خلیجی ممالک میں محنت کش پردیسیوں کے مسائل پر دستاویزی فلم تیار

'پیاروں اور وطن سے دور ہونے والوں کی ہمہ نوع مشکلات کا اظہار'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

متحدہ عرب امارات کے سینماؤں میں رواں ماہ کے آخر میں کام کاج اور محنت مزدوری کے لیے آئے غیر ملکی باشندوں کی مشکلات پر مبنی ایک دستاویزی فلم پیش ہونے جا رہی ہے۔ لبنانی پروڈیوسر محمود قعبور کی تیار کردہ اس فلم میں پہلی مرتبہ بالعموم خلیجی ملکوں بالخصوص دبئی میں موجود غیرملکی محنت کشوں کی مشکلات کا باریک بینی سے احاطہ کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پروڈیوسر قعبور کا کہنا ہے کہ "ہم لوگ موسیقی کی دھن میں پردیسیوں کی بند قیام گاہوں میں داخل ہوئے ہیں۔ ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آنکھوں کو خیرا کرنے والی دبئی کی چکا چوند کے اندر ایک اور دنیا بھی آباد ہے۔ یہ پردیسیوں کی دنیا ہے، جس میں غیر ملکی محنت کش رہائش پذیر ہیں۔ دستاویزی فلم "بطل المخیم" [خیمے کا ہیرو] میں غیرملکیوں کے روزمرہ کے معمولات، کام کاج کے دوران انہیں پیش آنے والی مشکلات، وطن اور پیاروں کی ہر پل ستاتی یاد اور میزبان ملک میں مسلسل محنت کا شوق باہر کی دنیا سے الگ ایک کہانی ہے، جسے دستاویزی انداز میں پیش کیا گیا"۔

دستاویزی فلم کی تیاری کے دوران فلم کی ٹیم نے جب غیر ملکی محنت کشوں کی قیام گاہوں کا رخ کیا تو انہیں اپنی دنیا میں مگن اور وطن کی یاد میں محو پایا۔ ہر ایک غیر ملکی اپنے اپنے مخصوص انداز میں اپنے وطن اور پیاروں کو یاد کرتے ہوئے کوئی اونچی آواز میں گنگناتا ہے اور کوئی دھمیے لہجے میں۔ دن بھر کے طویل کام کے بعد شام کو اپنے ٹھکانوں پر واپسی اور اپنے ہم وطن بھائیوں کے ساتھ مل کر ان کی تھکاوٹ کافی کم ہوجاتی ہے۔ اپنے غم غلط کرنے کے لیے وہ دیوانوں کی طرح اپنے وطن کو یاد کرتے اور گانے گنگناتے رہتے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ دوسروں اور اپنا پیٹ پالنے کے لیے غیرملکی محنت کشوں کو سات سمندر پار کن سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔

فلم پروڈیوسر محمود قعبور نے بتایا کہ غیر ملکی تارکین وطن جن میں اکثر ایشیائی اور اردو بولنے والے شامل ہیں میزبان خلیجی ملکوں سے کوئی گلہ شکوہ نہیں رکھتے بلکہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس فلم کے ریلیز ہونے کے بعد ان کی مشکلات کے حل میں حکومتیں ضرور ان کی مدد کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ فلم کی تیاری کا آغاز جون 2013ء کو ہوا۔ اکتوبر2013ء تک متحدہ عرب امارات اور دوسرے خلیجی ملکوں میں مقیم غیرملکی مزدروں کی اقامت گاہوں کے دورے کیے گئے۔ اس دوران "ویسٹرن یونین" اور دبئی کی "الاتصالات" کمپنی کی جانب سے غیر ملکیوں کے ہاسٹلوں میں محافل موسیقی کا بھی انعقاد کیا، جس میں غیرملکیوں نے کھل کراپنے دل کی بھڑاس نکالی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size