عبدالرحمٰن الراشد

عبدالرحمٰن الراشد

فالوڈ

عبدالرحمٰن الراشد عالمی شہرت یافتہ صحافی ہیں۔ وہ لندن سے شائع ہونے والے پان عرب روزنامہ الشرق الاوسط کے ایڈیٹر انچیف اور العربیہ نیوز چینل دبئی کے جنرل مینجر رہ چکے ہیں۔ ان دنوں وہ ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کی مجلس ادارت کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ الشرق الاوسط کے ساتھ کالم نگار کی حیثیت سے ان کی وابستگی برقرار ہے اور وہ اس کے لیے باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔

بھارت اور عرب دنیا میں تعاون کا ایک نیا دور

مرحوم سعودی وزیر اور ادبی شخصیت غازی القصیبی کے علاوہ میرے ایک اور خاص قریبی دوست، بحرین کے سابق وزیر برائے ترقی و صنعت یوسف الشیراوی بھی انتقال کر چکے ہیں۔ الشیراوی ہمیں باور کرایا کرتے تھے کہ......

جدہ اجلاس:یوکرین جنگ کے پُرامن حل کے لیے نیا آغاز 

اختتامِ ہفتہ پر یوکرین کے بحران کے پُرامن حل کی تلاش کے لیے جدہ میں ایک بین الاقوامی اجلاس منعقد ہوا۔ قریباً دو ماہ قبل کوپن ہیگن میں اسی طرح کے امن مذاکرات منعقد ہوئے تھے۔ان میں فرق یہ ہے کہ ڈنمارک......

کیا واگنر کا شام اور سوڈان سے انخلا یقینی ہے؟

روس میں واگنر کی بغاوت غیر یقینی کی فضا کے ساتھ سامنے آئی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ واگنر کے رہنما کھلے عام جنگ کی مذمت کریں گے اور اسے غیر ضروری سمجھیں گے۔ ان کی بغاوت کی جرآت ہر کسی کی توقعات سے......

اسپورٹس کلبوں کا حصول؛سعودی عرب میں شعبہ کھیل کی ترقی کا ثبوت 

سعودی عرب میں شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرتا ہے جب دلچسپ پیش رفتوں کی خبریں نہ آئیں۔ اس ہفتے، کھیل کی خبروں نے سعودی عرب میں کھیلوں کی مارکیٹ کی ترقی کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی کے اعلان کے ساتھ توجہ حاصل......

جدہ سربراہ اجلاس: کیا مصالحت ممکن ہے؟

سعودی عرب نے صرف دس ماہ کے عرصے میں تین بڑے سربراہ اجلاسوں کی میزبانی کی ہے۔ پہلے،جدہ میں سلامتی اور ترقی سربراہ اجلاس منعقد ہواتھا۔اس میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھے رکن ممالک کے علاوہ مصر،......

یمن جنگ سے پیچھاچھڑارہا ہے،سوڈان اس میں کود رہا ہے

ایسا لگتا ہے کہ ہمارا خطہ کسی ابدی جادو یا شیطانی چال کے تحت ہے۔ لیکن حقیقت میں، یہاں کوئی جادویابدنظری نہیں ہے بلکہ صرف بدانتظامی ہے۔گذشتہ چند ہفتوں کے دوران یمن میں حوثی باغی اور قانونی حکومت کے تحت......

سعودی وفد کا صنعاء کا دورہ

قریباً تین ماہ قبل ایران سے حوثیوں کے زیرقبضہ یمن کی بندرگاہ کی طرف جاتے ہوئے پانچ ہزار ہتھیاروں، پندرہ لاکھ گولہ بارود اور سات ہزار میزائل ٹکڑوں سے بھرے ایک بحری جہاز کو روکا گیا تھا اور اسے قبضے میں......

کیا چین 40 سال سے جاری تنازع کا خاتمہ کرسکتا ہے؟

ذراتصورکریں کہ صدرجوبائیڈن کے اوول آفس میں بیٹھے ہیں اور بیجنگ معاہدے سے متعلق غلطاں وپیچاں ہیں۔وہاں موجود ہرشخص اس بات پر متفق ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب چین نے مشرقِ اوسط میں مداخلت کرنے اور خلیج کے......