئی۔

کچھ لوگ برطانوی سلطنت کی تاریخ کا خلاصہ یوں دو اصطلاحوں میں پیش کرتے ہیں:غلاموں کی تجارت اوراستحصال۔ لیکن یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو تمام بڑی سلطنتوں کے درمیان مشترک ہے۔ انگریزوں نے بھی عربوں اور رومیوں کی طرح نوآبادیوں کواکٹھا کیا اور غلاموں کا کاروبار کیا۔عثمانی ترکوں نے بھی اپنے دور میں یہی کچھ کیا۔یتیم بچوں کو جنگی قیدی بنا کر لایا گیا،انھیں یورپ سے اغوا کیا گیا اوران کی سلطان کے محافظ بننے اور شاہی فوج میں لڑنے کی پرورش وتربیت کی گئی۔انھیں جانیسری (یکیچری) کہا جاتا تھا۔ان سے ترک پیادہ فوج کا ایلیٹ دستہ تشکیل پایاتھا۔فرق یہ ہے کہ برطانیہ اپنے مکاتب فکر اور ذرائع ابلاغ میں سلطنت کے ذریعہ کیے گئے گناہ پر بحث اور تنقید کی اجازت دیتا ہے جبکہ عرب، اہلِ فارس اور ترک صرف اپنی شاندار تاریخ کے روشن پہلوؤں ہی پر فخرکرتے ہیں۔

سلطنتوں کا پرانا دور اب لدچکا اور بڑی فوجوں کے ذریعے دنیا کوفتح کرنے کی روایت کا خاتمہ ہوچکا۔اب اس کام کے لیے سائبرفوجوں اورکثیرالقومی کارپوریشنوں کا راستہ کھل چکا ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی بدصورتی نے مغرب کو یقین دلایا تھا کہ نوآبادیاتی تنازعات ریاستوں اور دنیا کے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔ دونوں جنگوں میں برطانیہ کی فتح نے اس کی سلطنت کے تیزی سے خاتمے اور امریکا اور سوویت یونین کی طاقتوں کے عروج کو نہیں روکا تھا۔

برطانیہ کا ماضی بالکل واضح ہے لیکن اس کا مستقبل غیریقینی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ وکٹورین دور کی طرح زروجواہرات کا حامل نہ ہو اور نہ ہی یہ ایلزبتھ دوم کے دور کی سلطنت کی تمام وراثت کو برقرار رکھے گا۔کیونکہ یہ جغرافیائی طور پرسکڑرہا ہے اور بڑی منڈیوں سے محروم ہواجاتا ہے،اس لیے برطانیہ کی عالمی پوزیشن کو صرف ایک اورسابقہ بڑی سلطنت سے انجام سے دوچار ہونے کا خدشہ ہے،اس کے عالمی منظرنامے سے بے دخل ہونے کا خطرہ ہے،بالکل اس طرح جیسا کہ اسپین کے ساتھ ہوا تھا۔

برطانیہ بریگزٹ کی تلافی کے لیے تیزی سے ہمارے خطے (مشرقِ اوسط) اور اوشیانا کی منڈیوں کا رُخ کرے گا۔جہاں تک چارلس سوم کا تعلق ہے، ان کے تخت نشین ہونے کے باوجود برطانوی حکومت کو اپنے منصوبوں کودنیا کے سامنے مارکیٹ کرنے میں مدد ملے گی۔اس کی وجہ بادشاہ کے دیرینہ اور دور رس روابط ہیں۔ وہ مشرق اوسط کے شاہی خاندانوں کو ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ نیزبہت سی حکومتیں ہنوزلندن کو واشنگٹن پر اثرانداز ہونے کے دروازے اور ثالث کے طور پردیکھتی ہیں کیونکہ وہ سیاست اورتاریخ سے سب سے زیادہ باخبراورآگاہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ تحریر پہلے پان عرب روزنامہ الشرق الاوسط میں شائع ہوئی تھی۔اس کا ترجمہ اب العربیہ اردوپر پیش کیا جارہا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں
  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size