امریکی ریاست لاس ویگاس میں ایک چار سالہ بچے کی لاش ایک شخص کے گھر میں فریزر سے ملی۔ بچے کے حوالے سے اس کی ماں نے پولیس کو آگاہ کیا کہ اسے یرغمال بنایا گیا ہے۔ اس نے یہ پیغام اسٹکر پیرپر لکھ کر اپنی بیٹی کو دیا جس اس نے اپنی استانی تک پہنچایا۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق ان اسمگل شدہ خطوط میں ماں نے لکھا کہ اسے اپنے بیٹے کے حوالے سے خوف تھا۔ کیونکہ اس نے بچے کو کئی ماہ سے نہیں دیکھا تھا۔
بچے کی تلاش
پولیس نے 35 سالہ اغوا کار برینڈن ٹوسلینڈ کے گھر پر چھاپہ مارا اور میسن ڈومنگیوز کی لاش ریفریجریٹر کے اندر سے ایک بیگ میں لپٹی ہوئی ملی۔
پولیس نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ بچے کی لاش کم از کم 10 ہفتوں تک فریج میں پڑی تھی۔
مقتول بچے کی والدہ کی وکیل اسٹیفن اسٹبس نے انکشاف کیا کہ ان کی مؤکل کو مہینوں سے جسمانی اور جذباتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
ماں اپنے شوہر کی موت کے بعد ملزم کو جانتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ تعلقات خراب ہوتے گئے۔
ملزم نے سوشل میڈیا پر اس کے اکاؤنٹس کو کنٹرول کرنے کے علاوہ اس کی گاڑی کی چابیاں اور فون بھی لے لیا۔
فرار کی منصوبہ بندی
وکیل نے انکشاف کیا کہ گھر کو تالے، کھڑکیوں کے الارم، موشن سینسرز، ویڈیو کیمروں اور گیٹس سے مضبوط کیا گیا تھا۔ مکان کی کھڑکیاں ڈھکی ہوئی تھیں۔
اس نے مزید کہا ماں کو ہتھکڑیاں لگائی جاتی تھیں یا اس کی سات سالہ بیٹی سے دور کمرے میں بند کر دیا جاتا تھا۔
لیکن اس کے اذیت ناک سفر کے بعد ماں نے فرار کا ایک منصوبہ بنایا جس میں مختصر اسٹکر پیپروں پر نوٹ لکھنا شامل تھا۔
گذشتہ ہفتےجب اسے اپنی بیٹی کے ساتھ سونے کی اجازت دی گئی، تو اس نے کاغذات دیے، جو بعد میں اسکول اور پولیس کے حوالے کیے گئے۔